کرسٹوفر کے گاؤں کے پاس ایک پہاڑہے۔ جس کی چوٹی ہمیشہ برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ گاؤں کا سردار بننے کے صرف دو ہی طریقے ہیں: یا تو آپ سردار کے گھر جنم لیجیے، اور سردار مر جائے، تو آپ سردار بن سکتے ہیں۔ یا پھر اُس پہاڑ کی چوٹی کو سر کر لیجیے۔ واپس گاؤں میں آپ کا استقبال بحیثیت سردار ہی کیا جائے گا۔
کرسٹوفر ایک ہونہار لڑکا تھا۔ علاقے کے بزرگ دوسرے بچوں کو کرسٹوفر کی مثالیں دیا کرتے، اور کبھی یہاں تک کہہ دیتے کہ کرسٹوفر اتنا قابل اور محنتی ہے کہ اگر وہ ‘چوٹی’ سر کرنے کی ٹھان لے تو عین ممکن ہے کہ آنکھیں بند کر کے یہ کام بھی چند دنوں میں ہی کر گزرے۔
کرسٹوفر پر اس بات کا سنجیدہ اثر ہوا۔ اٹھارہ برس کا ہوا تو اس نے ماں سے کہا، “میں سردار بننا چاہتا ہوں۔” ماں گھبرا گئی۔ اور مائیں تو گھبرا ہی جاتی ہیں۔کرسٹوفر کو بہت لوگوں نے سمجھایا، پر اس کا ارادہ کمزور نہ پڑا۔ جب کوئی کہتا کہ تم دبلے پتلے ہو، یہ کٹھن کام کیسے کروگے! تو کرسٹوفر کہتا، “تاریخ کا دھارا کبھی موٹے تازے لوگ نہیں بدلتے۔ ہمیشہ دبلے پتلے لوگ ہی قوموں کی تقدیریں بدلا کرتے ہیں۔”
اگر کوئی راستے کی سنگینی کی دہائی دیتا، کرسٹوفر جواب دیتا، ” یہ وقت راستوں پر چلنے کا نہیں، راستے بنانے کا ہے۔”
ایک دن کرسٹوفر علی الصبح اپنے ہدف کی طرف روانہ ہو گیا۔ پہاڑ کی چڑھائی شروع ہوئی تو گاؤں کی بہاروں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ مگر کرسٹوفر کو فرق نہیں پڑا۔راستہ مشکل در مشکل ہوتا گیا، مگر کرسٹوفر کے لیے کچھ بھی اچانک نہیں تھا۔ وہ ذہنی و جسمانی طور پر ہر مسئلے یا انجان صورتِ حال کے لیے تیار تھا۔ دن اور رات اپنا کھیل کھیلتے رہے اور کرسٹوفر آگے بڑھتا چلا گیا۔
با لآخر وہ صبح آن پہنچی کہ جب منزل بالکل دسترس میں محسوس ہونے لگی۔ چوٹی سامنے تھی، سفر بہت کم، اور حوصلہ بہت بلند۔
کرسٹوفر سورج پر مسکرایا، اور آخری چند میلوں کا فاصلہ نہایت اطمینان کے ساتھ شروع کر دیا۔
کرسٹوفر بھاگتا رہا، اوپر چڑھتارہا، بلندیاں چھوتاچلا گیا۔ پر راستہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ ہوا کا ایک جھونکا آیا، اور وہ مفلر جو ماں نے ٹھنڈ کے مقابلے کی بے سود ڈھال کے طور پر دیا تھا، ایک لمحے کے لیے آنکھوں کے آگے آگیا۔ کرسٹوفر کا پاؤں نرم برف پر پڑا، پھسلا، اور پھسلتا ہی چلا گیا۔
منظر گھوم گیا، اور منزل کھو گئی۔
چند دن بعد کرسٹوفر کی آنکھ کھلی تو پٹیوں کا دورہ تھا۔ ماں تھی۔ اور پانی کا ایک گلاس۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ، ” تمہاری کمر ٹوٹ گئی ہے اور اب تم کبھی چل نہیں پاؤ گے۔ ”
“چل نہیں پاؤ گے؟!” کرسٹوفر چلانے لگا، چیخنے لگا، گھبرانے لگا۔ کھانا اور پانی دیوار پر مارا، اور ڈاکٹر پر چلاتے ہوئے بستر سے اٹھنے لگا، مگر گِر پڑا۔ پہاڑ سے گرنا شاید اتنا تکلیف دہ نہیں تھا جتنا اُس بستر سے گرنا محسوس ہوا۔
اگلے کئی روز اُس گھر سے یا تو ماں کے رونے کی آواز آتی رہی، یا کرسٹوفر کے چلانے کی۔ کرسٹوفر نے کھانا پینا ترک کر دیا، محتاجی پر موت کو ترجیح دینے لگا، ماں پر چلاتا رہا، دن کا اجالا اُسے چبھنے لگا اور پھولوں کے کھلنے سے اُسے نفرت ہو گئی۔
پھر خاموشی نے کرسٹوفر کا ہاتھ پکڑ لیا۔ کرسٹوفر نے ماں پر چلانا چھوڑ دیا۔ کھانے پینے لگا، مگر گفتگو کو بالکل ترک کردیا۔ ماں بھی اپنے آنسو پینا سیکھ گئی۔
کچھ دن اور گزرے تو سرحد پار سے کرسٹوفر کے بچپن کا ایک ساتھی گاؤں آیا۔ڈیوڈ اُن بچوں میں سے تھا جو کرسٹوفر کی مثالیں سنتے سنتے جوان ہوئے تھے۔ کرسٹوفر کا واقعہ سن کر شدید رنجیدہ ہوا۔ اور بھاری قدموں کے ساتھ کرسٹوفر کے گھر کی طرف چل پڑا۔ دروازے پر دستک دی۔ ایک لمحہ رکا، گہری سانس لی، اور آنسو پونچھ کر بلند آواز میں “کرسٹوفر! میرے دوست!” کہتا ہوا، مسکراتا ہوا، داخل ہوا۔
کرسٹوفراپنے بچپن کے دوست کو دیکھ کر یہ بھول ہی گیا کہ وہ اپاہج ہے۔
پرانے دوست پرانی یادوں کو ساتھ لے کر آتے ہیں۔
وہ بھی خوشی سے، بآوازِ بلند بولا، “ڈیوڈ! میرے جگر۔ آج سورج کس کروٹ ابھرا ہے کہ پردیسی بابو کو ہماری یاد آگئی؟”
” بس دیکھ لے دوست، تُو مجھے بھول گیا، پر میں گاؤں آتے ہی تیرے پاس چلا آیا ہوں۔”ڈیوڈ نے کرسٹوفر کی محتاجی کو سراسر نظر انداز کر دیا۔ دونوں گھنٹوں بچپن کی یادیں تراشتے رہے، پر دورِ حاضر کی تکلیف کا ذکر دونوں کی زبان سے دور رہا۔ بالآخرڈیوڈ کے جاناے کا وقت آگیا۔ اُس نے اُٹھتے ہوئے چائے کی پیالی نیچے رکھی، اور کرسٹوفر سے پوچھا، ” سناؤ کرسٹوفر! کب جا رہے ہو پھر چوٹی سر کرنے؟ ”
کرسٹوفر یکا یک چُپ ہو گیا۔ قہقہوں کی گونج سے زیادہ بلند خاموشی کی چیخیں گونجنے لگیں۔ نظریں جھکا کر لرزتے ہوئے بولا،
” ڈیوڈ! ڈاکٹر کہتا ہے کہ میں اب چل نہیں سکتا۔”
“تو؟!”ڈیوڈ نے حیرت زدہ لہجے میں پوچھا۔
” تو اگر کوئی چل نہیں سکتا، تو چوٹی کیسے سر کر سکتا ہے؟” کرسٹوفر نے جھنجھلا کر کہا۔
ڈیوڈ بلند قہقہے کے ساتھ کرسی پر گرا۔
” تُو وہی کرسٹوفر ہے نا، جو مجھے کہتا تھا کہ دنیا جو بھی کہے، اگرڈیوڈ کا ارادہ مضبوط ہے تو وہ ایک دن کچھ نہ کچھ بن ہی جائے گا!
دیکھ، آج میں شہر کا سب سے کامیاب تاجر بن کر لوٹا ہوں۔کہ جب میری عمر کے لڑکے ابھی یونیورسٹیوں میں دھکے کھا رہے ہیں۔
دیکھ، کہ آج گاؤں کے سب سے غریب کسان کا بیٹا شہر کا سب سے جوان تاجر بن کر لوٹا ہے۔
اور تُو ایک ڈاکٹر کی باتوں میں آگیا؟
کمر کیا ٹوٹی، تیرا حوصلہ ہی ٹوٹ گیا؟!!!
مذاق چھوڑ کرسٹوفر اور ہمت کا دامن تھام۔ پہلے سارا گاؤں کہتا تھا کہ تُو چوٹی سر کر سکتا ہے۔ تُو چوٹی سر کر لیتا تو کیا حیرت ہوتی کسی کو!
بڑی بات تو جب ہے دوست کہ سارا زمانہ کہتا ہے تُو کچھ نہیں کر سکتا، اور تُو کچھ کر دکھائے۔
اپنی زندگی اس بستر کے نام مت کر دوست۔ اٹھنے کی کوشش کر۔ جس خدا نے میری مدد کی ہے، وہ تجھے بھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔”
کرسٹوفر خاموش رہا۔ڈیوڈ واپس چلا گیا۔
اُس شام کرسٹوفر خاموشی سے بھی زیادہ خاموش کسی سوچ میں گُم رہا۔ ماں سمجھی کہ بچپن کی یادوں نے اُداس کر دیا ہے، سو کرسٹوفر کو تنگ نہیں کیا اور اپنے کمرے میں سو رہی۔
آدھی رات اور پورا اندھیرا چھا گیا تو کسی آواز سے اچانک بوڑھی ماں کی آنکھ کھل گئی۔ دیکھا تو ایک کرسی اور اُس کے سہارے کرسٹوفر، رینگتا، گِرتا پڑتا، درد سے جوچھتا، چارپائی کے پاس سرک رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ ماں اٹھتی، کرسٹوفر اس کے قدموں پر گرا۔ ایک طویل مدت لگی کرسٹوفر کو ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک کا سفر طے کرنے میں۔
” مجھے معاف کر دو ماں۔ میں بہت بُرا بیٹا ہوں۔ تمام عمر تمہیں میرا بوجھ اُٹھانا پڑا۔ اور اب جب میری باری تھی کہ تمہارا سہارا بنوں، اب بھی میں نے تمہیں اپنا بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ میں نے کبھی تمہاری اہمیت نہیں سمجھی۔ ہمیشہ تمہیں ایک کنیز سمجھا کہ جسے ‘ماں ‘ پکارا جاتاہے۔ پر آج مجھے احساس ہو گیا ہے، میرا وجود تمہاری ہی مرہونِ منت تھا۔ تم میری پرورش نہ کرتیں تو میں کبھی بھی اتنا قابل نہیں بن سکتا تھا جتنا بن گیا۔
دیکھو ماں! میں نے جیسے ہی اپنی قابلیت پر فخر کیا، کیا ہو گیا۔” کرسٹوفر کی آنکھوں میں آنسومگر لہجے میں بلا کی سردی تھی۔
یہ کسی عرفانی منزل کے ادراک کا اثر تھا، کرسٹوفر یکلخت بدل چکا تھا۔
روتی کانپتی ہوئی ماں جھٹ سے اٹھی، دن بھر کی تھکان بھول کر بیٹے کو بمشکل کرسی پر بٹھایا۔ ہاتھ چومے، پاؤں دابے اور روتے ہوئے کہتی رہی، ” میرے بیٹے نے کبھی مجھے تکلیف نہیں دی، میرے بیٹے کا مجھ پر کوئی بوجھ نہیں، خدا میرے بچے کو ہمیشہ سلامت رکھے، میری عمر،میری صحت بھی میرے بیٹے کو مل جائے خدایا!”
کرسٹوفر نے ماں کے آنسو پونچھے اور کہا، ” ماں، دیکھنا، خدا کے کرم سے، میں پھر سے چل کر اُس پہاڑ کی چوٹی پر جاؤں گا۔ اور اس بار میں اپنی قابلیت سے نہیں،خدا کی مہر بانی اور تیری دعا سے کامیاب ہو کر لوٹوں گا۔ اب مجھے سردار نہیں بننا ہے ماں۔ پر مجھے یہ خواب پورا کرنا ہی کرنا ہے۔ ڈاکٹر چاہے کچھ بھی کہے، اگر ایک رات کی محنت سے میرا رب مجھے بٹھا سکتا ہے، کچھ سالوں میں تو مَیں بھاگنے لگوں گا ماں۔ خدا مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا ماں۔ تُو رو مت۔ اور میری فکر بھی ہر گز نہ کر ماں۔”
“ہاں پیارے کرسٹوفر! تم ضرور کامیاب ہو گے۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔”
اور اس طرح اُس گھر پر ایک نئی صبح طلوع ہوئی۔
تین سال کی مسلسل انتھک محنت کے ساتھ کرسٹوفر اِس نہج پر پہنچا ہے کہ کمر کو کئی پٹیوں سے باندھ کر، لاٹھی کے سہارے، لنگڑا لنگڑا کر وہ گھر سے گاؤں کے سکول تک خود چل کر چلا جاتا ہے۔ وہاں وہ بحیثیت اُستاد ملازمت کرتا ہے۔
تمام دن وہ بچوں کو پڑھاتا ہے، تا کہ اتنا کما سکے کہ اپنا اور اپنی ماں کا بوجھ اُٹھا سکے۔ پھر شام کو تھک کر جب گھر پہنچتا ہے تو تھکن اور درد سے چُور جسم اسے زبردستی بستر کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے۔ مگر چوٹی سر کرنے کا خواب اُسے سونے نہیں دیتا ہے۔ جب ساری دنیا سو جاتی ہے، کرسٹوفر جاگتا ہے اور اپنی معذوری سے لڑتا رہتا ہے۔کبھی کبھی رات کی تاریکی کے ساتھ اُس کی ہمت بھی مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبنے لگتی ہے۔ مگر جیسے ہی مایوسی کا اندھیرا کرسٹوفر کو مکمل گھیرے میں لینے والا ہوتا ہے، خدا نئی صبح کی نئی روشنی کو اُمید کی نئی کرنیں بنا کر کرسٹوفر کی کھڑکی میں بھیج دیتا ہے۔ اور کرسٹوفر ایک نئے عزم اور نئے ولولے کے ساتھ زندگی کی دوڑ میں کود پڑتا ہے اور اپنے دل کو سمجھاتا ہے کہ ” بس ایک دن اور!”
کرسٹوفر اب سکول میں پڑھاتا ہے۔ کرسٹوفر بچوں کو خواب دیکھنا سکھاتا ہے، اور پھر بتاتا ہے کہ دنیا کچھ بھی کہے، اگر آپ کچھ بننا چاہتے ہیں اور ہمت نہیں ہارتے، آپ کی منزل آپ کو مل ہی جاتی ہے۔ خدا خود آپ کو آپ کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
کچھ بچے لنگڑے کرسٹوفر اور اُس کے ناممکن خواب کا مذاق اڑاتے ہیں۔ مگر کرسٹوفر مسکرا کر اُنہیں نظر انداز کر دیتا ہے، کہ اُنہیں منزل پانے کی خوشی کا اندازہ ہی نہیں ہے۔
جب کوئی کہتا ہے کہ” کرسٹوفر، آپ خود تو کچھ بن نہیں پائے۔”
کرسٹوفر مسکرا کر، بھرپور حوصلے کے ساتھ جواب دیتا ہے، ” میری کمر ٹوٹی ہے۔ حوصلہ نہیں۔ابھی میں مرا نہیں ہوں۔اور جب تک میں مر نہیں جاتا، کوئی یہ کہہ نہیں سکتا کہ میں ہار گیا۔کہ جہاں میں کھڑا ہوں، یہاں سے میری زندگی کے دو ہی نتائج ممکن ہیں۔ یا تو میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ اور ایک دن میں کامیاب ہو ہی جاؤں گا۔ یا آخری سانس تک کوشش کرتا رہوں گا۔ کہ ہار مان لینا میری فطرت نہیں ہے۔”
اگر کبھی کرسٹوفر کو سمجھایا جائے کہ چل پانا ہی ایک معجزہ تھا، پر شاید کبھی پہاڑ چڑھنا اُس کے لیے ممکن نہ ہو پائے، تو کرسٹوفر کہتا ہے کہ “میں آخری دم تک کوشش کرنا چاہتا ہوں، کہ میں خدا کی عدالت میں ایسا مجرم بن کر پیش نہیں ہوناچاہتا کہ جس نے ہار کے ڈر سے کبھی کوشش ہی نہیں کی۔”
ہار کا ڈر بہت بڑا ہوتا ہے، پر خدا کی مدد اُس سے بھی بڑی ہے۔مشکلات کتنی ہی بڑھ جائیں، خدا کی قدرت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتیں۔ انسان کا کام منزل کا حصول نہیں، حصول کی جہت اور کوشش کرنا ہے۔ منزل کا حصول صرف اور صرف خدا کی قدرت میں ہے۔ اور یہ صرف اُنہیں عطا ہوتی ہے جو اپنی کوشش اور یقین میں پختہ ثابت ہوتے ہیں۔

