0

چائلڈ لیبر :: صبین راشد

بچے جو کسی بھی ملک کا مستقبل، سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں وہ بچے کام کرنے کے لئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جن بچوں کی عمر پڑھنے لکھنے ، کھیلنےکو دنے کی ہے ان معصوم بچوں سے مشقت کا کام لیاجاتا ہے۔ اُ ن کے کندھےاپنے خاندان کی کفالت کا بوجھ اُٹھانے لگتے ہیں۔ اسکول جانے کی عمر میں یہ بچے اپنے مستقبل سے لاعلم ہیں۔
پاکستان دنیاکا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں چائلڈ لیبر سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر کی بنیادی وجہ غربت ہے۔ پاکستان لیبر فورس سروے کے مطابق 2014-2015کے اعداد و شمار کے مطابق 10سال کی عمر کے بچے چائلڈ لیبر میں شامل ہیں۔ جس میں سے 61فیصد لڑکے اور باقی لڑکیاں ہیں۔ ان اعدادو شمار کے مطابق اس میں سے 88فیصد بچے دیہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح 12.5ملین بچے چائلڈ لیبر سے منسلک ہیں۔
12جون چائلڈ لیبر کے خلاف منایا جانے والا دن ہے جب بچوں سے سخت مشقت کروانے کے خلاف ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔ لیکن اس دن کے گزرتے ہی بے ضمیر لوگ معصوم بچوں سے کام لیتے نظر آتے ہیں۔ سڑکوں پر بھکاریوں کی بھرما ر نظر آتی ہے جن کے پیچھے مختلف مافیا سرگرم ہیں۔ جومعصوم بچوں سے بھیک منگواتے ہیں اور ایک بڑی رقم روزانہ کی بنیاد پر جمع کرتے ہیں۔
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے بے شمار بچے دیکھتے ہیں جو گھروں میں بچے سنبھالتے، اینٹوں کے بھٹوں پر تپتی دھوپ میں کام کرتے، اپنے قد سے بڑی جھاڑو سنبھالتے ، کپڑے دھوتے ، برتن مانجھتے ، ویلڈنگ کا کام کرتے ، قالین بنتے نظر آتے ہیں۔ ان سب سخت کاموں کے باوجود خوشیوں سے محروم ہیں۔ اس کی ایک مثال اقبال مسیح ہے۔ اقبال مسیح1983 میں مرید کے میں پیدا ہوا جب 4سال کا ہوا تواس کے والدین نے ایک کارپٹ فیکٹری کے مالک سے 600روپے قرض لیا ۔ فیکٹری کے مالک نے قرض کے بدلے اقبال مسیح کو مانگ لیا اور کہا یہ بچہ فیکٹری میں کام کرے اور قرض چکائے ۔ اقبال مسیح 4سال کی عمر سے فیکٹری میں کام پر لگ گیا ۔ فیکٹری میں اور بھی بچے کام کرتے تھے۔ جن پر فیکٹری کا مالک ظلم کرتا بچوں کو زنجیروں سے باندھ کر رکھتا ۔ اقبال مسیح فیکٹر ی سے فرار ہوا اور ایک تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور بچوں کی جبری مشقت کے خلاف آواز اُٹھائی جو اس کی پہچان بن گئی ۔ چائلڈ لیبر کےحامی ظالم لوگوں نے اقبال مسیح کو قتل کر دیا۔
چائلڈ لیبر ایکٹ کے باوجود یہ سلسلہ نہ رک سکا ۔ آج تک کسی بھی حکومت نے ٹھوس بنیادوں پر کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی جس سے چائلڈ لیبر کو روکا جاسکے۔ معاشرے کے کسی اور طبقے کی طرف سے بھی اس جانب کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ پاکستان میں چائلڈ لیبر ایک سماجی ضرورت بن چکی ہے۔ غربت کی وجہ سے بچوں کوابتداہی سے کام پر لگا دیتے ہیں تاکہ گھر کا چولہا جلتا رہے ۔ چائلڈ لیبر کے خاتمے کےلئے حکومتی سطح پر اقدامات کرنے چاہئیں ۔ اس کے علاوہ معاشرے کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچا ہیے۔ این جی اوز کو بھی چائلڈ لیبر اور اس کے اسباب کے خاتمے کےلئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے ۔
نواز شریف کے پہلے دور حکومت میں بیت المال کا محکمہ قائم کیا گیا تھا۔ بیت المال کے تحت ایک مہم چلائی گئی تھی کہ جو والدین غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو اسکول میں نہیں بھیج سکتے وہ اپنے بچوں کا نام بیت المال میں در ج کروادیں تاکہ ان کی تعلیم کا بندوبست کیاجاسکے۔ بیت المال کے تحت ان بچوں کو ماہانہ معقول وظیفہ اور کھانا دیاجاتا تھا۔ اور ان کے والدین کو معاوضہ بھی ملتا تھا ۔ والدین کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے بچوں کو پابندی سے اسکول بھیجیں۔ اگر وہ ایسانہیں کریں گے تو ان کو سز ا دی جائے گی۔ اس اقدام سے ملک میں چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی ہوئی ۔ لیکن پھر اچانک نواز شریف کی حکومت چلی گئی اور یہ بیت المال کا نظریہ ختم ہوگیا۔
چائلڈ لیبر کے خاتمے کےلئے گھر کے بالغ افراد کو ایسا روزگار فراہم کرنا ضروری ہے جس کی آمدنی سے گھر کے اخراجات پورے ہوسکیں ۔ جب باپ کی آمدنی سے یا باپ کی بے روزگاری سے گھر کا گزر بسر نہیں ہوتا تو باپ اپنے بچوں کو خود چائلڈ لیبر کی طرف دھکا دینے پر مجبور ہوجاتا ہے اور اس مسئلے میں پھنسے بچے یہ نہیں جانتے کہ ان کا مستقبل کیا ہے۔
ملک میں بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات اور دن بدن مہنگائی میں اضافے کے پیش نظر خدشہ ہے کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائے گاا س سلسلے میں حکومتی سطح پر اقدامات کرنا ضروری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں