0

مزاحمتی سیاست :: تحریر: فواد فیاض

پاکستان میں کروونا کیسسز دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہے اور طرف مایوسی کی سی فضا پھیلی ہوئی ہے ۔ پہلے لاک ڈاؤن اور اب یہ چھٹیاں میرے لیے کافی مفید رہیں اور خوب ان سے فائدہ اٹھایا ۔لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ سب کچھ مکمل نہیں ہوتا، کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ جاتی ہے۔ تو اس وباء کے دوران جس چیز کی یاد مجھے سب سے زیادہ ستاتی رہی وہ چارسدہ سرکلز کے ہونے والے ماہانہ ” سٹڈی سرکلز ” ہیں جن کو پیارے بھائی محمد شہزاد آرگنائز کرتے رہے اور ہر اجلاس میں ان کے ساتھ عبدالولی خان یونیورسٹی شعبہ پشتو کے چئیرمین ڈاکٹر سہیل خان موجود ہوتے رہے ۔مئی کے مہینے میں آن لائن سرکل کا بھی انعقاد کیا لیکن ان لائن تک نہ میری رسائی ہے نہ مجھ کو ان لائن سے سمجھ آتی ہے ۔سرکل میں ہر مہینے الگ موضوع پر نامور پروفیسر صاحبان بحث کرتے ہیں لیکن ان سب سرکلز میں میرے دل کو جو نشست بھائی وہ “مزاحمتی سیاست” پر تھی۔ اس موضوع پر ڈاکٹر سہیل خان ،پروفیسر خادم حسین صاحب ، پروفیسر فرہاد آفریدی اور خان زمان کاکڑ نے کھل کر روشنی ڈالی۔ مجھے آج پورا یاد تو نہیں کہ وہاں لفظ بہ لفظ کیا بولا گیا تھا لیکن پھر دلچسپی کی وجہ سے اس موضوع کو مزید پڑھ کر زیر قلم لانے کی آج ایک ادنی سی کوشش کی ہے ۔

سیاسی مزاحمت سے مراد عوام کا جبر کے خلاف آواز اٹھانا جب ریاست یا ریاست سے جڑے دوسرے ادارے عوام کی حقوق کی پامالی کر رہے ہو ۔سیاسی مزاحمت کی بہترین مثال آج کل امریکہ میں ہونے والے مظاہرے ہے یہ مظاہرے اس وقت شرور ہوئے جب ایک سیاہ فام شحص کی منیا پولیس اہلکاروں کے ہاتھ موت واقع ہوئی ۔جارج کو پولیس نے چوری نے شبے میں گرفتار کیا لیکن گرفتاری میں مزاحمت کے دوران پولیس والوں نے جارج کے گردن پہ مسلسل پانچ منٹ تک پاوں رکھا جس پر پورا امریکہ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے لگے۔اب یہاں دیکھا جائے تو وہ ملزم تھا مجرم نہیں اگر مجرم بھی ثابت ہوتا ہو قانون کے مطابق اس کو سزا دی جاتی۔لیکن اگر یہ شحص پاکستان میں اس طرح مرا ہوا ہوتا تو لوگ کیا کہتے پتہ ہے ؟ کہتے ویسے بھی چور ہے شکر ہے مرگیا کیونکہ ہم لوگ تو قانون کو آئین کو سرے سے جانتے ہی نہیں ۔

مزاحمتی سیاست پھر دو طرح کی ہوتی ہے ایک تشدد پہ مبنی دوسری عدم تشدد پہ مبنی ۔جیسے نیلسن منڈیلا نے جدوجہد کی ہے قوم کی خاطر 27 سال جیل کاٹی ہے لیکن پھر بھی ان کے جدوجہد کو آپ مکمل عدم تشدد نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ اپنی کتاب “A long walk to freedom” میں لکھتا ہے کہ ہم نے اپنی پارٹی کا عسکری ونگ بھی بنایا ہوا تھا جو کہ مختلف حکومتی دافتر پر حملہ کرتی تھی دوسری طرف باچا خان بابا ، گاندھی جی ، محمد علی جناح ان لوگوں نے پوری عمر عدم تشدد پہ مبنی مزاحمتی سیاست کی ہے ۔عدم تشدد کے بارے میں باچا خان بابا اپنے کتاب میں لکھتے ہے ” کہ عدم تشدد بھی ایک ہتھیار ہے ” ۔اس طرح عمران خان نے پچھلی نواز حکومت کے خلاف جو دھرنا دیا وہ بھی تشدد پر مبنی مزاحمتی سیاست میں آتا ہے کیونکہ آپ نے پی ٹی وی ، پارلمینٹ وغیرہ پہ حملہ کیے لیکن اب مولانا فضل الرحمان نے جو دھرنا عمران خان حکومت کے خلاف دیا وہ بالکل عدم تشدد پہ مبنی تھا ۔ساتھ ساتھ ان میں جو سب سے کامیاب مزاحمتی سیاست ہے وہ تہذیبی مزاحمت ہے جب آپ فن وفنکار کے ذریعے ظالم وجابر کے خلاف بولے اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہو جس طرح حبیب جالب ہر ظالم جابر حکمران کے خلاف کھڑا رہا اور اپنی شاعری کے ذریعے مزاحمتی سیاست کی ۔اس طرح اگر آپ زاہد اسلام صاحب کی کتاب “پاکستان میں طبقاتی جدوجہد” اٹھا کر پڑھ لیں تو وہ بھی اسی چیز پہ مبنی ہے۔ فیض اور فراز نے بھی شاعری کے ذریعے کافی مزاحمتی سیاست کی ۔ابراہیم صاحب کی کتاب “جیل کے دن ، جیل کی راتیں ” شہزاد منظر صاحب کے مضا مین ، منصور عاشر صاحب کی کہانیوں پہ مبنی کتاب “آنکھوں پر ہاتھ” جو کہ 1974 پر منظر عام پر آئی سب میں آپ کو مزاحمتی سیاست کا عنصر ملے گا ۔اسی طرح مارٹن لوتھر کنگ جونئیر نے سو ادیبوں پر مشتمل ایک گروپ بنایا تھا جو کہ #WriteOurDemocracy کے پالیسی پی کارفرما تھے اس طرح فرانس میں پیدا ہونے والے لکھاری “FrantZ Fanon” نے ناول لکھا ہے “Black skin white mass” جس میں انہوں نے کافی اچھے انداز سے الجیریا کے لوگوں کی فرانس کے خلاف مزاحمت کی منظر کشی کی ہے ۔
مزاحمتی سیاست کے لیے آپ کے پاس حوصلہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ انتہائی کھٹن اور بڑے دل گردےوالا کام ہے ۔آپ مزاحمتی سیاست کرتے ہے تو آپ کے پاس ایک لائحہ عمل ہونا چاہیے ایک راہ ہونی چاہیے کیونکہ میرے نیز مزاحمتی سیاست پارلیمانی سیاست کے بغیر کوئی معنی نہیں رکھتی مزاحمتی سیاست میں آپ کے پاس ایماندار لیڈر ہونا چاہیے جو کہ آپ کو فرنٹ سے لیڈ کرتے ہوئے ایک ٹیم کی صورت میں جدوجہد کرے ۔

اگر دنیا کی تاریخ یا آج کل کے مزاحمت پر نظر دوڑائی جائے تو زیادہ تر مزاحمتیں تشدد پہ مبنی ہوتی ہے اور عموما یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ تشدد پہ مبنی مزاحمت ہی کامیاب ہوتی ہے لیکن اس خیال کو مصنفہ “Erica Chenoweth” نے اپنی کتاب “Why civil war Resistance work ” غلط ثابت کیا ہے جب انہوں نے اپنی کتاب کے لیے 1900 سے لے کر 2006 تک 323 بڑے مزاحمتوں کا مطالعہ کیا اور اس پہ ریسرچ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ عدم تشدد پہ مبنی سیاسی مزاحمتیں ہی کامیاب ہوتی ہے زیادہ تر بہ نسبت تشدد مزاحمت کے ۔

اس لیے اگر آج واقعی ہم نے ایک قوم بنانا ہے اپنے حقوق مانگنے ہے تو مزاحمتی سیاست کرنا ہوگی خواہ ہم کو سڑکوں پہ نکلنا پڑے یا میڈیا پہ اپنی آواز اٹھائے تو ہم بے خوف ہوکے کریں تب جاکے ہمارے مسئلے حل ہونگے اور ہمیں اپنے حقوق ملے گی کیونکہ مجھے یاد ہے آج سے پانچ ،چھ سال پہلے اگر کوئی محلے کا ٹرانسفر بھی خراب ہوتا تو سب لوگ مل کر اس کے خلاف احتجاج کرتے اس لیے وہ بہت جلد ٹھیک ہوجاتا لیکن پتہ نہیں اب وہ لوگ کہاں گئے زمین نگل گئی ان کو یا آسمان کھا گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

مزاحمتی سیاست :: تحریر: فواد فیاض” ایک تبصرہ

  1. فواد بھائی ! میں نے پہلی بار آپ کا کوئی اخباری آرٹیکل پڑھا ہے اور سچ کہوں تو اس تحریر نے مجھے بہت متاثر کیا ہے – مزاحمتی سیاست کی سمجھ تو اس سے آئی ہی ہے نیز کچھ کتابوں ،مصنفین اور رہنماؤں کی تعارفی جھلک بھی ملی – ایسی چیزیں میرے لیے بہت اہم ہوتی ہیں اور دلچسپی والا موضوع ہو تو میں نوٹ بھی کر لیتا ہوں – اللہ آپکے علم و عمل میں مزید برکت عطا فرمائے ، آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں