سب سے پہلے تو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ تعلیم انسانی رویوں کی تبدیلی اور ذہنی تربیت کا نام ہے۔ یہ عمل وقت طلب ہے مگر والدین بچے میں فوری تبدیلی چاہتے ہیں اور بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ وہ یہ نہیں سمجھ پاتے کہ جو علم و تجربہ انھوں نے اتنی عمر گزر جانے کے بعد حاصل کیا ہے کیونکر کمسن بچوں کو حاصل ہو سکتا ہے۔
دوسری غلطی بچوں میں موازنہ کرنا ہے۔ اکثر اوقات والدین اپنے بچوں کا ان کے دوستوں یا ان کے ہم عمر دیگر بچوں سے موازنہ کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں تو ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں سے کہتے ہیں کہ تمہاری عمر میں میں یوں کر لیا کرتا تھا اور فلاں کام میں ماہر تھا ایک تم ہو کہ ایسا کوئی کمال تم میں نہیں۔
ایک والد جو بچے کی تعلیمی صورتحال سے خاصے فکرمند تھے بچے سے گویا ہوئے :
” قائد اعظم محمد علی جناح جب تمہاری عمر میں تھے تو میٹرک کر چکے تھے۔”
بچے نے برجستہ جواب دیا :
“جب قائد اعظم آپ کی عمر میں تھے تو انھوں نے ایک قوم کو آزادی دلا دی تھی۔ آپ نے کیا کیا ہے؟ ”
تیسری اہم بات والدین کی طرف سے بچوں کی حد سے زیادہ معاونت ہے۔ جب والدین بچے کو کوئی بھی کام کرنے کو دیتے ہیں تو پہلے خوب تسلی سے سمجھاتے ہیں اور پھر بچے کو اپنی مرضی سے کام نہیں کرنے دیتے بلکہ بار بار مداخلت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بچے کو ان کی معاونت سے زیادہ بہتر سمجھ رہا ہے۔ جان لیں کہ اس طرح سے آپ بچے کی صلاحیتوں کو کچل رہے ہیں،
آپ کی معاونت سے تو بچہ فوراً بہترین کام کر سکے گا مگر خود سے کچھ بھی کرنا اس کے بس میں نہیں ہو گا۔ لہذا بچے سے معلوم کریں کہ وہ کیا جانتا ہے اور چیزوں کو کس انداز سے سمجھتا ہے۔ اور اسے آزادانہ کام کرنے دیں اور مداخلت سے اجتناب کریں۔ جب بچہ بے بس نظر آئے تو اس کا حوصلہ بڑھائیں کہ تم کر سکتے ہو، کوشش کرو، مجھے تم پر اعتماد ہے۔ بچے کو آزادی کا احساس دیں اور جو وہ کر سکتا ہے اسے کرنے دیں اس سے اس میں اعتماد آئے گا اور ذہنی استعداد میں اضافہ ہو گا۔
ایک اور سبب بچوں پر حد سے زیادہ کام کا بوجھ اور طویل تدریسی اوقات بھی ہیں۔ دور حاضر کے تقاضوں کے پیش نظر بہت سے والدین خیال کرتے ہیں کہ بچے کو دن بھر پڑھتے رہنا چاہیے تب ہی وہ زمانے کے ساتھ چلنے کے قابل ہو سکے گا۔ یاد رکھیں کہ تعلیم کا مقصد محض کتابی کیڑے پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ انسانیت کی تعمیر ہے۔ بچے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب جسمانی ورزش اور کھیل کود بھی اہم ہیں۔ کھیل کود نہ صرف بچے کو چاک و چوبند بناتے ہیں اور جسمانی قوت کا باعث ہیں بلکہ ذہن کو بھی صحت دیتے ہیں اور صلاحیتوں کو دوچند کرتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کے لیے فکرمند ضرور ہوں مگر افراط و تفریط سے بچنا بھی ضروری اور اہم ہے۔ حد سے زیادہ فکر بچے کی ذہنی صلاحیتوں اور شخصیت کے لیے زہر قاتل ہے جس سے یہ یکسر ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ بچوں کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش نہ کریں بلکہ مناسب ہدایات دینے کے بعد آزادانہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع دیں اور فطری طور پر ایک نئی شخصیت کی تعمیر میں معاونت کریں ۔اود والدین کا ساتھ بچوں کے لئے بہت ضروری ہے۔بے شک آپ کے ساتھ کی وجہ سے مستقبل میں بچے بہت آگے بڑھ سکتے ہیں۔

