کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو گا کہ یہ وقت بھی آئے گا۔کہنے کو دنیا ترقی کر رہی ہے۔ سائنسدانوں نے ترقی کے منہ بولے ثبوت دیئے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم مزید بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں۔
بے حسی کا دور رواں دواں ہے جہاں ایک گھر میں انسان موت کے بستر پر ہو تو مدد کے لئے آنے کو پڑوسی اپنی بےعزتی سمجھتا ہے۔ جہاں بیچ سڑک انسان کو گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے اور سامنے کھڑی عوام خاموشی سے فلمیں بناتی ہے اور تماشہ دیکھتی رہتی ہے۔پھر گھروں کو جا کر آرام سے صوفے پر بیٹھ کر لمبے لمبے رقعے انٹرنیٹ نامی بیماری پر چڑھا دینا جنازہ پڑھ لینے کے برابر سمجھتے ہیں۔
یقینا ہم یہ بھول گئے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے ہم سبھی کو ایک نہ ایک دن لوٹ کر جانا ہے- اس دن نہ ظلم رہے گا نا ظالم۔ 2020 کا ماڈرنزم جہاں عورت مارچ جیسے اقدام کو ترقی کہا جاتا ہے۔ جہاں ایکول رائٹس کے نام پر بےحیائی کا بول بالا ہے جبکہ عورت کے اصل حقوق قرآن پاک سے بڑھ کر کر کون بیان کر سکتا ہے۔ ہم مسلمان کس رخ جا رہے ہیں؟
ایک زمانہ تھا جب بڑے بزرگوں کی بات پتھر پر لکیر ہوتی تھی- ان کا حکم ماننا بڑائی کا کام سمجھا جاتا تھا جبکہ آج بزرگوں کے پاس دو چار گھڑی بیٹھنا وقت برباد کرنا سمجھا جاتا ہے۔ ان کی زندگی کے تجربے کو پرانے خیالات کا نام دے کر توجہ نہیں دی جاتی- ہم چاند پر تو پہنچ گئے ہیں مگر ہمارا اخلاق ہمارا ظرف اتنا ہی گر گیا ہے۔ہمارے اندر سے احساس نامی چیز ہی ختم ہوگئی ہے۔ ہم لوگوں کی بےبسی دیکھ کر مدد کے بجائے اپنے فضول خیالات کا اظہار شروع کر دیتے ہیں۔ زبان کی مار سے جیتے جی انسان کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ یہ ہے ہمارا معاشرہ: بےحس بدلحاظ۔
خدارا ہم کس رخ جا رہے ہیں۔ ایک مسلمان بھائی پر دوسرے مسلمان بھائی کا قتل حرام ہے پھر کیوں قتل وغارت کی خبروں سے اخباروں کے صفحے بھرے پڑے ہیں۔ یاد رکھیے کسی قوم کے حالات اس وقت تک نہیں بدل سکتے جب تک وہ اپنے دلوں کے حال کو درست نہ کرے۔ ایک وقت تھا سہولیات نہ تھیں مگر زندگی میں سکون تھا۔جب مٹی کے گھر تھے پر ہیرے جیسی چمکتی زندگی تھی غذا سادہ تھی پر کتنی لذیذ تھی۔ آج گھر شاندار ہیں پر ہر طرف اداسی اور افسردگی چھائی ہوئی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟
کس کو معلوم ہے کہ زندگی کا دیا کب بجھ جائے اور پھر ساتھ لے جانے کو سوائے پچھتاوے کے کچھ اور نہ رہے ۔ آخری گھر امیر کا بھی وہی ہےجو غریب کا ہے پھر غرور کس بات کا ہے؟ وہاں دنیاوی دولت شہرت کچھ کام نہیں آئے گی۔ مت بھولیں قبر کی روشنی کے لئے اچھے اعمال کا ہونا ضروری ہے نہ کہ عمدہ فانوس کا قبر کا چراغ اعمال کے وسیلے سے جلتا ہے۔ وہاں دنیاوی دولت شہرت کچھ فائدہ نہیں دیتی۔ ذرا سوچئے، غور کیجئے کہ آپ زندگی میں کہاں کھڑے ہیں، اخلاقیات کی کس سیڑھی پر ہیں، اپنے دلوں میں روشنی لائیے اس سے پہلے کہ زندگی آپ سے منہ پھیر لے۔
0

