0

کرونا اور خواتین کے مسائل : تحریر: مصباح امتیاز

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پوری دنیا میں بہت سارے مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔اس موضوع پر نت نئے مضامین اخبارات کی زینت بن رہے ہیں۔ مگر کرونا کی وجہ سے گھریلو خواتین کس قدر پُر خطر دوراہے پر پہنچ گئی ہیں، اس کا ادراک کم ہی لوگوں کو ہے۔بالخصوس مائیں اِس وقت شدید خطرات میں گھِر چکی ہیں۔
اعدادوشمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں صحت سے متعلقہ خواتین عملہ کی تعداد96,000 کے قریب ہے۔ اوریہ خواتین متعدد نجی اسپتالوں اور سرکاری شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور بیمار ہونے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے بعد، صحت کی نگہداشت کے نظام اور طبی عملے پر بوجھ میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، اور اِس طبی عملے میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ کیونکہ ڈاکٹر کے علاوہ نرسوں کی صورت میں کثیر تعداد خواتین کی ہے۔حالیہ اطلاعات کے مطابق، پاکستان میں تصدیق شدہ 12723کرونا مریضہیں اور 269 افراد جان بحق ہو چکے ہیں۔ اِن اعدادو شمارکی وجہ سے طبی عملے کے کام پریشانی کی نئی لہرپیدا ہو گئی ہے۔ جیسے جیسے وبا بڑھتی جارہی ہے، ان پر دباؤ بڑھتا جاتا ہے، اور ڈاکٹروں اور نرسوں کو اکثر انفیکشن سے خاطرخواہ حفاظت کے بغیر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اِس کے علاوہ کرونا کی وجہ سے معاشی عدم استحکام زبان زدِ عام ہے۔مگر ایک تلخ حقیقت یہ ہے مزدوری کرنے جانے والے افراد کی پریشانی ایک طرف، بیوہ یا تلاق شدہ ماؤں کا کوئی مداوا نہیں ہے۔اب عورت کو ماں اورباپ دونوں کا کردار نبھانا پڑ رہا ہے۔ایسی ماؤں کے لیے لاک ڈاؤن ایک ناقابلِ برداشت قیامتِ صغرہ ہے۔ بہت سی خواتین خصوصًا ایسی مائیں جوتنِ تنہا اپنے بچوں کو پال رہی ہیں اُنکی روز مرہ کی زندگی شدید تر متاثر ہو رہی ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال کرنا اور اخراجات پر پابندی لگانا آسان نہیں ہے، خاص طور پر جب زریعہئ معاش بھی معدوم ہو جائے۔
پاکستان، چین، اٹلی، جرمنی، برازیل، آسٹریلیا اور فرانس جیسے ممالک سے مارچ 2020 کے بعد سے لاک ڈاؤن کے دوران عورتوں پر ہونے والے تشدد کی اطلاعات آئیہیں۔ یورپ اور فرانس میں پہلے ہی گھریلو تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، نوعمروں سے لے کر 75 سال کی عمر تک کے قریب 219,000 خواتین کو جسمانی یا جنسی طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے لیکن صرف 20 فیصد واقعات کی اطلاع قانون نافذ کرنے والوں تک پہنچ پائی ہے۔
گھریلو تشدد میں اضافے کی اطلاعات بہت سے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ پاکستان میں بھی سامنے آئیہیں۔ وبائی مرض سے معیشت متاثر ہورہی ہے اور لوگوں کو قرنطینہ میں بھیجا جا رہاہے۔ گھر کی تنہائی نے ان خواتین کی صورتحال خراب کردی ہے جو اپنے شوہر سے بدسلوکی برداشت کرتی آئی ہیں۔
یہ لاک ڈاؤن در حقیقت خواتین پر تشدد کرنے والوں کے لیے زریعہ استحصال بن گیا ہے اور وہ اپنی جابرانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے اسے راستے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم خواتین پر تشدد کے واقعات میں ہم نے پوری دنیا میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا ہے۔
لاک ڈاؤن میں تناؤ اور اضطراب بڑھ رہا ہے جو کہ زیادہ تشدد کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عام حالات میں میں بھی خواتین اور لڑکیوں پر تشدد ایک بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن لاک ڈاؤن میں یہ تشدد دماغی صحت کے امور کے ساتھ ساتھ ، بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے. یہ عوامل اضطراب اور افسردگی اور خودکشی کے خیالات کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان کی بیشتر خواتین جسمانی زیادتی اور تشدد کی وجہ سے خودکشی کی کوشش کرتی آرہی ہیں۔ لاک ڈاؤن اس وائرس سے لوگوں کی زندگیوں کی حفاظت کے لئے کارآمد ثابت ہو رها ہے لیکن یہ ان خواتین کی زندگیوں کو خطرے میں بھی ڈال رہا ہے جو کے اپنے گھر والوں کے تشدد کا نشانہ بنتی آرہی ہیں۔


تحریر: مصباح امتیاز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں