محمد بن قاسم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں-کون کہہ سکتا تھا کہ 17 سال کا یہ نوجوان وہ کر جائے گا جو بڑے بڑے حکمران نہ کر سکے اور اس کا دور برصغیر کا ایک روشن باب بن جائے گا-محمد بن قاسم ایک عظیم عمیاد جنرل تھا جس نے صرف 17 سال کی عمر میں سندھ اور پنجاب کے وہ علاقے فتح کیے جو دریائے سندھ کے کنارے واقع تھے اور اب سرزمینِ پاکستان کا حصہ ہیں- سندھ اور پنجاب کی فتح سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی حکومت کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا اور آج صوبہ سندھ بابِ اسلام کے نام سے پہچانا جاتا ہے-
محمد بن قاسم عرب کے شہر طائف میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے- طائف قبیلے کے Thaqafi قبیلے سے تعلق رکھنے والے قاسم بن یوسف٬ محمد بن قاسم کے والد تھے اور ان کا انتقال محمد بن قاسم کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا- ان کے بعد محمد بن قاسم کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ان کی والدہ پر آن پڑی- عمیاد کے گورنر الحجاج ابن یوسف محمد بن قاسم کے چچا تھے- انہوں نے محمد بن قاسم کی جنگ اور نظامِ حکومت کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی-
حجاج بن یوسف کی سرپرستی میں محمد بن قاسم کو فارس کا گورنر بنایا گیا اور وہ ایک بغاوت کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے-
یہ اس وقت کا ذکر ہے جب مسلمان تاجروں کا Ceylon میں انتقال ہوگیا تھا اور Ceylon کے حکمران نے ان کی بیوہ عورتوں اور یتیموں کو سمندر کے راستے بغداد بھیج دیا تھا- Ceylon کے بادشاہ نے حجاج بن یوسف کے لیے بیش قیمت تحائف بھی بھجوائے- دیبل کی بندرگاہ پر ہندوں قزاقوں نے سمندری قافلے کو لوٹ لیا اور عورتوں کو بچوں سمیت قیدی بنا لیا- جب اس واقعے کی خبر حجاج بن یوسف کو ہوئی تو اس نے راجہ داہر سے مسلمان قیدیوں کو رہائی٬ لوٹے ہوئے مال کی واپسی اور مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا- راجہ داہر نے جواب دیا کہ بحری قزاقوں پر اس کا حکم نہیں چلتا- اس جواب کے حجاج نے سندھ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا- حجاج بن یوسف کے پہلے دو بھیجے جانے والے لشکروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا- اس کے بعد حجاج بن یوسف نے فیصلہ کیا کہ راجہ داہر جو قزاقوں کی سرپرستی کر رہا تھا٬ پر جارحانہ حملہ کرے گا- اس حملے کی اصل وجہ راجہ داہر کی غیر منصفانہ پالیسیاں تھیں-
جب محمد بن قاسم نے دیبل پر حملہ کیا تو اس وقت راجہ داہر سندھ کے دارالحکومت الور (نواب شاہ) سے میں تھا جو کہ دیبل سے 500 کلومیٹر کی دوری پر تھا- دیبل اس وقت گورنر کی زیرِ سرپرستی تھا اور وہاں چار سے چھ ہزار راجپوت اور چند ہزار برہمن سپاہیوں کی ایک فوج موجود تھی- اور اسی وجہ سے راجہ داہر نے دفاع کے لیے اس جانب فوراً کوچ نہ کیا- ایک نوجوان حملہ آور اس وقت حجاج بن یوسف سے قریبی تعلق رکھے ہوئے تھا اور ہر چھوٹی بڑی بات میں مشورہ لیتا تھا-اس وقت رابطے کا انتہائی مؤثر طریقہ تھا کہ ہر تین دن میں خط لکھے جاتے تھے اور ہر سات دن میں ان کا جواب بھی موصول ہوجاتا تھا- لہٰذا حجاج بن یوسف اس معاملے کی بذاتِ خود نگرانی کر رہا تھا- دیبل کا محاصرہ کچھ دن تو جاری رہا لیکن پھر ایک جاسوس کی جانب سے محمد بن قاسم کو مندر پر قبضہ کرنے کا راستہ فراہم کیا گیا- عرب فوج نے سیڑھیاں لگا کر مندر میں داخل ہوگئی- اسلامی قوانین کے مطابق وہاں کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی گئی- اور اس کے بعد مندر کو توڑ کر مسجد تعمیر کی گئی-
راجہ داہر سندھ کا حکمران تھا جو ظلم بربریت اور ظلم کا راج کا نقشہ پیش کر رہا تھا اس کے دور میں طاقتور مظلوم پر ظلم کرتے تھے رعایا پر ظلم کی انتہا کی ہوئی تھی ذات پات کو چھوت چھات میں تبدیل کر دیا ہوا تھا برہمن دیش ہشتری اور شودر نے انسانی عظمت کی دھجیاں بکھیر دی ہوئی تھی۔
حجاج بن یوسف کے خط کے جواب میں دہرنے تکبر کمینگی اور ذہنی بے خبری کا اظہار کیا۔
محمد بن قاسم کی آمد حملہ آوروں کی طرح نہیں تھی بلکہ وہ ان ظالموں سے ان کو چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے آئے تھے۔انہوں نے اصول پسندی کا دامن نہیں چھوڑا بچوں بڑوں اور بزرگوں کو تحفظ فراہم کیا صرف مقابلے میں آنے والے مردوں سے جنگ کی تیاری ڈالنے والے کو امان دی اطاعت کرنے والے کو سماجی رتبہ دیا آملا کو جائیداد کو نقصان نہیں پہنچایا صرف بغاوت کرنے والے کو جواب پر کارروائی کی مگر حدود سے نہ بڑھے طاقت کے بجائے رحم کیا شرک کرنے پر توحید کا درس دیا حکمران کورعایا کا جواب دے بنایا جبکہ ہر ایک کو ذمہ داری کا احساس دلوایا ذات پات کے فرق کو ختم کرکے نماز کے ایک صف میں سب کو کھڑا کیا۔
آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بندہ صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
ظلم کی چکی میں پسنے والے محکوم کسی نجات دہندہ کی راہ تک رہے تھے اس لیے جب محمد بن قاسم آئیں تو خوش آمدید کیا اور مدد کی نتیجہ یہ نکلا یہ دیگر سیستان اور ملتان تک چلا گیا ان کو تحفظ دیا عبادت گاہوں کو نقصان نہیں پہنچایا آزادی کا پرچار کیا اس سے وجہ سے وہ ان کے پرستار ہو گئے اور اسلام قبول کرتے گئے اخلاق و کردار سے متاثر ہوئے۔
برابری اور مساوات پھیلایا۔ جب نماز میں نچلی صف کا آدمی اپنے امیر کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوا تو اس کو خوشی سے دوچار ھوا۔یہی وجہ ہے کہ جب محمد بن قاسم سندھ کے چلے بھی گئے تو ہندوؤں نے ان کے مجسمے بنا کر عبادت کی جبکہ مسلمانوں نے ان کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کیا اور ایک نئے دور کا آغاز کیا انقلاب برپا کیا۔ وہ روشنی پھیلائ جو ہمیشہ بڑھتی گئی ۔

