0

کووڈ-١٩ کو عالمی وبا قرار :: تحریر: عدیلہ اقبال

عالمی ادارہ صحت نے کووڈ-١٩ کو عالمی وبا قرار دے دیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس وائرس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے ؟ اس کا جواب صرف ایک ہی ہے کہ اگر پوری قوم چین کی طرح ایک ہو جائے تو اس کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔.چین سے آئی اس وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔چین وہ ملک ہے جس نے ستر سال میں پہلی بار ایسی خطرناک صورتحال کا سامنا کیا ہے۔ بلکہ اس پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے اور اتنا ہی نہیں ، اب دوسرے ممالک میں جا کر ان کی مدد کر کے آج بھی اپنا آپ منوا رہا ہے۔چین کی اس کامیابی کا کریڈٹ حکومت کو تو جاتا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ پوری چین کی قوم کو بھی جاتا ہے جس نے ایسے حالات میں ایک ہو کر اس خطرناک وبا کا سامنا کیا ہے ۔حکومت کی طرف سے لگنے والی پابندیوں کو اپنے لیے بہتری سمجھ کر عمل کرنے والی اس قوم نے ایک بار پھر سے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ دوسری جانب اگر پاکستان پر نظر ڈالی جائے تو حکومتی اقدامات سے اطمینان بھی ہے اور نہیں بھی۔
اس وبا پر قابو ایک ہی صورت میں پایا جا سکتا ہے کہ اگر پاکستانی قوم بھی حکومت کا ساتھ دے ۔مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ساتھ دینا تو دور کی بات ہے جب پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اوراسکول کالجز یونیورسٹیز بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تو کورونا زندہ آباد کا نعرہ لگانے والے کوئی اور نہیں بلکہ پڑھے لکھےان پڑھ تھے ۔سوشل میڈیا پر مچنے والی ہلچل میں چھٹیاں کتنی ہیں کس کس کو ہیں اور طرح طرح کے میمز بنا کر اپنی چھٹیوں کاجشن منانا ہے، بس یہی بازگشت ہر سُو سنائی دیتی تھی۔
جب یہ وائرس سامنے آیا تب پی ایس ایل کی تیاریاں زورو شور سے کی جا رہی تھیں۔جب پوری دنیا
اس وبا سے لڑرہی تھی تب ہماری قوم کرکٹ کے پیچھےپاگل ہورہی تھی۔بارہ کھلاڑیوں کی کرکٹ اور کرکٹ کے شیدائی، سب ایک جگہ اکھٹے ہورہے تھے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔160سے زائد ممالک کو اس وائرس نے بہت بری طرح متاثر کیا ہے ۔ ہزاروں کی تعداد میں روزانہ اموات ہو رہی ہیں اور ہر لمحہ کورونا کےنئے کیسز سامنے آرہے ہیں ۔
ہماری خوشقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کا نام ان ملکوں کی فہرست میں آتا ہے جس میں وائرس نے کم شدت سے حملہ کیا ہے۔ایسے میں کچھ لوگ ذخیرہ اندوزی کر کے مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں ۔اس وبا کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی معیشت بری طرح سے متاثر ہوئی ہے ۔ ایسے میں دفعه ١٤٤ لگنے کی وجہ سے شادی ہالز،سرکاری دفاتر کا بند ہونا پاکستان کے لیے کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے۔
ابھی بھی وقت ہے کہ بحیثیت قوم اگر ہم حکومت پاکستان کا ساتھ دیں تو اس وبا کو شکست دینا بہت ہی آسان ہو جائے گا۔ہمیں چاہیے کہ احتیاطی تدابیر کریں۔ رش والی جگہ ،اور دوسروں سے ہاتھ ملانے سے گریز کریں۔اور اس کے ساتھ ساتھ الله پر پختہ اعتمادرکھیں۔ کیونکہ احتیاط ، ذمےدارانہ رویہ اور ذات پاک پر اعتماد سے ہی اس وبا سے محفوظ ہوا جا سکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں