یاران جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی
کشمیر جسے “رگ پاکستان” کہا جاتا ہے اور جو پوری دنیا میں اپنی خوبصورتی کے باعث پوری دنیا میں مشہور ہے یقینا خدا تعالی کی طرف سے اس دنیا کوتحفہ ہے۔
برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد سے سےلے کر اب تک ایک خطہ جو کہ مسئلہ ہے ،وہ ہے “وادئ کشمیر”۔ تقسیم کے وقت وادی کشمیر کے راجہ ہری سنگھ نے اپنی ریاست کا فیصلہ کرنے میں دیر کی جس کی وجہ سے یہ مسئلہ بنا۔ وادی کی اکثریت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور وادی کو پاکستان کا حصہ بننا تھا لیکن یہاں بھی غیر منصفانہ تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی اور کشمیر کسی بھی ملک کا حصہ نہ بن سکا۔
انڈیا نے اپنی سی پوری کوشش کی لیکن تقسیم کے وقت ایسا نہ ہو سکا اور بعد ازاں انڈیا نے زبردستی اور دھوکے سے اس پہ قبضہ کر لیا۔ اسی بات کو لے کر اب تک پاکستان اور انڈیا کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ 1947 میں پاکستان کے الگ ملک بننے کے فورا بعد ہوئی جو کہ یو۔این کی طرف سے جنگ بندی کے فیصلے کے بعد ختم ہوئی۔ اس کے بعد دوسری جنگ 1965 میں ہوئی جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کو کافی مالی نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑا اور بہت سی قیمتی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا اور بالآخر یہ جنگ LOC کے قیام کے نتیجے میں ختم ہوئی۔ تیسری جنگ 1971 میں ہوئی ۔ تینوں جنگوں کی وجہ ہی کشمیر کا خطہ ہے۔
وادئ کشمیر کو دونوں ممالک ہی نہیں کھونا چاہتے اور اس کی سب سے بڑی وجہ وادی کی اہمیت ہے۔ پاکستان میں بہنے والے تقریبا سبھی دریا وادئ کشمیر سے بہتے ہیں۔ انڈیا وادی کو حاصل کر کے مستقبل میں پاکستان کے لئے ان دریاؤں کے بہاؤ کو روک کے مسلئے بنانا چاہتا ہے۔5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے ایک ڈرامائی فیصلہ لیا اور آئین میں سے آرٹیکل 35A اور آرٹیکل 370A کو خارج کر دیا جن کے مطابق کشمیر ایک الگ ریاست ہے اور وہاں کے لوگ آزادانہ وہاں رہ سکتے ہیں۔ اس فیصلے کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے پاکستان نے اپنی طرف سے انصاف دلوانے کی پوری کوشش بھی کی مگر آج دس ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک کشمیر کے حالات میں کوئی خاص فرق نہیں آیا۔ انڈین فوج ابھی بھی کشمیر پہ قبضہ کیے ہوئے ہے اور کشمیر کو بھی دیکھا جائے تو اس بات میں کوئی شک کی گنجائش نہیں رہے گی کہ کشمیر کے حالات پوری دنیا میں سب سے زیادہ خراب ہیں۔ جہاں کرونا کے مریضوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ لوگ گھروں سے باہر تک نہیں نکل سکتے۔ ہسپتال ‘ سکول ‘ مارکیٹیں ‘ ٹیلی فون سروسز غرض ہر طرح کی ضروریات زندگی کی تمام چیزیں ان پہ بند کر دی گئی ہیں اور لوگوں کی زندگی عذاب بنائی ہوئی ہے۔
جیسا کہ اس وقت پوری دنیا COVID-19 کے آؤٹ بریک کےزیر اثر ہے اور ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے لیکن کشمیر کی عوام کے لئے یہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور کٹھن وقت ہے۔ پوری دنیا پہ اگر ایک نظر ڈالی جائے اور پھر کشمیر پہ جہاں صرف ایک وینٹیلیٹر موجود ہےاور مریضوں کی تعداد ہزاروں میں۔ مودی حکومت شاید وہاں کے انسانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتی۔ پہلے اور اب کے حالات میں جو فرق ہے وہ بس ظلم اور شدید ظلم کا ہے۔ اللہ پاک کشمیر کے لوگوں پہ اپنا رحم فرمائے ۔آمین

