0

ہماری بے احتیاطی اور کتنی جانیں کھائے گی؟ :: تحریر: مریم شاہ

کرونا جھوٹ ہے کرو نا جھوٹ پر مبنی ایک کہانی ہے ایسا کچھ نہیں ہے ہم نہیں مانتے کیونکہ ہمارے کسی رشتہ دار کو نہیں ہوا ہمارا کوئی رشتہ دار اس وبا سے مرا نہیں ہم ماسک کیوں پہنے ہم احتیاط کیوں کریں جبکہ یہ ایک سازش کے سوا کچھ نہیں..
مجھے دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں جہالت کی انتہا اتنی بڑھ گئی ہے کہ جب تک ہمارا کوئی رشتہ دار ہمارا کوئی اپنا خونی رشتہ نہیں ملے گا ہم اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ کوئی بیماری ہے جو کسی کی جان بھی لے سکتی ہے.
میں آج جس سے علاقے میں ہو یہ پوری طرح سے سیل ہو چکا ہے کہیں نہ کہیں ہم اس قابل ہوئے ہیں کہ ان کشمیری بہن بھائیوں کا دکھ تھوڑا سمجھ سکے کیونکہ ہم بھی اسی طرح سیل ہیں باہر اآرمی، رینجرز اور پولیس کو دیکھ سکتے ہیں جو وہ لوگ 9 ماہ سے دیکھتے آرہے ہیں اور دلوں میں بھی خوف ہے لیکن خوف مختلف ہے ان کو اپنی جان کا ڈر انڈین آرمی سے ہے اور ہمیں اپنی جان کا ڈر اس کرونا سے ہے.
ہمیں کل ایک دن کا ٹائم دیا گیا کہ ہم وہ تمام چیزیں اپنے گھر میں لے آئے ہیں جن کی ہمیں آگے آنے والے دنوں میں ضرورت پڑے گی لوگ ڈاؤن کے دوران
مارکیٹ تو کچھ اور ہی منظر تھے مجھے لگا جیسے لاک ڈاؤن کا اعلان نہ کیا گیا ہو بلکہ عید کے چاند کا اعلان کردیا گیا ہوں رش کو دیکھ کر اور لوگوں کے ایک بڑے ہجوم دیکھ کر میرا دل بہت خون کے آنسو رویا کہ ہم ایک دوسرے کی جان کے دشمن خود بھی بن چکے ہیں مانا کہ ہمارے ہمیں اپنی ضرورتوں کے لیے مارکیٹ جانا پڑتا لیکن احتیاطی تدابیر اور سوشل ڈینسی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بغیر ماس کے دیکھیں گی اور کرونا سے بچاو کی احتیاط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دیکھا گیا.
ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی اموات واقع ہو چکی ہیں لیکن دل اب بھی ماننے کو تیار نہیں ہے کہ کرو نا جھوٹ ہے یا سچ؟ کون ہے ہم؟ کیسے لوگ ہیں؟ ہم کیسی قوم ہیں؟ ہم ایک قوم ہیں یا ایک دوسرے کی جان کے دشمن؟
نہ جانے کب یہ لاک ڈاؤن ختم ہو گا نہ جانے کب یہ کرونا ختم ہو گا زندگی اور زندگی کے تمام معاملات اپنے معمول پر آئیں گے… خدا را، احتیاط کیجئے اپنے لئے اپنی قوم کے لئے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں