قوم ایک ایسی مضبوط زنجیر کا نام ہے، جس میں ہر رنگ و نسل،ہر زبان،ہر پہچان کے لوگ کڑی سے کڑی ملا کر یکجا ہو جاتے ہیں۔ بلا شبہ وہی قومیں کامیابیوں کی منزلیں چھوتی ہیں،جہاں افراد نے اپنی پہچان سے زیادہ قوم کی پہچان کا خیال رکھا ہوتاہے۔
نہ صرف ایسی قومیں کامیابیوںکو اپنا مقدر بنا لیتی ہیں بلکہ تاریخ میں اپنا مقام پیدا کر لیتی ہیں۔ہر قوم پر مشکل کی گھڑی آتی ہے۔ مشکل کی گھڑی بظاہر قوم کو نقصان تو لازمی پہنچاتی ہے۔لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب قوموں کے اندر احساس بڑھ جاتاہے اور ارادے مزید مضبوط ہو جاتے ہیں۔ نتیجےمیں نئی تاریخیں رقم ہو جاتی ہیں۔
اگر موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو ہر طرف کرونا وائرس کی وبا نے دنیا کو لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔یہی مشکل وقت چین کے لئے بھی تھا۔لیکن یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے اس وبا کو مات دےکرسرخرو ہونا تھا۔انہوں نے بحیثیت قوم ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور آج کورونا کی وبا سے کامیابی کے ساتھ لڑنے کے بعد دوسرے ممالک کی مددکر رہے ہیں۔ ان حالات کا موازنہ اگر ملک پاکستان سے کیاجائے تو پاکستان بھی اس مشکل گھڑی سے گزر رہا ہے۔یہی وقت ہے ہمارے لیےبھی ایک قوم بننے کا۔ یہی وہ وقت ہے ہمارے لئے جب قومیں مشکل وقت سے لڑ کر سرخرو ہوتی ہیں۔
ہمیں اس چیز پر خوشی ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا طبقہ موجو د ہے۔ جو ان حالات کا ذمہ داری کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے۔ انہیں ہنگامی صورتحال میں کہا گیا کہ طبی عملے کی ضرورت ہے تو جواب میں لبیک کہا۔ بھوک و افلاس ختم کرنے کے لیے عطیات کی ضرورت پڑی تو بھی لبیک کہا۔ بولا گیا کہ لووں تک کھانا پہنچانا ہے، تو بھی لبیک ہی کہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ لبیک بولنے والاطبقہ کونسا ہے؟ لبیک بولنے والا طبقہ ہماری نوجوان نسل کا ہے۔
جنہیں یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس ملک کی مٹی سے وفا ان کے خون میں شامل ہے۔جنھیں یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ہمارے جینے کامقصد کیا ہے۔جنہیں اس چیز کا اندازہ ہو گیا ہے کہ انسانی جان کی کیا قیمت ہے۔ بحیثیت قوم ہم میں حب الوطنی کا جذبہ بڑھ گیاہے۔ شاید اب اس مشکل گھڑی کا مقابلہ کرنے کے بعد ہم ایک عظیم الشان قوم بن کر اُبھریں گے۔

