وقت دریا کا بہاؤ ہے کہ گزرا اور گذرتا ہی گیا ۔جیسے واپس آنے کا رستہ ہی بھول گیا ہو۔وقت نہ کبھی واپس آیا ہے اور نہ ہی کبھی آئے گا۔
وقت پیش بہا دولت ہے. جو وقت کی قدروقیمت نہیں جانتا وہ گھاٹے میں ہے. وقت, جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گزر رہا ہے, اس سیلِ رواں کے آگے کوئی بند نہیں باندھا جاسکتا اور نہ ہی کوئی اس کو تھام سکتا ہے۔ نہ جانے ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو بہت سے ضروری کام سرانجام دینے میں دیر کر دیتے ہیں اورپھر کاش کا لفظ ان کی زبان سے ہٹتا ہی نہیں۔
اگر سوچا جائے تو گزرے ہوئے ْ کلٗ کا لفظ بہت معمولی سا لگتا ہے لیکن اس’ کل’ میں نہ جانے کتنے لمحے ایسے گزر جاتے ہیں جو اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ گھڑی کی سوئی کبھی نہیں رکتی۔ جو وقت سے فائدہ اٹھا لیتا ہے وقت اس کے کام آ جاتا ہے اور جو وقت کی قدر نہیں کرتا وقت ا سے کوسوں پیچھے چھوڑ کر آگے نکل جاتا ہے۔
وقت ایک عظیم دولت ہے۔ وہی شخص دنیا میں عزت کماتا ہے جو وقت کی قدروقیمت جانتا ہے۔ نظامِ کائنات بھی ہمیں وقت کی پابندی کا حکم دیتا ہے۔موسم اپنے وقت میں بدلتے ہیں، سورج وقت پر طلوع ہوتا ہے اور پھر وقت ہی پر غروب ہوتا ہے۔ طالب علم اگر وقت پر سکول نہ جائے تو وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اگر کسان فصل اگر وقت پر نہ بوئے ، وقت پر پانی نہ دے، وقت پر نہ کاٹے تو کبھی کچھ حاصل نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالی بھی ہمیں پابندی وقت کا حکم دیتا ہے۔ نماز ہمیں وقت کی پابندی کا درس دیتی ہے۔ وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا جس کی رعایا وقت کی قدر نہیں کرتی۔
اگر کوئی شخص چاہتا ہے کہ کامیابی اس کے قدم چومے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ محنت کے ساتھ وقت کی قدر بھی کرے۔ بعض اوقات زندگی کا سفر بہت کھٹن ہوجاتا ہے۔ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا فرض سا بن جاتا ہے۔ ایسے میں وقت کی سوئی کو مدنظر رکھ کے زندگی کے مختلف سفر کو طے کرنا ہمیں مختلف مصیبتوں سے بچاتا ہے۔کامیابی کی ٹرین کا بھی ایک وقت ہوتا ہے پس اگر انسان وقت پر سٹیشن پہنچ جائے تو کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔ اور اگر اسٹیشن پہنچنے میں ذرا سی بھی دیر ہو جائے تو وہی ٹرین نکل جاتی ہے جس کے بعد انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی پچھتاتا ہے- ایک انسان کے دل میں بہت سے خیالات ہوتے ہیں، بہت خواب ہوتے ہیں لیکن ان خوابوں کی تکمیل کا ایک وقت ہوتا ہے جو گزر جائے تو وہ خواب ہمیشہ کے لیے حسرت میں بدل جاتے ہیں۔
گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا لہٰذا سوچیے اور وقت کی قدر و قیمت جانیے کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے اور پھر پچھتاوا زندگی بھر کے لئے آپ کا مقدر بن جائے۔
0

