0

کرونا وائرس کا انٹر ویو‌:‌ اسامہ خالد

ہم انٹر ویو لینے کے لیے کہاں جائیں، اسی سوچ میں گُم تھے کہ ہر گلی، ہر کوچے سے کرونا کا شور سنائی دینے لگا۔ سو زیادہ دور جانے کے بجائے، قریبی محلہ میں ہی ایک گھر میں ملاقات کے لیے چلے گئے۔ میڈیا کے ساتھیوں نے کرونا سے اِس قدر ڈرایا ہوا ہے کہ ہم تو کیا، ہمارے کیمرے اور مائیک بھی پلاسٹک میں لپٹے ہوئے تھے۔ داخل ہوتے ہی عادتًا سلام عرض کرتے کرتے رُک گئے۔ ارے بھائی، اگر کرونا سلامت رہے تو ہم لوگ کہاں جائیں۔ دُور سے ہاتھ کا اشارہ دے کر ہم بیٹھ گئے۔
کروناجی پورے رعب کے ساتھ صوفہ پر براجمان تھے۔ ہم سے پوچھا کچھ لیں گے؟ گھبراہٹ کے مارے ہم نے عرض کی، ’سوالات کے جوابات کے فورًا بعد اجازت لیں گے۔‘ کرونا جی مسکرائے۔ ’آپ جانتے ہیں، ہم کسی سے ملتے نہیں ہیں۔ عاجزی کے ساتھ رہتے ہیں۔ آپ کے بھرپور اصرار پر آپ کو اقبالؔ کے مدّاح ہونے کے پیشِ نظر بُلوا لیا ہے، ورنہ ہمیں اِس قسم کی پبلسٹی پسند نہیں ہے۔پہلے ہی آپ کا ایک دوست ہمارے انٹر ویو کی آڑ میں اپنی ذاتی عناد اور فرقہ وارانہ گند پھیلا چکا ہے۔ امید ہے آپ ایسی حرکت نہیں کریں گے۔‘ کرونا جی نے احسان جتلایا۔’ہم زیادہ وقت نہیں لیں گے، بس مختصر چند سوالات کے جوابات مِل جائیں تو ہماری تھوڑی واہ واہی ہو جائے گی۔‘ ہم نے عرض کی۔
پہلا سوال کیا، ’آپ کا مقصد کیا ہے؟‘
’ہمارا مقصدعین وہی ہے، جو کسی بھی صاحبِ شعور کا ہونا چاہیے۔ ہم زندگی چاہتے ہیں۔ اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی۔‘ کرونا نے تپاک کے ساتھ جواب دیا۔
’مگر آپ کی زندگی کا مطلب تو خلیفہءِ خدا کی موت ہے۔ آپ انسانوں کا قتل چاہتے ہیں؟ کیا کسی قوم کو قتل کر کے اپنی نسل کو دوام بخشنا شعور کی علامت ہے؟‘ ہم نے قدرے پریشانی سے پوچھا۔
کرونا جی نے ٹانگ پر ٹانگ ٹکائی، ایک ساعت کھڑکی سے باہر کا جائزہ لیا، ہماری طرف دیکھے بغیر گویا ہوئے ’آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔ انسان میری وجہ سے نہیں مر رہے ہیں۔ یہ محض آپ کے میڈیا کا پراپیگنڈہ ہے۔ کوئی ایک انسان بھی کرونا کی وجہ سے نہیں مرا ہے۔یہ تمام کی تمام اموات جو آپ متواتر گِن رہے ہیں، یہ لاپروائی اور بیوقوفی کی بنا پر ہوئی ہیں۔ آپ خود بتایئے، اگر دودھ کا برتن کھُلا چھوڑا جائے اور بلّی اُس برتن میں منہ مار دے، تو دودھ کے ضائع ہونے کی ذمہ داری بلّی پر عائد ہو گی یا بے احتیاطی کرنے والے فرد پر؟‘
’مگر بلی اگر نہ ہوتی تو دودھ ضائع ہونے سے بچ جاتا۔ بلی کو اس الزام سے مکمل بری کرنا انصاف تو نہیں ہے۔‘ ہم نے دلیل ردّ کرنے کی کوشش کی۔
کرونا جی نے جواب دیا کہ ’آپ کی بات جس قدر خوبصورت ہے، اُسی قدر غلط بھی ہے۔ آپ دراصل بحیثیت قوم اِس المیے کا شکار ہیں۔ آپ آدم زاد ہمیشہ سے اپنی غلطی کا الزام کسی دوسرے پر ڈالتے آئے ہیں۔ جنت سے نکالے گئے، تو ابلیس کا قصور۔ کشمیر ہاتھ سے گیا، ہندو کا قصور۔ بنگلہ دیش بن گیا، بھارت کا قصور۔ طالبان آ گئے، مارشل لاء کا قصور۔ ہتھیار ڈالے، سیاست دان کا قصور۔ امریکہ ہر بات میں کہتا ہے چائنہ کا قصور اور چائنہکہتا ہے امریکہ کا قصور۔ جب تک آدمیت اپنی غلطیوں کا بوجھ خود اُٹھانے کے قابل نہیں ہو گی، کسی مصیبت سے کیسے لڑے گی؟
مان لیجیے، اموات کرونا سے نہیں، لاپروائی کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔‘
ہم سے رہا نہ گیا، آواز میں جھنجھلاہٹ پیدا ہو گئی اور اعتراض باندھا۔ ’دیکھیے میاں کرونا، ہم ہر جنگ جیتے ہیں۔ آپ کوئی پہلی وباء نہیں ہیں جس سے ہمارا پالا پڑا ہے۔ ہم انسان ہمیشہ سُرخ رُو ہوئے ہیں۔ اور اِس مرتبہ بھی ہم سُرخ رُو ہوں گے۔ اور آپ کو بھی ہرا دیں گے۔‘
کرونا نے قہقہہ لگایا اور کہا ’دیکھو میاں، تمہیں اپنی ہی تاریخ معلوم نہیں ہے۔ تم نے کبھی بھی کسی بھی وباء کے خلاف جنگ نہیں جیتی ہے۔ بلکہ، جب تک جنگ سمجھ کر اس سے لڑتے رہے، مار کھاتے رہے۔ اپنی پسماندہ گوئی پر تکیہ کرتے ہو۔ دیکھو تو سہی، تم ڈاکٹروں کو بھی عزت دینے کے لیے محض سپاہی پکار پاتے ہو۔ مجھے وباء کہتے ہو کیونکہ تمہیں لگتا ہے انسان میری وجہ سے مر رہے ہیں۔ بھلا کبھی یہ گنتی کی ہے کہ جنگ کی وجہ سے کتنی اموات ہوئی ہیں؟ اور انسانوں کی وجہ سے جو باقی زندگی تباہ ہو رہی ہے، اُس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اگر وباء اُسے کہتے ہیں کہ جس کی وجہ سے کسی قسم کی زندگی کا نقصان ہو، تو میاں دنیا کی سب سے بڑی وباء تو تم آدم زاد ہو۔مجھے تم لوگوں میں جینا پسند ہے ہی نہیں۔ میں تو تمہاری اجتماعی روح کو جگانے آیا ہوں۔ جس دن یہ روح جاگ گئی، میں لوٹ جاؤں گا۔ مجھے نہ تو تمہاری دنیا میں کوئی دلچسپی ہے، اور نہ ہی تمہاری زندگی اور موت میں۔ مجھے اپنی ہمیشہ کی زندگی میں دلچسپی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تاریخ میں زندہ رہوں اور تمہاری آئندہ نسلیں میرا شکریہ ادا کریں کہ میری وجہ سے تُم لوگ ہوش میں آئے اور زمین کو آئندہ نسلوں کے رہنے کے قابل چھوڑ کر گئے۔ میاں، جب تک مجھے جنگ میں اپنا مقابل سمجھ کر لڑتے رہو گے، مرتے رہو گے۔ جنگ جیتنے کے جنون کو چھوڑ کر علم و فطرت کی طرف دھیان دو۔ آخری درخت کاٹنے سے پہلے سمجھ جاؤ کہ روپیہ پیسہ کھایا نہیں جا سکتا ہے۔ زمین کے ٹکڑے کے لیے اپنی نسل کے لوگوں کے ٹکڑے مت کرو۔ میں تمہیں مارنے نہیں، جگانے آیا ہوں۔ میری بات سمجھ جاؤ، اِس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔‘
یہ باتیں سننے کے بعد ہم سے شرمندگی کے مارے اجازت بھی طلب نہ ہو پائی اور اپنا سا منہ لے کر وہاں سے چلاے آئے۔ گھر پہنچ کر بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھوئے۔ مگر وہ بیس سیکنڈ ہماری زندگی کے بہت طویل بیس سیکنڈ ثابت ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

3 تبصرے “کرونا وائرس کا انٹر ویو‌:‌ اسامہ خالد

اپنا تبصرہ بھیجیں