0

وقت کی پابندی :: تحریر: قاسم یوسفزئی

آج کے دور میں وقت کی پابندی انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ وقت کی پابندی کا مطلب ہے کہ ھر کام کو مقررہ وقت پر سر انجام دیا جاۓ، جو لوگ وقت کی قدرو قیمت جانتے ہیں، وہ اپنی زندگی کا لمحہ بھی ضائع نہیں جانے دیتے۔ گزرے ہوۓ وقت کا افسوس کرنا، اور جو فارغ وقت میسر ہو اس سے فائدہ حاصل نہ کرنا پرلے درجے کی نادانی ہے۔ جو لوگ وقت کی پابندی کرتے ہیں،وہ دنیا میں کامیاب وکامران ہوتے ہیں۔ وقت ایک بیش بہا دولت ہے، وقت ایک ایسی نعمت ہے جس کا کوٸی نعم البدل نھیں۔ دنیا کا مال وزر محنت سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ علاج معالجہ اور عمدہ حوراک سے کھوٸی ہوٸی صحت دوبارہ مل سکتی ہے، کاروبار میں نقصان اٹھانا پڑ جاۓ تو اس کی تلافی بھی ممکن ہوسکتی ہے، لیکن جو وقت ایک بار گزر گیا، وہ کمان سے نکلے ہوۓ تیر اور منہ سے نکلی ہوٸی بات کی طرح کسی قیمت پر واپس نہیں لایا جاسکتا۔ ایک مشہور مثل ہے ۔ ”گیا وقت پھر ہاتھ آتا نھیں ہے“
وقت کی پابندی ایک سنہری اصول کی حیثیت رکھتی ہے، اس اصول پر کاربند رہنے والے لوگ زندگی کے ہر میدان میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر ہم عور کریں تو پورا کاٸنات کا تمام نظام وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔دن رات اپنے وقت پر آتے جاتے ہیں، موسم اپنے مقررہ وقت پر تبدیل ہوتے ہیں، سورج اپنے مقررہ وقت پر طلوع اور عروب ہوتا ہے، فطرت کے ان عناصر میں کبھی کوٸی بےقاعدگی دیکھنے میں نھیں آۓ۔ ہمارا مذہب دین اسلام نے بھی ہمیں وقت کی پابندی کا احساس دلایا ہے، اور مسلمان کو پانچ وقت کی نماز ، ماہ رمضان میں روزہ کی سحری اور افطاری، نیز حج وعیرہ تمام دینی فراٸض وقت کی پابندی کا پیعام دیتے ہیں۔ کامیاب زندگی بسر کرنے کےلیۓ وقت کی پابندی نہایت اہم اور ضروری ہے۔ دراصل یہ ترقی کا زینہ اور کامیابی کا ایک سنہری گر ہے، وہی ملازم اپنے مالک کو حوش کرسکتا ہے جو وقت مقررہ پر کام کرے، جو ملازم وقت مقرر پر دفتر حاضر نہیں ہوتا وہ ملازمت سے برطرف کردیا جاتا ہے۔ اگر کوٸی مسافر گاڑی کے وقت مقررہ کا حیال نہ رکھیں تو وہ منزل مقصود تک نھیں پہنچ سکتا۔ وقت دریا کا بہاٶ ہے کہ گزرتا ہی چلاگیا اسے واپس جانے کا راستہ ہی بھول جاتا ہے۔ وقت نہ کبھی واپس آیا نہ آۓ گا۔ ہر شحص کو اپنے مقصد میں کامیابی کےلیۓ وقت کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ جو وقت کا ساتھ نھیں دیتا، اسے کامیابی نہیں مل سکتی اور اس کے پاس سوائے پچھتادیں کے اور کچھ باقی نھیں رہتا۔ ہمارے کام وقت کے محتاج ہیں، اگر ہم وقت پر کام نہ کریں تو یقيناّ ھمیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔ قدرت نے ہمیں وقت کی پابندی کے واضح اشارے دیٸے ہیں جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ حداۓ بزرگ وبرترنے سورج،چاند،ستاروں اور موسموں کو وقت کا پابند کیا ہے ۔ سورج اپنے مقررہ وقت پر صبح ہی صبح نکلتا اور دنیا کو منور کرتا ہوا اپنے سفر پر رواں دواں رہتا ہے۔ اسی طرح چاند بھی وقت پر اپنا کلوہ دکھاتا ہے اور پھر وقت کے حساب سے بڑھتا بڑھتا آحرکار ایک جگمگاتا ہوا ماہ کامل بن جاتا ہے ۔ یہ سب قدرت کی طرف سے ہمارے لیۓ اشارے ہیں کہ وقت پابندی کس قدر ضروری ہے، اور یہ کہ وقت کی پابندی کی وجہ پر انسان کس قدر ترقی اور عروج حاصل کرسکتا ہے۔ وقت کی پابندی کس قدر ضروری ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر قدرت وقت پر اپنے تمام امور سر انجام نہ دیں تو پوری کاٸنات کا نظام درہم برہم ہوکر رہ جاتے، موسم وقت پر نہ اٸیں تو باعوں کے پھل کیسے پک سکیں گے اور کھیتوں میں اناج کیسے پیدا ہوسکے گا، سبزیاں کیسے اگیے گی، دریاوں میں پانی کہاں سے اٹھے گا۔ ذرا عور کریں وقت کس قدر اہم چیز ہے ۔ سردی کے موسم کی فصلیں سردی کی محتاج ہیں اور گرمی کے موسم کی فصلیں گرمی کی حاجت مند ہیں۔ رات اور دن بھی وقت کی پابندی کے ساتھ آتے جاتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وقت کی پابندی کے بعیر روزمرہ کی زندگی کا کوٸی کام بھی ٹھیک طرح سے انجام نہیں دیا جاسکتا۔ اگر ہم کہیں سفر پر جانا چاہتے ہیں تو بھی وقت کی پابندی لازمی ہے۔ ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز اپنے وقت پر روانہ ہوتے ہیں۔ مقررہ وقت سے چند سیکنڈ کی دیر ہوجاۓ تو ہم اپنی منزل تک نہ پہنچ سکیں گے۔ اسی طرح سے ہم نے صبح کی نماز طلوع آفتاب سے پہلے ادا کرنا ہوتی ہے۔ اگر سورج نکل آیا تو صبح کی نماز کا وقت گزگیا، اسی طرح سے باقی نمازیں بھی وقت پر ادا کرنا لازمی ہے۔ اپ دین و دنیا کا کوٸی کام دیکھ لیں۔ اس میں وقت کی پابندی لازمی ہے، کالج وقت پر جانا ہوتا ہے۔ اگر ذرا سی بھی دیر ہوجاۓ تو یقينی طور پر ٹیچر کی جھڑکیاں سننی پڑتی ہیں۔ ہوسکتا ہے اس وقت میرے ساتھی کالم پڑھ رہے ہیں، ان میں سے کچھ وقت کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے اپنے ٹیچر سے پٹ بھی چکے ہوں۔ لہذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وقت کی پابندی نہ کرنا ذلت کا باعث بھی بنتا ہے۔ اور وقت کی پابندی عزت میں اضافہ کا باعث ہے وقت کی پابند زندگی کے ہر شعبے میں لازمی ہے۔ دنیا کا کوٸی شحص حواہ کسی بھی پیشے سے تعلق رکھتے ہو، جب تک وقت کا پابند نہیں ہوا کامیابی اس سے دور رہے گی۔ کسان کو دیکھ لیں اگر وہ صحیح وقت پر فصل کےلیۓ زمین تیار نہیں کرتا اور وقت پر زمین میں بیج نھیں ڈالتا تو وہ اپنی زرحیز کھیت سے دانہ گندم کا بھی حاصل نھیں کرسکتا ۔ ہم طالب علم ہیں اور میرے حیال میں ایک طالب علم کےلیۓ وقت کی پابندی جس قدر ضروری ہے۔ شاید کسی اور کےلیۓ اتنی ضروری نہیں ہے جو طالب علم اپنے مقررہ وقت پر صبح سویرے اٹھتا ہے۔ وقت پر کالج یونيورسٹی جاتا ہے ۔ ہوم ورک باعدگی سے کرتا ہے ۔ اس کے کھانے، سونے اور کھیل کےلیۓ اوقات مقرر ہیں ۔ وہ جسمانی طور پر صحت مند رہتا ہے اور تعلیمی میدان میں بھی دوسروں سے آگۓ نکل جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو طالب علم وقت کی پابندی سے آزاد رہتے ہیں وہ دنیا میں بالکل ترقی نھیں کرسکتے ۔لہذا دنیاوی واحروی زندگی کو کامیاب بنانے کےلیۓ لازمی ہے کہ ہم سب وقت کی پابندی کریں ۔ اگر ہم وقت کی پابندی کریں گےتو یقیناَ اپنے ملک وقوم کا نام دنیا میں روشن کردیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں