0

کھلاڑی سرپنچ پس پردہ، : تحریر: شمائلہ شاہین

ایک انتہائی خوبصورت گاؤں تھا جہاں کے دیہاتیوں کو تمام ضروریات زندگی کی اشیاء وافر مقدار میں میسر تھیں ۔اس گاؤں کا سرپنچ ہمیشہ بیٹھک لگایا کرتا۔ اس بیٹھک میں نہایت ، دیانت دار ،ہوشیار ، دانا اور عقلمند لوگ موجود تھے ، جو دیہاتیوں کو ایک خوشحال زندگی مہیا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ یہ گاؤں کے مسائل جانتے اور انھیں حل کرنے کی ہر ممکن سعی کرتے۔ گاؤں میں سکول، ہسپتال،اور کارخانے لگائے جانے لگے، عوام کو بجلی جیسی سہولیات مہیا کی جانے لگیں یہاں تک کہ یہ ایک ترقی یافتہ گاؤں بننے لگا ۔
اس گاؤں کے سرپنچ سال میں ایک بار بڑی بیٹھک لگاتے ، جس میں فیصلہ کیا جاتا کہ آئندہ سال گاؤں کے لوگوں کو کون کون سی سہولیات مہیا کی جائیں گی اور گاؤں کی ترقی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق بھی فیصلے کیے جاتے تھے۔ اور یہ تمام تر معلومات پیغامچی کے ذریعے گاؤں کے لوگوں تک پہنچا دی جاتی تھیں ، اس گاؤں کے لوگ اپنے سرپنچ سے بہت خوش تھے۔ ان کی زندگیوں اور گاؤں میں کئی مسائل موجود تھے لیکن اس کے باوجود وہ خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔یہ لوگ پنچائیت اور سرپنچ سے بہت مطمئن تھے۔پنچائیت میں نئے لوگوں کو شامل کرنا اور سرپنچ کا انتخاب گاؤں والوں کی مدد سے کیا جاتا ۔ اس گاؤں میں کچھ غنڈہ صفت اور خود غرض لوگ بھی رہائش پذیر تھے ، جو ایک ایسی ایماندار سرپنچ اور بیٹھک والوں کی موجودگی میں ذاتی مفادات حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ ان لوگوں نے اپنے چہروں پر پارسائی کا غلاف اوڑھ لیا۔ بیٹھک تک رسائی حاصل کرنے کے لیے گاؤں کے سادہ لوح لوگوں کو سہانے خواب دکھانے لگے اور ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ۔یوں عوام کے ہمدرد بن کے بیٹھک میں شامل ہونے لگے۔اور یوں بیٹھک ان خود غرض لوگوں سے بھر گئی ۔
ان خودغرض لوگوں میں سے ایک سرپنچ کے لیے منتخب کر لیا جاتا۔ بیٹھک میں موجود تمام لوگوں کا تعلق مختلف گروہوں سے تھا ۔انھوں نے گاؤں کے لوگوں کو بھی مختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ گاؤں کے لوگوں کی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافہ ہونے لگا۔ گاؤں میں بجلی ناپید ہونے لگی، کارخانے گاؤں کے با اثر افراد کے آگے فروخت کر دیئے جا نے لگے ، شہری بابو سے قرض حاصل کرنے کے لیے گاؤں کی سڑکوں کو بھی گروی رکھوایا جانے لگا۔
یوں بیٹھک کے زیادہ تر افراد اپنے اپنے مفادات کے لیے کام کرنے لگتے ہیں، ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے لگتے ہیں۔ ہر سال بڑی بیٹھک لگتی بلند و بانگ دعوے بھی کیے جاتے گاؤں کے لوگوں کو سہولیات دینے کی خوشخبری بھی سناتے یہ سب سہولیات برائے نام ہی ہوتیں، گاؤں کے حالات مزیدخراب ہونے لگے۔ جب بھی سرپنچ کی تبدیلی کا وقت آتا گاؤں کے لوگ بہت سوچ سمجھ کر سرپنچ کا انتخاب کرتے لیکن ہر آنے والا سرپنچ اپنے مفاد کا کام کرتا ، اب گاؤں والوں کا سرپنچ اور بیٹھک سے اعتبار اٹھنے لگا۔ اسی گاؤں میں کسی کھیل کا ایک ماہر کھلاڑی بھی رہتا ہے جو کہ گاؤں کی اکثریتی آبادی کو ہر دل عزیز ہوتا ہے ۔وہ اپنے کھیل میں اعلی کارکردگی دکھانے کی وجہ سے اپنے سرپنچوں سے گاؤں کا بڑا انعام حاصل کرتا ہے۔اب کھلاڑی گاؤں کا سرپنچ بننے کا خواب دیکھنے لگتا ہےاور سرپنچ کے عہدے پر نظر رکھ لیتا ہے ۔وہ گاؤں کے لوگوں کو بتاتا ہے کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے ان کے سرپنچ اور اسکے ساتھی چور اور بد دیانت ہیں اور وہ اب مزید صادق اور امین کہلوانے کے حقدار نہیں ہیں۔ کھلاڑی گاؤں میں سرپنچ بننے کے لیے گاؤں کے لوگوں کی مدد کرنے لگتا ہےاور فلاحی کاموں میں حصہ لینے لگتا ہے ۔وہ لوگوں کو بتاتا ہے کہ وہ ایک واحد ایسا ماہر کھلاڑی ہے جو زندگی میں کبھی ناکام نہیں ہوا اور کسی کھیل کا کھلاڑی صرف کھیل میں نہیں بلکہ ہر شعبہ میں ماہر ہوتا ہے، اور اس کے اپنے پاس اتنی زیادہ مال و دولت ہے کہ اسے کسی کرپشن کی ضرورت نہیں وہ انھیں تبدیلی کے سہانے خواب دیکھاتا ہےگاؤں کے لوگ اس کی ان باتوں سے متاثر ہو کر اسے گاؤں کا سرپنچ بنانے کا پختہ ارادہ کر لیتے ہیں ۔ کھلاڑی پہلے سرپنچوں کے ساتھیوں کو جو کہ بددیانت اور چور ہوتے ہیں اپنے ساتھ ملانے لگتا ہے ۔آخر کار سرپنچ کو تبدیل کرنے کا وقت آ ہی جاتا ہےگاؤں کی اکثریت کھلاڑی کو اپنا سرپنچ منتخب کر لیتی ہے ۔کھلاڑی سرپنچ بننے کے بعد کرپٹ ساتھیوں کو اونچے عہدوں پر نافذ کر دیتا ہے ۔ جب گاؤں میں بڑی بیٹھک لگانے کا وقت آتا ہے تو سرپنچ بتاتا ہے کہ انکا تمام مال و دولت پُرانے سرپنچ چوری کر کے لے گئے ہیں لہذا اب شہری بابو سے قرض لینا پڑے گا،اور گاؤں کے لوگوں کو صبرو تحمل سے کام لینا ہو گا اور گھبرانا نہیں ۔ اس بڑی بیٹھک میں گاؤں والوں کو کوئی سہولت مہیا نہیں کی جا سکتی ۔ کھلاڑی سرپنچ گاؤں والوں کو بتاتا ہے کہ اسکا گزارہ اتنی کم آمدنی میں ناممکن ہے اب وہ سرپنچ ہے اور سرپنچ کا وظیفہ زیادہ مقرر کیا جانا چاہیے ، سرپنچ کا وظیفہ بڑھا دیا جاتا ہے ۔
گاؤں کے کچھ لوگ اپنا وظیفہ بڑھانے کی درخواست سرپنچ سے کرتے ہیں اور سرپنچ کو گاؤں اور گاؤں کے لوگوں کے حالات بتاتے ہیں ،اس پر سرپنچ گاؤں والوں سے کہتا ہے کہ انکا تمام سرمایہ پرانے سرپنچ چوری کے کے لے گئے لہذا صبر سے کام لیں ۔ گاؤں میں اچانک سے ایک پراسرار بیماری پھیلنے لگتی ہے مجبورا سرپنچ گاؤں کے لوگوں کو کام کرنے سے منع کر دیتا ہے یوں گاؤں کے حالات مزید خراب ہونے لگتے ہیں ، ایک بار پھر سے بڑی بیٹھک لگانے کا وقت آتا ہے اس بار گاؤں والے بہت پُر امید ہوتے ہیں ۔سرپنچ گاؤں والوں کو بتاتا ہے پُر اسرار بیماری کی وجہ سے گاؤں کے مال و دولت میں اضافہ نہیں ہو سکا اس لیے اُسے مجبورا شہری بابو سے قرض لینا پڑا ،لیکن گاؤں کے لوگوں کو ضروریات زندگی کی اشیا سستے داموں مہیا کی جائیں گی گاؤں کے لوگ جو پہلے سے مقروض تھے انھیں مزید قرضے میں دھکیل دیتا ہے، کچھ دن بعد سرپنچ شہر سے پٹرول 165 روپے فی بیرل یعنی 200 لیٹرمنگواتا ہے اور گاؤں والوں کو بتاتا ہے کہ شہر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے لہذا اب گاؤں والوں کو 100روپے کے بجائے125روپے فی لیٹر پیٹرول خریدنا پڑے گا جس پر گاؤں والے پیٹرول کی قیمت میں کمی کی درخواست کرتے ہیں ، سرپنچ انھیں یقین دلاتا ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کر دے گا اگلے روز سرپنچ اعلان کرتا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 25 پیسے کی کمی واقع کر دی ہے، اس پر گاؤں والے سرپنچ کا منہ تکتے رہ جاتے ہیں ۔ کھلاڑی سرپنچ کے کچھ کارندے گاؤں میں خبر پھیلا دیتے ہیں کہ سرپنچ ابھی نا تجربہ کار ہے اور کچھ مفاد پرست ساتھی اسے دھوکا دے رہے ہیں وہ عوام کے ساتھ بہت مخلص ہے ۔ سرپنچ یہ سب باتیں سن کر مسکراتا ہے اور دل میں سوچتا ہے کسی بھی کھیل کا کھلاڑی زندگی کے ہر کام میں ماہر ہوتا ہے۔اب گاؤں کی عوام ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سے وہ نہ تو کھلاڑی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی چھٹکارہ ممکن ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں