0

وبائی امراض اور ہماری حالت ::‌تحریر: عتیق اللہ آباسندھی (شانگلہ)

آج کل ہر مجلس اور ہر تقریر وتحرير میں وباءہی وباء کی بحث چل رہی ہے ۔بہت سے تبصرے اور تجزیے کیے جا رہے ہیں۔ ہر انسان اپنے علم اور معلومات کے مطابق معاشرے کو وقت بہ وقت آگاہ کر رہا ہے اور حکومتِ وقت ہنگامی طور پر مشکل سے نکلنے کے لئے مختلف تدبیریں پیش کر رہی ہے جوکہ قابل تحسین وستائش ہے ۔

دراصل یہ سب کام انتظامیہ کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے کہ انفرادیت سے لے کر اجتماعیت تک لائن کو ٹھیک رکھیں۔ہمارے مذہب اسلام میں یہ ایک زبردست  صلاحیت موجود ہے کہ انفرادی اور اجتماعی دونوں اعتباروں سے عوام کو ڈسپلن کا پابند کرتا  ہے۔لیکن ہمارے معاشرے میں ایک مجموعی خرابی یہ ہے کہ مذہب کو ہم  ایک زائد چیزسمجھتے ہیں جس کی بنیادی ضروریات میں کوئی اہمیت نہیں۔ اور اگر ہم مذہب کو ضروری سمجھتے ہی ہیں، تو  محض چند عبادات اور اُخروی زندگی تک ہم نے اِس کی افادیت کو محدود کر رکھا ہے ۔باقی دنیوی معاملات اور اتار چڑھاؤ میں ہم مذہب سے بے زار نظر آتے ہیں۔

اگر مذہب کو جزؤِ لازم مانتے تو آج کل یہ حالات نہ ہوتے۔ حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں  کہ ہم معاشرے میں ظلم بے انصافی زیادتی اور دوسری خرابیوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور یہ چیزیں انسانیت کے لئے نقصان دہ  ہیں۔ مذہب نے ان چیزوں سے بچنے کی حکم صادر فرمایا ہے۔ جس معاشرے میں ظلم اور بے انصافی رواج پکڑتی ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آفات، وباء، اور دیگر مصیبتیں اُس معاشرے  پر بلا تفریقِ نیک و بدمسلط ہوجاتی ہیں ۔ ایسے حالات میں وظیفے پڑھنے اور استغفار سے حالات درست نہیں ہوتے بلکہ ہمیں اپنے کرتوتوں سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک حکیم یا ماہر ڈاکٹرکا کام یہ ہے کہ وہ مرض کی نشاندہی کرے اور اس کے اسباب معلوم کرے۔ پھرطبیب علاج تجویز کرتاہے۔اسی طرح مذھب اسلام نے انسانوں کو برے اعمالوں سے پہلے ہی سے منع فرمادیا ہے۔

 الغرض ایسے مشکل حالات میں دینِ اسلام کی تعلیمات لوگوں کو مشکل سے نکال سکتی ہیں۔

عتیق اللہ آباسندھی (شانگلہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں