کسی زمانے میں برصغیر میں ایک بزرگ قرآن کی آیات سے مختلف بیماریوں کا علاج کرتے تھے. یعنی رقیہ کے ذریعے. کہ خود قرآن میں اللہ نے اسے مومنین کیلئے شفاء بتایا ہے.
پھر جب انگریز آیا تو اس نے اپنے مادہ پرستانہ عقائد کا پرچار شروع کر دیا. غالب طاقت سے مرعوب ہونا فطری امر ہے. نتیجتاً بہت سے لوگ قرآن سے منہ موڑنا شروع ہو گئے.
اسی بستی میں کسی ڈاکٹر نے بھی اپنی پریکٹس شروع کی جہاں وہ بزرگ رہتے تھے. وہ جب بھی کسی مریض کو دوا دیتا تو مریض بتاتا کہ میں ان بزرگ کا بتایا ہوا قرآن کی فلاں آیت کا وظیفہ بھی کر رہا ہوں. اس پر ڈاکٹر بہت سٹپٹاتا. ایک روز تنگ آ کر وہ بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا، “شیخ، اب ہمارے پاس بیماریوں کا مؤثر علاج ادویات کی شکل میں موجود ہے. اب ہمیں قرآنی آیات والے ذہنی تسلی پر مبنی علاج کی ضرورت نہیں. یہ محض واہمہ ہے.”
شیخ نے فرمایا، “ہم دوا اور رقیہ دونوں پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ اللہ نے قرآن میں خود اسے شفاء کا ذریعہ بتایا ہے.”
اس پر ڈاکٹر الجھ کر بولا، “لیکن شیخ، یہ تو محض چند غیر مرئی الفاظ ہیں. جبکہ بیماری ایک طبعی شے ہے اور اسے طبعی علاج کی ضرورت ہوتی ہے.”
اس پر بزرگ بولے، “اگر تم سمجھتے ہو کہ یہ محض الفاظ ہیں، تو تم ایمان سے عاری اور جہالت کا مرکب ہو. اور اس پر مستزاد یہ کہ تم نہایت بدشکل بھی ہو جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تمہارے والدین بھی یقیناً بدصورت ہونگے.”
“کیا؟” ڈاکٹر چلایا، “یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ گفتگو کے کون سے آداب ہیں؟”
شیخ نے فوراً اسکا ہاتھ پکڑا اور نبض ٹٹول کر گویا ہوئے، “سبحان اللہ، تمہارا دل کس تیزی سے دھڑک رہا ہے، تمہارا چہرہ سرخ ہو چکا ہے اور تمارا جسم گرم ہے. یہ ساری طبعی علامات محض چند الفاظ کے ردعمل میں جو میں نے ادا کئیے؟ سنو، الفاظ معانی رکھتے ہیں اور معانی طبعی اثرات مرتب کرنے کی طاقت. اللہ، الفاظ کا، انکے معانی کا، اسباب کا اور انکے اثرات کا خالق ہے. اور اس نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ اسکے اپنے غیر مخلوق الفاظ بیماری کیلئے شفاء ہیں. البتہ ہم دوا سے علاج کو بھی جائز سمجھتے ہیں تاکہ تم جیسوں کا روزگار چلتا رہے..
0

