انسان اپنے تجربات کا تنفس ہے۔ اُس کی سوچ، اُس کے نظریات، اُس کی تگ و دو، سب کے پیچھے جو قوت کارفرما رہتی ہے، جو اُس کے وجودِ فانی کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے، وہ ’خودی‘، وہ ’قوتِ ارادی‘ اُسے ورثے میں نہیں، حالات سے ملتی ہے۔ جناح اگر آج کے پاکستان میں پیدا ہوتے تو شاید سیاست اور وکالت کی بابت اُن کی رائے مختلف ہوتی۔ اقبال مسلمانانِ ہند اور مغرب کو قریب سے نہ دیکھتے تو شاید اُن کی تحریروں میں قوم کا ایسا درد اور فکر نظر نہ آتے۔
حالات و واقعات ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر قوتِ آہن سے مزیّن ہوتے ہیں۔ یہ قوموں کی نظریاتی تقدیر یکسر بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ مملکتوں کی خارجہ پالیسی کو یک بالشت بدل دینا جانتے ہیں۔ یہ امریکی انقلاب میں انگریز کو انگریز سے آزادی کی جنگ لڑنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ یہ انقلابِ عرب کا موجب بن سکتے ہیں۔ یہ چین کو آخری صف سے اٹھا کر پہلی صف میں لا کھڑا کر سکتے ہیں۔ یہ ٹرمپ کو سپر پاور کا کی صدارت اور انگلستان کو یورپی یونین سے باہر کا راستہ دکھا سکتے ہیں۔اور یہ ایک بظاہر معمولی آدمی کو ہتھیاروں سے لیس جدید ٹینک کے آگے دیوارِ آہن بنا کر کھڑا کر سکتے ہیں۔ عظمت حاصل کرنے والا کوئی شخص نہیں جو اس بات کی تائید نہ کرتا ہو کہ اُس نے اپنے مقام تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی چکی پیسی ہے، پہاڑ وں کو توڑا ہے، زمین و آسمان کو ایک کیا ہے۔ قابلِ غوربات یہ ہے کہ سورج کی روشنی ہر گھر پر برابر برستی ہے، مگر روشن فقط اُسی گھر کو کر پاتی ہے کہ جس کی کھڑکی پر پردہ نہ پڑا ہو۔ حالات و واقعات بھی صرف اُسی انسان کو حضرتِ انسان بناتے ہیں کہ جس کی عقل پر پردہ نہ پڑا ہو اور وہ مشکلات سے ہارنے کے بجائے، اُنہیں اپنی تربیت کا سامان سمجھ کر اُن سے سیکھا کرے۔
تخلیقِ پاکستان دیکھنے والی نسل نے پاکستان کی خوشی ہی نہیں، خوشی سے پہلے کی تکالیف اور غم کو بھی بڑے قریب سے دیکھا۔ اُسی نسل میں ایک سولہ سالہ نوجوان بھی تھا، جسے جناح نہیں جانتے تھے، مگر وہ جناح کو خوب جانتا اور اُن سے محبت کرتا تھا۔ پاکستان اقبال کا وہ خواب تھا کہ جسے یہ نوجوان جاگتی آنکھوں سے دیکھا کرتا اور اِس کی تعبیر کے لیے جو بن پڑتا، کرتا۔ پاکستان بن گیا، اکثریت نے سُکھ کا سانس لیا، مگر اِس نے سانس لینے کے بجائے کمر باندھی اور اپنے آبا کی امارت کے باوجود تعلیم سے خود کو ایسے آراستہ کیا کہ پاکستان نے وہ زمانہ بھی دیکھا کہ جب سیاست میں اِس آدمی جیسا گھاک اور صاحبِ بصیرت کوئی نہیں تھا۔ یہ غریب نہیں تھا، مگر غرباء کی نبز جانتا تھا۔ اِس آدمی کو غرباء کی آواز بننا آتا تھا۔ بولتا تھا، تو لگتا تھا غریب خود بول رہا ہے۔ انگریزوں کے سامنے اِس رعب سے جناح کے بعد اِس آدمی کے علاوہ کسی کو بات کرتے پاکستان نے نہیں دیکھا۔ اِس آدمی کی لفاظی، محنت، سیاست، اور چاشنی کا ہر فرد قائل تھا۔ آپ اِس شخص کے سیاسی نظریات سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اِس بات پر کسی کو کوئی احتمال نہیں کہ اپنے نظریات اور اُصول پر کھڑے رہنے کی جو مثال اِس آدمی نے پیش کی، پاکستان نے اِس سے پہلے اور اِس کے بعد آج تک نہ دیکھی ہے۔
اِس آدمی کو 4اپریل1979 کو اپنے اصولوں پر نرمی اختیار نہ کرنے کے باعث قتل کے ایک مقدمے کے بہانے پھانسی دے دی گئی۔ اِس آدمی کو تاریخ ذولفقار علی بھٹو کے نام سے جانتی ہے۔ کالمِ ھذا بھٹو کو خراجِ تحسین پہنچانے کی سعی نہیں ہے۔ بھٹو کے کردار پر تاریخ کا فیصلہ مقدم ہے۔بھٹو پر پاکستان کے ٹوٹنے کی ذمہ داری کس قدر ہے، اور مغربی پاکستان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا سہرا کس قدر، یہ فیصلہ بھی اِس تحریر کا موضوع نہیں۔ آج صرف امید کی اُس کرن کی یاد دہانی مقصد ہے کہ جسے بھٹو نے جنم دیا اور کرونا وائرس جس میں نئی روح پھونک رہا ہے۔
بھٹو دنیا کے بہترین مقررین کے لیے ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ ہو، یا عوامی جلسہ، بھٹو کا فن سر چڑھ کر بولتا ہے۔ وہ زمانہ جب ٹی وی کی بہتات نہ تھی، لاکھوں کا مجمع لگانا اور تقریر میں اُن سے فی البدیع ہم کلام ہو جانا، اُن کی روحوں کو تسبیح کے دانوں کی طرح ایک دھاگے میں پرو دینا، جذبات کو جدھر چاہنا موڑ دینا، یہ بھٹو کا خاصہ تھا۔ تقریر کرتے کرتے بھٹو نے کہا ملک کو بلندیوں پر لے کے جانا ہے، اور عوام کے بغیر یہ ممکن کہاں تھا، پوچھا، ’خدمت کرو گے؟‘ مجمع یک زبان گویا ہوا، ’کریں گے۔‘ ’محنت کرو گے؟‘، ’کریں گے‘، ’لڑو گے؟‘، ’لڑیں گے۔‘ ، ’مرو گے؟‘، عوام نے یہاں بھی آواز نیلی چھتری تک پہنچا دی، ’مریں گے!‘ جدو جہد کرو گے؟ ایمان سے کرو گے؟ خدا کی قسم کرو گے؟ بھٹو پوچھتے جاتے، عوام بلند تر آواز میں جواب دیتے جاتے، اور یوں محسوس ہوتا کہ عوام اور بھٹو ایک ہی روح رکھتے ہیں (جس کا اظہار خود بھٹو نے بھی کیا)۔
جیالے ہمیشہ اپنے اِس وعدے پر قائم رہے۔ بھٹو پھانسی چڑھ گیا، پر زندہ ہے بھٹو زندہ ہے کا نعرہ مرنے نہ دیا گیا۔’مسٹر10پرسینٹ‘کی سرخی اخباروں میں آگئی، جیالے وعدہ نہ بھولے۔ آیان علی، ناشتوں کے بل، نوکریوں کا بکنا، معیشت کی تبائی، اربوں کے ہیر پھیر، سب کچھ ہوا، مگر عوام اپنا وعدہ نہ بھولے۔ کہا تھا لڑیں گے، لڑتے رہے۔ کہا تھا مریں گے، مرتے رہے۔ کہا تھا خدا کی قسم محنت کریں گے، کرتے رہے۔ جیالے تمام وعدے پورے کرتے رہے اور آئندہ نسلوں کو بھٹو کی چوکھٹ کے گدی نشینوں کی خدمت میں پیش کرتے رہے، اور امید باندے رکھی، کہ جس روٹی کپڑے اور مکان کا وعدہ بھٹو نے کیا تھا، شاید وہ پورا ہو گا۔حیف، تھر میں بے نوالہ جان دیتے گئے، روٹی نہ آئی۔ کبھی کتے کی موت مرے تو کبھی کتے کے کاٹ لینے سے ماؤں کی گود میں دم دیا، پر اپنا وعدہ نہیں بھولے اور بھٹوکے جانے کے بعد بھی بھٹو ازم کو جانے نہیں دیا۔
کرونا آیا تو پورے پاکستان میں کسی حکومتی اکائی نے وہ مستعدی اور کاریگری نہ دکھائی جو سندھ نے دکھائی۔ سندھ نے آگے بڑھ کے معاملہ سنبھالا اور قوم کو یقین دلایا کہ ریاست آپ کے دفاع کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ دن رات ایک کیے اور امید پیدا کی کہ جس بیماری سے امریکہ ہار گیا، سندھ نہیں ہارے گا۔ یوں امید کی کرن دوبارہ زندہ ہو گئی۔ اللہ کرے کہ ہمارے ملک سے کرونا ختم ہو، مگر کرونا کے آنے سے حکومت میں جو عوام کی خدمت کا جذبہ آیا ہے، وہ ختم نہ ہو اور حکومت عوام کی خدمت ہر بیماری، ہر مسئلے میں یوں ہی جاری رہے۔ آمین۔
0

