جب سے پاکستانی میڈیا پر ڈرامہ ارطغرل غازی پیش کیا گیا تب سے سوشل میڈیا پر کلچر پر بچث جاری ہے،کچھ سال پہلے پاکستانی میڈیا پر بھارتی ڈرامے دیکھائے جاتے تھے اس وقت کسی کوکلچر کی فکرنہ ہوئی ۔ بعض لوگ تشویش کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ ترک ڈرامہ ارطغرل غازی پاکستانی کلچر پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے، لوگوں کے خیال میں کلچر اور مذہب کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ، کوئی بھی مذہب کلچر پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ کلچر کی تبدیلی کی دو بڑی وجوہات میں زبان اور مذہب شامل ہے۔ کسی دوسری زبان میں مہارت حاصل کرنے کے بعد انسان کی سوچ میں بھی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔ جس ملک کی زبان پر عبور حاصل کرتا ہے آہستہ آہستہ اسی ملک کے کلچر کو اپنانے لگتا ہے ۔ اس پر کچھ لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ پاکستان کا اصل کلچر 5000 سال پرانا موہنجد اڑو اور ہڑپہ کا ہے جسے اپنایا جانا چاہیے۔
کلچرمیں ، زبان ،لباس ،طرز رہین سہن شامل ہے۔ہر بچہ بچپن سے وہی کلچراپنا لیتاہے،جواسے والدین اور رشتہ داروں سےملاہوتاہے۔ کلچراورمذہب کاآپس میں بہت گہراتعلق ہے،کلچرمذہب کا ایک حصہ توہوسکتاہے لیکن مذہب کبھی بھی کلچر کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ مذہب بدلنے کےساتھ کلچربھی بدل جاتا ہے۔کلچروقت کے ساتھ بدلتارہتاہےکبھی مذہب بدلنے کے ساتھ تو کبھی ملکی مفاد کےلیے، کبھی جنگ وجدل تو کبھی موسمی تبدیلیاں اسے بدلنے میں اہم کرداراداکرتی ہیں ۔ مثال کے طور پراگرکوئی ہندواپنا مذہب بدل کر کسی اور مذہب کو اپنا لیتاہے،تونئے مذہب کے حساب سے اپنا رہین سہن تبدیل کر لے گاوہ سبزی خور سے گوشت خور بن جائیگا۔ کسی بھی ملک کا کلچر وہی ہوگا جو وہاں بسنے والی اکثریت کامذہب ہو گا۔لیکن مذہب کو نہ تو ملکی مفادکے لیے بدلاجاسکتاہے،اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی لائی جا سکتی ہےتاریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بسنے والی کئی اقوام نے ملکی مفادات کے لیے اپنا کلچر تبدیل کیا۔ان ممالک میں امریکہ کینیڈا،جرمنی،ترکی اور کئی مغربی ممالک شامل ہیں ۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران کئی یورپی ممالک نے اپنی ڈوبتی معشیت اور ملک کو بچانے کے لیے اپنا کلچرتبدیل کیا، ان یورپی ممالک نے لباس کو تبدیل کیا۔
اسی طرح بدلتے وقت وحالات کے ساتھ کئی ممالک نے اپنی زبانیں تبدیل کرلیں۔عبرانی،سریانی اور سنسکرت وغیرہ کی جگہ نئی زبانوں نے لے لی،اسکی وجہ بدلتے وقت و حالات اور ملکی مفادات تھے۔برصغیرکی پرانی زبان سنسکرت تھی۔ مسلمانوں کا غلبہ چھاتے ہی سنسکرت کی جگہ عربی ،اردو،اور فارسی نےسنبھال لی جب انگریزوں نے متحدہ برصغیر پر قبضہ کیا توعربی اورفارسی کی جگہ انگلش زبان رائج کر دی گئی۔ متحدہ برصغیر پاک وہندکی تقسیم کے بعد دونوں ممالک نے اپنی اپنی قومی زبان کا اعلان کیا ان کا مقصد قومی اتحاد اور ملکی مفاد تھا۔مذہب اور کلچر دونوں ہی متحدہ برصغیر کی تقسیم کا موجب بنے،دو بڑی قومیں مسلمان اور ہندو صدیوں سے اکٹھے بسنے کے باوجود ،دونوں کاکلچر جدا،جداتھا،اسکی بڑی وجہ مذہب تھا۔
مذہب مختلف صوبوں یا ریاستوں میں بسنے والوں کوجوڑتا ہے جبکہ کلچر میں ایسانہیں ہوتا۔کلچروقت کے ساتھ بدلتارہتا ہے لیکن مذہب میں ایسا نہیں ہوتا۔ طول وعرض میں پھیلی کئی ریاستوں نے ملکی مفاد کی خاطر اپنا کلچر تبدل کیا،کبھی زبان کو تبدیل کیا تو کیاگیا تو کبھی لباس کو اور کبھی طرزرہین سہن کو لیکن کیا کبھی کسی نے سنا کہ ریاست نے ملکی مفاد کے لیے مذہب تبدیل کیاہو؟ کلچر وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے،لیکن مذہب میں ایسا نہیں ہےمذہب میں عبادت و ریاضت اور زندگی گزارنے کے اصول سکھائے جاتے ہیں۔ مذہب میں زندگی گزارنے کے جو اصول سکھائے جاتے ہیں ان میں کسی حد تک تبدیلی لائی جا سکتی،لیکن تبدیلی لاتے وقت مذہبی اصولوں کو مدنظر رکھا جاتاہے۔ یہودیت ، عسائیت ،ہندومت ہو یا اسلام سبھی مذاہب نے زندگی گزارنے کے کچھ اصول سکھائے ہیں جس میں کھانے پینے کی چیزوں میں حلال حرام کی تمیز سکھائی جاتی ہے لباس اور طرز رہن سہن کے کچھ اصول بتائے جاتے ہیں اور یہ ہی کلچر کہلاتا ہے، یوں کہا جا سکتا ہے کہ مذہب کلچر کوتبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ دنیا میں بسنے والی کچھ اقوام ایسی ہیں جنکا کلچر مذہب سے جدا ہے، ایسا اس لیے ہے کہ یہ اقوام مذہب کو مانتی تو ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتیں ۔ کسی بھی ملک کے کلچر کو مذہب یا زبان کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے، میڈیا پر پیش کیے جانے والے پروگرامز اس وقت تک کسی ملک کے کلچر پر اثر انداز نہیں ہو سکتی جب تک اس ملک کے باشندے کسی دوسرے ملک کی زبان سے متاثر ہو کر اُسے اپنا نہ لیں ۔زبان کی تبدیلی لباس کو بھی تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
0

