0

ہزارہ کی سیاحت اور مسائل :: تحریر: سیدہ نمرہ بخاری

ہزارہ کو خدا تعالی نے بہت خوبصورت بنایا ہے ۔ خوبصورت پہاڑیاں ، دلکش موسم اور سر سبز و شاداب وادیاں ۔ عید آتے ہی میرے شہر میں ہر طرف رونق اور چہل پہل ہو جاتی ہے ۔ لاکھوں سیاح دوسرے صوبوں سے عید منانے مری اور ناران ، کاغان کی وادیوں کا رخ کرتے ہیں ۔ با و ثوق ذرائعے کے مطابق عید کے دنوں میں سیاخوں کی ایک لاکھ سے زاہد گاڑیاں شہر میں داخل ہوتی ہیں ۔

سیاحت کسی بھی ملک اور علاقے کے وسائل اور آمدنی میں بہت اہم کردار ہوتی ہے ۔ دوسرے صوبوں کے علاوہ باہر ممالک کے سیاح بھی ہر سال بڑی تعداد میں یہاں آتے ہیں ۔ ہزارہ اور اس ملک کے لیے یہ گولڈن پوائنٹ ہے ۔

سیاحت کے حوالے سے حکومت کی عدم توجہ کے باعث کافی تشویشناک صورت حال بھی پائی جاتی ہے۔

مانسہرہ میں سیاحت سے وابسطہ بیس لاکھ لوگ شدید مالی نقصان کا شکار ہیں۔صرف خیبر پختونخواہ میں ڈھائی لاکھ لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

حکومت کو چائیے کہ وہ اس مسئلے کی طرف فوری توجہ دے اور اقدامات کو یقنی بنائے

موجودہ صوبائی حکومت نے اس معاملے کی طرف البتہ کچھ توجہ ضرور دی ہے مگر یہ ناکافی ہے۔ مانسہرہ اور ایبٹ آباد پرامن ، قدیم شہر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں اپنی خوبصورتی اور سیاحت کے حوالے سے بھی منفرد مقام رکھتے ہیں۔

مانسہرہ میں وادی ناران ، کاغان اور شوگران جبکہ ایبٹ آباد میں مری ، ایوبیہ اور نتھیا گلی سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ اور ان مقامات کی طرف کھنچے آتے ہیں۔

شہر کو خوبصورت رکھنا اور اسکو ترقی دینا ضروری ہے مگرسیاحت کو مزید فروغ دینے کے لئے اس سے زیادہ ایک ضروری امر یہاں سڑکوں کے مسائل ، ٹریفک کے مسائل اور یہاں تجاوزات کا خاتمہ اور سڑکوں کی کشادگی ہے۔ جس سے نہ صرف یہاں کے مکین مشکلات سے دوچار ہیں بلکہ یہاں آنے والے سیاح بھی ذہینی کوفت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
یوں سیاحت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

شہر کے پانی ، سڑکوں ، گیس پہ کافی سیاست بھی ہو چکی ہے اور ہوتی رہتی ہے جس نے یہاں کی سیاحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

حکومت اور مقامی قیادت کی زمہ داری ہے کہ مانسہرہ میں پانی ، تجاوزات ۔ سڑکوں کی کشادگی جیسے مسائل کو حل کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں