0

ہم اللہ کے راستے سے ہٹ گئے ہیں :: تحریر: علی اکبر

ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی قیمتی گھڑی اور نہایت ہی عمدہ سوٹ زیب تن کیا وہ شخص مغرورانہ انداز میں داد سمیٹ رہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات سے ایک چیز عیاں تھی کہ وہ غرور کے اس گہرے دلدل میں مکمل طور پر اتر چکا تھا جہاں دولت کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ عاجزی اور تقوی اختیار کرکے ہی اس دلدل کو پار کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے اکثر اپنے بزرگوں سے سن رکھا ہے اللہ سے دعا کیا کرو کہ کامیابی تو عطا کر مگر عاجزی کے ساتھ ورنہ حال ہمارا بھی ابلیس والا ہی ہونا ہے جس نے صرف غرور میں آکر ایک سجدہ نہیں کیا تھا اور اللہ کی نظر میں وہ مردود ہو گیا۔

ہم اس فانی دنیا کی اس عارضی کامیابی کی طرف لپکتے ہیں کہ جو فرعون کی حکومت کی طرح کبھی بھی سمندر میں غرق ہو سکتی ہے لیکن موسی کے ایمان والے راستے پر نہیں چلتے یہ جانتے ہوئے کہ یہی اصل کامیابی ہے۔

خیر بات کچھ غروررانا انداز کی ہو رہی تھی جو وحدہ لا شریک کو بالکل بھی پسند نہیں اس نے کمرے کے باہر موجود چپڑاسی کو آواز دے کر طلب کیا اور عارضی کامیابی کے عارضی جشن كو منانے کے سب كے لیے مشروب لانے كو كھا. وقت گزرتا گیا اور جشن كی خوشی بهی ماند پڑتی گءی. آدھی رات سے کچھ زیادہ کا وقت وہ اس کے چند دوست ایک ہاتھ میں تاش اور دوسرے میں سگریٹ پکڑے ہوئے جشن کے لمحات کو خوبصورت بنانے میں مشغول تہے کہ خدا کا بلاوا تک نہ سن سکے پوں دھیرے دھیرے موذن اذان دے کر چپ ہوا سب نے اپنے اپنے گھر جانے کا ارادہ کیا اور چل دیے. اس شخص نے اپنی کلائی پر موجود گهڑی پر وقت دیکھا تو خود کو نماز کے لیے تیار کرنا چاہا مگر جسم نے اس کا ساتھ نا دیا اور اسی جگہ سونے کا ارادہ کیا ابھی تو كیا دیكهتا ہے كے سامنے ایك دروازه ہے جس سے ایك شخص اسے اندر آتا دكهاءی دے رها ہے.

اس نے اس شخص کو مخاطب کیا اور کہنے لگا کہ وہ آپ کا سب کچھ چھین کر لے کے جا رہے ہیں کوشش بہت حیران ہوا کہ یہ شخص کون ہے اور کیا کہہ رہا ہے وہ اٹھا اور دروازے کی طرف چل دیا مگر وہ اپنا وزن ہی نہیں سنبھال پا رہا تھا خیر اوکھا سوکھا ہو کر وه دروازے تک پہنچ هی گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک دستہ صف با صف كهڑا ہے جو کالے کپڑوں میں ملبوس ہیں اور ایک ہی جملہ دہرانے جا رہے ہیں کہ دیکھو تمہارے غرور کا جنازه هم كیسے لے کر جا رہے ہیں تمہاری ہی نظروں کے سامنے سے تم نے حقیقت کو جھٹلا کر عارضی کامیابی کو اصل کامیابی کے اوپر فوقیت دی ہے ۔

اس شخص سے اس کا اپنا وزن بھی نہیں برداشت ہو رہا تھا کہ جیسے ساری برائیوں کا بوجھ اس کے کاندھوں پر هو جو لمحہ بہ لمحہ بڑھتا ہی جا رہا تھا او کالے کپڑے والا دستا اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا سب کچھ لے کر چلے گئے مگر وہ اپنے اوپر پڑے بوجھ کی وجہ سے هِل نہیں پا رہا تها شاید ہیں انہی چیزوں کا بوجھ تها کہ جو وہ اکٹھی کرتا رہا تھا۔یہی چیزیں اس کے گلے کا طوق اور پاؤں کی بیڑیاں بند کر اس کو ایسے سمندر میں اتار رہی تھی کہ جس سے وہ چاہ کر باہر نہیں نکل سکتا تھا ابھی یہ سب چل ہی رہا تھا کہ اچانک ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھا اور اسے اوپر کھینچ لیا. ہوش آنے پر اس نے جب اپنے آپ کو زندہ بہت حیران ہوا اور اسی کشمکش کے دوران اس کے کانوں نے تلاوت کلام پاک کی آواز سنی کلام پاک کا كانوں سے اتر کر دل تک جانا تھا کہ وہ شخص هر رکاوٹ کو عبور کرتا ہوا اس آواز کی طرف کھچا چلا جا رہا تھا جب اس آواز والے کے ساتھ میرا آمنا سامنا ہوا تو خود کو اس شخص نے سفید لباس پہنے ہوئے قرآن کا قاری پایا جس نے اس کو صرف ایک ہی نصیحت کی کہ ایک مومن جتنا مرضی گنہگار ہوجائے اس کے اندر کا امام اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اسی لئے عارضی کامیابی کو چھوڑ کر اصل کامیابی کی طرف آو جو کہ آخرت کی تیاری ہے ان سب کے بعد اس کا غائب ہو جانا اس بات کی دلیل تھا كے اللہ اس کو اپنی طرف دوبارہ واپس بلارہا ہے۔

وہ شخص جس ذات سے بہت دور ہو چکا تھا اس ذات نے اسے کبھی نہیں چهوڑا. اس سب معاملے کے بعد جب اس شخص کو ہوش آیا تو وہ اپنی غلطیوں اور برائیوں کے پسینے میں ڈوبا ہوا تھا جب گھبراہٹ اپنے عروج پر تهی تو اس شخص کے لیے اس خواب کا مطلب واضح تها کہ خدا اس شخص کی تلاش میں ہے اور یہ شیطان کا پیروکار بنا ہوا ہے وہ شخص اٹھا اور طہارت کے عمل کو مکمل کیا اور مسجد کی طرف روانہ ہوا صرف اس نیت سے کہ خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو کر گڑ گڑا کر معافی مانگوں گا مگر قسمت کو کچھ اور منظور تها اسی حالت میں اس كی روح قبض كر لی گئی مگر اب جو چهرے پر اطمینان تها اس سے یہ بات واضح تهی کہ اس كی كی”ہوئی توبہ نے ہر غلاضت كو دهو دیا ہے اور وه كامیابی كی راه پر گامزن تها۔

اب ایك سوال ہےکہ جس كا جواب هم نے خود تلاش كرنا ہے كے كیا ہم صراط مسقیم پر ہیں یا نهیں اور ایك درخواست یہ كے الله كے دیے ہوئے مال میں سے بلا تفریق بلا مذهب كی تفریق كے الله كے لیے مدد كریں كیونکہ
وقت كے ایك تماچے كی مار ہے صاحب
تیری امیری كیا اور میری غریبی كیا
اس فانی دنیا كے حسین مگر زہریلے رنگ ہمیں كہیں اپنے مقصد سے غافل نہ كر دیں الله ہم سب كا حامی و ناصر ہو (آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں