0

پسِ آئینہ سامراجی سام : عقیل احمد

ڈیرہ نما ایک چھوٹا سا پُر سکون گاؤں تھا جہاں شائد جدید سہولیات تو نہ ہونے کے برابر تھیں مگر صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ امن و رواداری اور بھائی چارے کی فضا بہرحال قائم تھی۔ کھیتوں میں کام کاج کے بعد ڈھلتی شام میں دن بھر کی تھکن اتارنے کی غرض سے سب جوان گاؤں کے افق پر ایک ندی کنارے بنے چوپال کے ساتھ ایک چھوٹے سے میدان میں والی بال کھیلتے’ بُوڑھے اُنکی ہمت بڑھاتے اور کھیل کے ہر اچھے موڑ پر جوانوں کو خوب داد دیتے’ اور ساتھ میں ہی ایک چھوٹے سے میدان میں بچے جوانوں کا طرز اپنانے کی بھر پور مشق کرتے۔ ندی کی جانب سے آنے والی ٹھنڈی ہوا ہر سُو پھیلے سبزے اور ہریالی کو چُھو کر جہاں جہاں سے گزرتی ایک مسحورکُن خوشبو وہاں کے رہائشیوں کو اپنائیت بھرا احساس دے جاتی۔
پھر شائد گاؤں کو کسی کی نظر لگ گئی یا پھر وہاں کے باسیوں میں سے کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا۔ ایک دن کسی دوردرازکے شہر کے ایک بہت امیر آدمی کا گاؤں سے گزر ہوا۔ وہاں کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ کیا رہنا تھا’ اُس نے وہاں بسیرا ہی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ دیہاتی سادہ لوح لوگ تھے چالباز شہری کی باتوں میں آگئے اور گاؤں کے ایک کونے میں نہ صرف رہنے کو کچھ جگہ دے دی بلکہ اُسکی خوب آؤ بھگت بھی کی۔ گاؤں کی سیر کے دوران ایک دن جب وہ ندی کی طرف جا نکلا تو سب کو ہنسی خوشی اکٹھا بیٹھے دیکھ کر جیسے جل بُھن گیا۔ بچوں نے دیکھا تو اُسکے ارد گرد جمع ہو گئے اور شہری چاچا شہری چاچا کی رٹ لگا دی۔ اُسے یہ لقب کچھ اچھا نہ لگا اور اُس نے سب بچوں کو بولا کہ مجھے انکل کہا کرو۔ بس اُس دن سے وہ گاؤں کے بچوں کا انکل بن گیا۔
انکل کا وہاں دل لگنے لگا اور پھر لالچ میں اُس نے پُورا گاؤں ہی ہتھیا لینے کی منصوبہ بندی کر ڈالی۔ آہستہ آہستہ اُس نے وہاں کے لوگوں کے ساتھ ذاتی دوستیاں پالنا شروع کیں اور گاؤں کے باسیوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرتیں بھرنا شروع کردیں’ بس ایک کی باتیں دوسرے کو اور دوسرے کی غیبت تیسرے سے۔ یوں ایک سلسلہ چل نکلا اور کچھ عرصے بعد وہی چوپال جہاں سب ایک دوسرے کے مسائل سنتے اور انکے حل کی کوشش کرتے’ اب وہاں لوگوں کا آنا جانا کچھ کم ہونے لگا۔ بیساکھی کا میلہ آیا تو مجبوری کے تحت سب نے وقت کے ساتھ سمجوتہ کیا اور میلے میں اکٹھے ہو گئے مگر جہاں ہر سال قہقے گونجتے تھے وہاں سب ایک دوسرے سے کِھچے کِھچے سے لگے اور میلہ جیسے ہی اختتام کی جانب گامزن ہونے لگا اچانک ایک جانب سے شور اُٹھا اور پھر وہ شور خون خرابے میں بدل گیا۔ شام تک سب تھک ہار کر اپنے اپنے کپڑوں پر خون کے دھبے لیے اور ایک دوسرے سے منہ موڑے گھروں کو روانہ ہوگئے۔
گاؤں میں گروہ بندی ہو گئی اور ایک وقت آیا کہ سب اپنا اپنا منہ لے کر رہ گئے۔ انکل کی محنت رنگ لےآئی تھی۔ اُسکی قسمت جاگ اُٹھی۔ فائدے پہ فائدہ اُٹھانے لگا۔ سادہ لوح دیہاتی اُسکے ہاتھوں بے وقوف بنتے گئے۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی خاطر اپنی اپنی فصلیں سستے سے سستے داموں انکل کو بیچ دیتے اور شہری بابو شہر جا کر خوب منافع کماتا اور بدلے میں شہر کی سستی اشیاء گاؤں لا کر انتہائی مہنگے داموں دیہاتیوں کو بیچ دیتا۔ اُسکی تو جیسے پانچوں گھی میں تھیں اور صاحب خوب مزے کر رہے تھے۔ اب انکل گاؤں میں جسے جس سے چاہتا’ لڑا دیتا اور دیہاتی تھے کہ اُسکے آگے ماتھا ٹیکتے تھے۔ آہستہ آہستہ اُس نے جیسے گاؤں پر قبضہ ہی کر لیا۔ گاؤں کا ہر فیصلہ اُسکی پنچائیت میں ہوتا اور اُسکی ہر بات حرفِ آخر قرار پاتی۔ اب انکل ایک قدم آگے بڑھا’ گاؤں کے چوپال کی جگہ ایک قلعہ نما عالی شان گھر تیار کیا’ گھر والوں کو بھی وہیں لے آیا اور رکھوالی کی غرض سے شہر سے پالتو غنڈے لے آیا جن کا جب دل کرتا گاؤں کے کسی بھی گھر میں گُھستے’ عورتوں کی عزتیں نیلام کرتے’ گھر کا سامان اور مال و دولت لُوٹتے اور اگر گھر کا کوئی مرد مزاحمت کرنے کی کوشش کرتا تو جان سے جاتا۔ گاؤں پہ مزید وبال تب آیا جب لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھتے کئی لوگ بھیڑیا صفت انکل کے مرید ہوگئے اور انکل نے شہر کے غنڈوں میں کمی کر کے دیہاتی چھوکروں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ ایک وقت کا خوبصورت گاؤں اب کسی اُجڑی ہوئی ویران بستی کا منظر پیش کرتا نظرآتا تھا جہاں انسان تو بستے تھے مگر انسانیت اور احساس مر گئے تھے۔
ایک دن گاؤں کا ایک شخص پُھولے سانس کے ساتھ بھاگتا ہوا انکل کے پاس اطلاع لے کر آیا کہ اُسکے ہرکاروں نے اُس کے خلاف اُٹھنے والی ایک اور آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا تھا اور حسبِ روایت موردِ الزام کوئی اور ٹھہرا۔ ٹھیکیدار انکل نے بات سُنی ان سُنی کر دی کہ اُس وقت اپنی بیوی کے ساتھ ندی کنارے مچھلی کے شکار میں مگن تھا۔ بیوی نے لاڈ کے انداز میں اُسے “سیم” کے نام سے بلایا۔ پاس کھیلتے گاؤں کے بچوں نے انکل کا نام کیا سُنا’ اُسے اپنی زبان پردُہرانا شروع کر دیا مگر صحیح تلفظ ادا نہ ہوسکنے کے سبب “سیم” کی بجائے “سام انکل’ سام انکل” پکارے جا رہے تھے۔ اور فضا سام انکل کی مکروہ ہنسی سے گونج رہی تھی۔
(ماخوذ۔۔۔)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں