آجکل میں جب دنیا کے حالات کو دیکهتا ہوں تو میرے ذہن میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیاوجہ ہوئی کہ وہ لوگ جو ستاروں پہ کمنڈیں ڈال رہے تهے وہ لوگ جو مریخ پر بستیاں بسانے جا رہے تهے وہ لوگ جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے خواب کو عملی جامہ پہنانے جا رہے تهے کیوں وہ لوگ گهروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں؟ کیوں ان کی زندگی کا متواتر چلنے والا پہیا رک گیا ہے ؟کیوں اونچی اونچی باتیں کرنے والے خاموش ہو کر رہ گئے ہیں؟
اگر میں کرونا وباء سے پہلے کے حالات و واقعات پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجهے وہ وجوہات معلوم ہوتی ہیں کہ جن کی بنا پر آج پوری دنیا کی طاقتیں مجبور و بے بس ہو گئی ہیں۔اگر ہم دیکهیں کہ ابهی تک کرونا سے سب سے زیادہ تباہی کہاں ہوئی ہے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ وہ امریکہ ہے۔ جی ہاں۔ بظاہر سپر پاور امریکہ جہاں کے تخت نشین پوری دنیا کو اپنی تونگری کے طعنے دیتے ہیں۔وہ امریکہ جو ہمیشہ سے پوری دنیا پر اپنی دهاک بٹهانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ وہ امریکہ جو بلاشبہ مشینوں کے دور میں اپنی ایک ممتاز پہچان رکهتا ہے ۔ آج وہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے تو اس کی وجہ میرے خیال سے امریکہ کا غرور ہے ۔
یہ وہی غرور ہے جس نے نمرود کو ایک مچهر سے ہلاک کروایا تها ۔یہ وہی غرور ہے جس نے فرعون کو سمندر میں غرق کروایا تها۔ ہاں وہی غرور جس نے ابلیس کو شیطان بنایا تها۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بهی کسی قوم نے خدا کے احکامات کی نافرمانی کی اور مغرور پن کو اپنا شیوہ بنایا تو اس قوم کی ایک نشانی تک دنیا کے نقشے پر نہیں رہی۔
کرونا سے قبل امریکہ اور ایران کے درمیان کافی کشیدگی تهی اور اس وقت بین الاقوامی میڈیا پر ٹرمپ کے بیان خصوصی طور پر نشر کیے جاتے میں جب ان کے بیانات سنتا تو مجهے ان کے ایک ایک لفظ سے مغرور پن کا پانی ٹپکتا ہوا دکهائی دیتا۔ وہ امریکہ جو کہہ رہا تها کہ ہمارے پاس دنیا کی بہترین طبعی سہولیات ہیں اس وائرس سے بے بس و لاچار ہو چکا ہے ۔سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مر رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ غرور ہے۔
مجهے تو حیرانی ہوتی ہے کہ ایک خاکی جسم کس بات پر اترا سکتا ہے؟ اس کا تو اپنے جسم کے خلیوں پر بهی اختیار نہیں۔ اگر خلیے مناسب طریقے سے نہیں بڑهتے تو انسان کے لیے تو جینا دوبهر ہو جاتا ہے۔مولانا رومؒ کا بہت ہی خوبصورت قول ہے کہ”اگر تم دن کی طرح روشن ہونا چاہتے ہو تو اپنی رات جیسی ہستی کو مٹاڈالو۔”
ہم اپنی محدود صلاحیتوں پر کیسے اترا سکتے ہیں؟ اگر ہم اپنی محدود صلاحیتوں ہر اترائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی لامحدود صلاحیتیں ہماری ہستی کونست و نابود کر ڈالیں گی۔کرونا وائرس کی تصویر کا ایک رُخ یہ بهی ہے کہ دنیا میں جو متوسط اور کمزور طبقے پر ظلم ڈهائے جا رہے تهے، جو بے گناہوں کے خون بہائے جا رہے تهے، یقیناً ان کی آہوں سسکیوں اور فریادوں سے عرش بهی کانپا ہو گا ۔اور جب بھی اعمال بگڑتے ہیں اور خدا کی مخلوق کو پاؤں تلے روندا جاتا ہے تو تباہی اور عذاب تو دنیا پر ضرور نازل ہوتے ہیں۔
ہر چیز اپنے عروج پر جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ یہی فطرت کی حقیقت ہے ۔یہ وباء بهی انشاءاللہ جلد یا بدیر ضرور ختم ہو گی۔ مگر اگر اس وباء سے ہم عاجزی اور انکساری نہیں سیکھتے ہیں تو ہم جیسا بد قسمت کوئی نہیں ہو گا اس جہاں میں۔اللہ قادرمطلق کی ذات کے آگے خود کو مٹا دینا ہی سب کچھ ہے۔خود کو گرد و غبار سمجهنا ہی عقل مندی ہے ۔وگرنہ خدا کی ذات جو صرف کُن کہنے سے پوری کائنات تخلیق کر سکتی ہے اس نے بہت سے غرور کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنایا ہے۔
اور خدا کو صرف مسجدوں مندروں اور گرجا گروں میں ہی نہیں ڈهونڈو بلکہ دلوں میں بهی ڈهونڈو۔اور اگر آپ کی وجہ سے نا حق کسی کی دل آزاری ہوتی ہے تو یقیناً آپ کو اِس جہان میں بهی اور اُس جہان میں بهی اللہ قادرمطلق کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا۔
یہ بیماری تو بڑی بیماری نہیں یہ معمولی سی بیماری ہے۔سب سے بڑی بیماری یہ ہے کہ ہمارے ایمان بیمار ہیں۔
0


اللہ آپ کو مزید بلندیوں سے سرشار کرے آمین