0

ہمیں ایسے جج چاہیئں :: تحریر: چودھری عامر

کسی بھی معاشرے کی کامیابی میں انصاف کا بہت اہم کردار ہوتا ھے ہمیشہ وہ معاشرہ ترقی کرتا ھے جو انصاف کرنے میں دوسرے معاشروں سے آگے ہوتا ھے ترقی یافتہ ممالک میں امیر اور غریب کے لئے انصاف کا ایک قانون ہوتا ہے ترقی پذیر ملکوں میں دوہرا انصاف کا قانون بھی ناکامی کی بہت بڑی وجہ بنتا جا رہا ہے کیوں کہ ان ملکوں میں امیر اور غریب کے لیے قانون مختلف ہوتا ہے ۔نا انصافی بھی ملکوں کی ترقی میں رکاوٹ بنتی جارہی ہے اور ترقی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اگر ترقی پذیر ممالک اسی طرح نا انصافی کے معاشرے کو فروغ دیتے رہے تو انکو تباہی اور بربادی سے کوئی نہیں روک سکے گا ۔

کسی بھی معاشرے میں انصاف کرنا جج کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے ۔ایک اچھا اور ایمان دار جج ہی کسی معاشرے میں مضبوط اور پائیدار انصاف کی بنیاد رکھ سکتا ہے ،جج ہی معاشرے کو انصاف والا معاشرہ بنا سکتا ہے لیکن جس ملک میں جج کا قلم بکتا ہو اس معاشرے کو تباہی اور بربادی سے کوئی نہیں بچا سکتا ،ہمارے ملک کا بھی حال اس سے کچھ مختلف نہیں ہے میں سب کی بات نہیں کر رہا ،اچہے اور برے لوگ ہر فیلڈ ،ہر معاشرہ میں ہوتے ہیں ۔انسان کو ہمیشہ مثبت سوچنا چاہئے اور اچہے کی امید رکھنی چاہیے۔

اب پاکستان کے پرانے ججوں کی تاریخ پڑھنے کا موقع ملا تو پتہ چلا کہ پاکستان میں بھی بہت سے ایسے جج گزرے ہیں جنہوں نے انصاف کو بہت زیادہ فروغ دیا تاریخ انکو اچہے الفاظ میں یاد رکھتی ہے ۔انکی زندگی کے کچھ واقعات آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں۔ 15 اگست 1947 کو قائد اعظم کی گورنر جنرل کی حثیت سے حلف برداری کی تقریب تھی ۔اس تقریب میں جسٹس سر عبدالرشید کو بھی مدعو کیا گیا تھا ،جب وہ تقریب میں آے تو دیکھا کہ قائد اعظم گورنر والی کرسی پر بیٹہے تھے انہوں نے قائد کے سیکرٹری کو بلایا اور کہا کہ ابھی قائد اعظم نے حلف نہیں اٹھایا اور انکا اس کرسی پر بیٹھنا پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے ،جب وہ حلف اٹھا لیں گے پھر وہ اس کرسی پر بیٹھنے کے اہل ہوں گے ۔جسٹس صاحب بہادر آدمی تھے جس کو ٹوکنا ہوتا تھا اسکو بغیر خوف کے ٹوک دیتے تھے اور غلطی کرنے والے کو ڈانٹ بھی اسی طرح دیتے تھے ،جسٹس صاحب نے انصاف پسند معاشرے کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ایک دفعہ لیاقت علی خان صاحب نے آپ کو چائے پینے کی دعوت دی ،اپکا جواب بہت شاندار تھا آپ نے پہلے چائے پینے سے معذرت کی اور کہا جس حکومت کے خلاف کیس میری عدالت میں آتے ہوں میں اس حکومت کے وزیر اعظم کے ساتھ چائے نہیں پی سکتا، لوگ جج کی نیت پر شک کرنے لگ جائے گے۔جس معاشرے میں جج کی سوچ اس طرح کی ہو اسکو ترقی کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی یہ میری اپنی رائے ہے۔

جسٹس کا رنیلئس بھی ایک جج تھے ،چیف جسٹس صاحب نے ساری زندگی ہوٹل کے ایک کمرے میں گزار دی ،وہ اصول پرست انسان تھے ایک دفعہ لاہور بار نے ڈنر کا دعوت نامہ بھیجا ،جسٹس صاحب نے پوچھا کون کون آرہا ہے بتایا گیا کہ ایوب خان آرہے ہیں ،آپ نے کہا کے میں کہا بیٹھوں گا بتایا گیا کے صدر صاحب کے ساتھ بیٹہے گے آپ نے آنے سے انکار کر دیا کہ صدر صاحب کے ساتھ بھیٹھنا پڑہے گا ،بعد میں بار نے آپ کو راضی کر لیا آپ نے کہا کے میری کوئی تصویر نہیں بنائے گا کیوں کے وفاق کے کیس میرے پاس آتے ہیں لوگ میری نیت پر شک کریں گے ،عدالتوں سے لوگوں کا یقین ختم ہو جائے گا ،جب لوگ صدر کے ساتھ میری تصویر دیکھیں گے۔

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے انصاف کو اپنی ترجیح بنایا لوگوں کو انصاف دیا ۔آب کے پاکستان کے حالات سب کے سامنے ہیں موازنہ آپ خود کر سکتے ہیں۔ہمیں آب بھی ایسے چیف جسٹس چاہیے جو عوام کو انصاف دیں اور لوگوں میں اپنا اعتماد بحال کریں ،اس ملک کو تنزلی سے ترقی کی طرف لے کر جایئں کیوں کے جس ملک میں انصاف بکنا شرو ع ہو جائے وہ تباہی کی طرف جانا شرو ع ہو جاتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں