قائداعظم یونیورسٹی میں جب داخلے کے لیے اپلائی کرتے ہیں تو اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ کی فیس کے ساتھ ایک فارم پر کر کے بھجنا پڑھتا ہے۔ پھر ایک مقررہ تاریخ پر آپ کا انٹری ٹسٹ ہوتا ہے ۔اگر آپ اس ٹسٹ کو پاس کر جاہین تو انٹرویو کے لیے بلایا جاتا اور پھر ان سب کی بنیاد پر آپ کو داخلہ مل جاتا ہے۔
اب فیس ادا کرنے کے لیے آپ کو اپنے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ جانا پڑھتا ہے۔ وہاں سے آپ کو وہ فارم جس کو آپ نے اپلائی کرنے کے لیے ارسال کیا ہوتا ہے، واپس دے دیا جاتا اور ساتھ ہی آپ کو اب ایڈمن بلاک جا کر تین نئے فارم لینے پڑھتے ہین ۔ان تینوں فارم پر ایک ہی طرح کی انفارمیشن مانگی ہوتی فرق صرف رنگ ( red, pink and yellow) کا ہوتا ہے !!
میں نے یہ فارم “ایم ایس سی” میں بھی فل کیے تھے اور ابھی ایم فل کے لیے بھی۔ مگر میں نے دونوں بار اس میں لکھی کچھ چیزوں کو پریکٹکلی فضول پایا جیسے
والد کا پیشہ؟
طالبعلم کی ماہانہ تنخواہ؟
شادی شدہ یا غیر شادی شدہ؟
گھر کی ماہوار آمدنی وغیرہ وغیرہ
کیونکہ ایک ہی دن میں تین فارم فل کرنے کے ساتھ ساتھ اٹیسٹڈ ڈاکومنت لگانا کافی تکلیف دے کام ہوتا۔ اس لیے وقت بچانے کے لیے میں نے دونوں بار یہ معلومات فل نہ کی تھیں پر جب فارم عامر(Head Clerk in Chemistry Dpt QAU) کو جمع کرنے کے لیے پیش کیا تو اس نے واپس کر دیا اور کہا!
یہ خالی جگہ بھی پر کرو؟
میں نے دونوں بار حیرانی کے عالم میں کہا!
عامر بھائی یہ اگر فل نہ بھی ہوہی تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
مجھے دونوں دفعہ ایک ہی جواب ملا !
بس یہ فارملٹی ہے باقی نہ تو ان کی بنیاد پر اڈمیشن دیا جاتا اور نہ ہی کوئی سکالرشپ ۔۔۔
مجھے دونوں دفعہ جواب سن کر پاکستان میں ہونے والے الیکشن یاد آجاتے تھے۔
جہاں ووٹ تو ہر شہری کس گنا جاتا پر انتخاب پہلے سے ہو چکا ہوتا۔ اگر الیکشن کے دوران سلیکشن میں کمی رہ بھی گئی ہو تو کچھ عرصے بعد سلیکٹڈ بندے عوام کے منتخب نمائندوں کو گھر بھیج کر خود محفل کی رونق بن جاتے۔۔
“ووٹ کو عزت دو”

