0

نیکیاں کیمروں میں ڈالی گئیں :‌ تحریر: محمد عرفان

پانی لے کر کھڑا رہا دریا

نیکیاں کیمروں میں ڈالی گئیں

کورونا جس نے دینا کے 180 ممالک میں اپنی دہشت جما رکھی ہیں جہاں ہر طرف موت کا ڈر ہے تو بھوک کا خوف بھی، جہاں اس وائرس نے لوگوں کی ڈر سے نیند اُڑا رکھی ہے، وہاں بھوک سے نیند بھی نہیں آتی ہے۔ ان 180 ممالک میں ہمارا ملک پاکستان بھی ہے جہاں پر کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کیا گیا تاکہ کم سے کم لوگوں کی اموات ہوں مگر اس لاک ڈاون میں جہاں کورونا سے اموات کو روکنے کی کوشش کی گئی وہاں یہ بھی کوشش کی گئی کہ غریب لوگوں کی بھوک سے اموات کم از کم ہوں۔

اس کے لیے حکومت نے بہت سے ایسے پروگرام بنائے جن کے ذریعے  لوگوں تک راشن پہنچا اور ان کو بھوک سے بچایا گیا۔

بہت سے لوگوں نے راشن لیا اور مزے کی بات بڑی بڑی شخصیات کے ساتھ تصویریں بھی بنوائیں جو بعد میں اخبارات  میں بھی آئیں۔ مگر اخبارات میں آنے والی تصاویر کو اگر کبھی غور سے دیکھیں تو راشن لینے والے شخص کی آنکھیں نیچے ہوتی ہیں۔ جب تصویر بنائی جا رہی ہوتی ہے  بڑی شخصیات کے چہرے کیمرے کی طرف ہوتے ہیں اور مسکرا کر کیمرے میں اپنی نیکی جتا رہے ہوتے ہیں۔ بزرگوں سے سنا تھا کہ” نیکی کر اور دریا میں ڈال” اب تو دریا بھی خشک ہو گئے ہیں کیونکہ ساری نیکیاں اب کیمروں میں جو ڈالی جاتی ہیں۔

ہمارے محلے میں ایک بزرگ انسان رہتے ہیں جو رکشہ ڈرائیور ہیں۔ ان دنوں  وہ کافی مشکل وقت سے دوچار ہیں جیسے کہ پاکستان میں رہنے والے ہر غریب کے آجکل حالات ہیں۔ میں نے ان بزرگ کو بتایا کہ فلاں جگہ سے راشن مل رہا ہے آپ نہیں گئے؟ تو ان بزرگ نے بہت ہی اداس چہرےکے ساتھ کہا “بیٹا، میں گیا تھا۔ مگر خالی ہاتھ واپس آ گیا۔” میں نے بھی پوچھ ڈالا،” بزرگو،ایسا  کیوں؟” کہا، وہاں راشن کے ساتھ  تصویر بھی بنا رہے تھے میں نے دیکھا تو واپس آگیا کیونکہ وہ تصویر اخبار میں آتی ہے اور شاید میرے بچے دیکھ لیتے اور میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے مجھے بھیک مانگتا ہوا دیکھیں۔

اس واقعہ سے مجھے وہ “حدیث” یاد آئی :

صدقہ و خیرات ایسےکی جائے کہ دائیں ہاتھ سے دو اور بائیں ہاتھ تک کو خبر نہ ہو۔

بزرگ کی بات سن کر میں بھی وہاں خاموش ہو گیا کہ کوئی شریف النفس انسان ایسی جگہ سے راشن وصول کرنے نہیں جا سکتا۔

ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو صرف اس لیے بھی راشن نہیں لیتے کہ ان کی تصویر سوشل میڈیا پر آ گئی تو شاید اُن کی عزتِ نفس پر آنچ آئےگی اور اس بات میں حقیقت بھی ہے کہ کوئی بیٹا یا بیٹی اپنے باپ کو کسی سے کچھ اس طرح لیتے ہوئے دیکھیں تو اُن کو تکلیف ضرور ہوتی ہے اور شاید یہی تکلیف جو کہ ایک باپ کو معلوم ہوتی ہے اس لیے تصویر میں راشن لیتے وقت اس کا آنکھیں نیچے کی ہی طرف ہوتی ہیں۔

ہزاروں ایسے لوگ آپ کے اور میرے نزدیک رہتے ہیں جوبھوک تو برداشت کر لیتے ہیں مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ ہمیں ایسے لوگوں کو خود تلاش کرنا ہوگا خود ان کے پاس جا کر اُن کی اِمداد کرنی ہو گی۔

آئیں پھر سے بزرگوں کی اُس کہاوت کو زندہ کریں کہ  نیکی بغیر تصویر کے کریں۔

میری حکومت سے بھی یہی گزارش ہے کہ خدارا، کسی کی امداد کرتے وقت اس کا تماشہ نہ بنائیں اور پچاس لوگوں میں کھڑا کر کے، تصاویر بنوا کر کسی غریب کو ایک آٹے کی بوری دینے سے بہتر ہے کہ کچھ نہ کریں۔

شکریہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں