0

پرائمری لیول ڈراپ آؤٹ :: تحریر :: بلال شبیر

کسی بھی عمارت کی مضبوطی اور پائیداری کا اندازہ اس میں استعمال ہونے والے مواد اور اس کے بنیادی ڈھانچے سے لگایا جا سکتا ہے
اگر مواد اور بنیادیں کمزور ہو گئیں تو وہ عمارت یا کوئی بھی چیز ہو زیادہ دیر تک چل نہیں سکے گی
اسی طرح پرائمری ہمارے تعلیمی نظام میں بنیادی ڈھانچے کا کردار سرانجام دیتا ہے
تعلیمی نظام پر بہت بار بات ہوچکی لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ ملک بھر میں گورنمنٹ سکولز میں میٹرک تک تعلیم مفت ہونے کے باوجود جہاں بہت سے بچے پرائمری کی تعلیم حاصل نہیں کرتے وہاں دوسری طرف پرائمری کی تعلیم میں داخلہ لینے کے باوجود تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں اور ڈراپ آؤٹ کی اصلاح زیادہ تر ان بچوں کے لئے استعمال کی جاتی ہے
جو موت کے علاوہ کسی دوسری وجہ سے سکول چھوڑ دیں یو این آئی سی ایف نے 1980 میں اس کی کچھ اس طرح تعریف کی کہ وہ بچے جو کسی کلاس میں ان رول ہوں مگر وہ اپنا تعلیمی سال مکمل کیے بغیر سکول جانا چھوڑ دیں وہ بچے ڈراپ آؤٹ کے زمرے میں آتے ہیں
ڈراپ آؤٹ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی ابتدا ہوتی تو پرائمری سے ہے مگر یہ اعلی سطح تعلیم کا متاثر بھی کسی طور کم نہیں
یہ جہاں ملک میں ناخواندگی کی شرح بڑھانے میں اضافہ کرتا ہے وہاں دوسری طرف سماجی اور معاشی اور سیاسی نشونما کے راستے میں بھی بڑی رکاوٹ ہے کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے پرائمری تعلیم بہت اہم کردار ادا کرتی ہے
پرائمری تعلیم سے بچوں کی ذہنی جسمانی جذباتی نشوونما ہوتی ہے 2018کی یو ایم آئی ایس او کی تعلیمی جائزوں پر مشتمل رپورٹ کے مطابق 2017 میں 262 ملین بچے اور یوتھ تعلیمی سال مکمل کیے بغیر ہی تعلیم کو خیرباد کہہ گئے پاکستان چونکہ ایک ترقی پذیر ملک ہے اس لیے یہاں وسائل کی کمی کی وجہ سے ناخواندگی کی شرح زیادہ ہے حکومت کے بڑا ایکشن اور سہولیات فراہم کرنے کے باوجود بھی نہیں جا سکا
حکومت پاکستان اور دوسری بہت سی این جی اوز خواندگی کی شرح کو بڑھانے کے لیے سرگرم عمل ہے مگر اس کے باوجود دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے
2010 سے 2011 میں ڈراپ آؤٹ ریٹ ساٹھ فیصد رہا جبکہ 2008 سے 2009 میں پچاس فیصد رہا اس کی شرح دیہاتوں کی نسبت شہروں میں زیادہ پائی گئی اور لڑکیوں کی نسبت لڑکوں نے پرائمری کی تعلیم کو مکمل کیے بغیر درمیان میں ہی چھوڑ دیا. 2018 کی یو این آئی سی سی او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نائجیریا کے بعد دنیا کے دوسرے نمبر پر آتا ہے جہاں طلباء تعلیم مکمل کیے بغیر اس کو چھوڑ دیتے ہیں
2017 میں این آئی ایم آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق 2013 سے 2017 تک ڈراپ آوٹ کے ریٹ میں کافی کمی آئی
2013_ 25.02m
2014-15 _ 24.02m
2016-17 _ 22.6m
2018 _ 22.84m

ڈراپ آؤٹ کی وجوہات سے تعلیمی اداروں سے منسلک نہیں بلکہ اس کا تعلق سماجی معاشی مسائل سے بھی ہے
2019 کے سروے ڈرافٹ بچوں کے انٹرویو سے کچھ وجوہات سامنے آئی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں
محنت برائے بچگان
بڑا خاندان
جنسی برابری
استاد اور طلبہ کا تعلق
غیر تعلیم یافتہ والدین
جلدی شادیاں
تدریسی مواد
جسمانی سزا اور
سکول مینجمنٹ
یہ سکول میں پائے جانے والے وہ مسائل ہیں جس کا سامنا سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے طلباء کو زیادہ تر کرنا پڑتا ہے ان مسائل کے موضوع سے آپ ان کی تفصیل کا اندازہ لگا سکتے ہیں حکومت اور بہت سے کالم نگاروں رپورٹ قومی مسائل واضح تو کئے گئے ہیں مگر اب ضرورت اس چیز کی ہے کہ وزیر تعلیم کی توجہ اس کے حل کی طرف مبذول کروائی جائےدنیا بھر میں ڈراپ آؤٹ پر قابو پانے کے لیے بہت سے سٹیڈیز بنائی گئی ہیں ان میں سے کچھ اپنے ملک کے حالات کے مطابق آپ کے سامنے پیش کروں گا
سکول کے اوقات میں نرمی
فیل ہونے کی تصور کو ختم کیا جائے
ٹیچنگ لرننگ کے معیار کو بہتر کیا جائے
طلبہ کی مالی امداد کی جائے
معاشی سماجی حوصلہ افزائی کی جائے
ابتداء میں ہی طلبہ کے مسائل کو حل کیا جائے
اب موجودہ سال میں سکولوں کے حالات کچھ خاص بہتر نہیں اور ہائی سطح پر حالات اس سے بھی بدتر ہے حکومت کو چاہیے کہ مہربانی کرکے تعلیم اور تعلیمی اداروں کو بہتر کیا جائے حکومت وقت سے کچھ یہ ہے کہ آپ سے ملکی حالات و باتوں کو کنٹرول میں نہیں آ سکتے لیکن تعلیمی حالات پر کنٹرول اور بہتر کرنا آپ کے ہاتھوں میں ہے بس اس کے لیے کچھ محنت اور لائحہ عمل کی ضرورت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں