آج کے پاکستان اور قائد اعظم کے پاکستان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے ۔قائد انتہائی ایمان داری سخت محنت لگن اور خلوص سے کام کرنے والے انسان تھے ۔قائد نے کام کام اور کام کا سبق اس قوم کو دیا ۔اس قوم نے اس کے الٹ عمل کرنا شروع کر دیا ۔لوگوں نے کام چوری کو اپنی عادت بنا لیا جس پر ہم لوگ آج تک عمل پیرا ہیں ۔
ایمان اتحاد اور تنظیم کو بھی ہم نے روند کے رکھ دیا ہے ۔ایمان بھی ہم میں بہت کم ہو چکا ہے ۔اتحاد ہم صرف اپنے مفاد کے لئے کرتے ہیں اور تنظیم کی صورت حال یہ ہے کے ہم آج تک لائن بنا نہیں سیکھ سکے ۔
اس تعارف کے بعد قائد کے پاکستان پر ایک نظر ۔کابینہ کا اجلاس ہو رہا تھا اے ڈ ی سی نے پوچھا “سر اجلاس میں چائے سروکی جائے یا کافی “۔چونک کے سر اٹھایا اور غصے میں بولے “یہ لوگ گھر سے چاے یا کافی پی کے نہیں آئے “۔اے ڈی سی ڈر گیا ۔قائد نے بات جاری رکھی اور فرمایا “جس وزیر نے چا ئے یا کافی پینی ہے وہ اپنے گھر سے پی کے آئے گا یا گھر جا کے پئیے گا۔ قوم کا پیسہ قوم کے لئے ہے وزیروں کے لئے نہیں “۔اس حکم کے بعد اجلاسوں میں سادہ پانی سرو کیا جاتا تھا ۔گورنر ہاؤس کے لئے ساڑھے 38 روپے کا سامان خریدا گیا آپ نے حساب منگوا لیا ۔کچھ چیزیں فاطمہ جناح کی تھی حکم دیا “یہ پیسے اس کے اکاؤنٹ سے کاٹے جائے “۔دو یا تین چیزیں قائد کے ذاتی استعمال کی تھیں “فرمایا یہ پیسے میرے اکاؤنٹ سے کاٹے جائیں”۔باقی پیسے سرکاری اکاؤنٹ سے دیں اور آیندہ احتیاط بھی برتی جائے چیزیں لینے کے لئے ۔
ایک روز اے ڈی سی نے ایک وزٹنگ کارڈ آپ کے سامنے رکھا آپ نے کارڈ پھا ر کر پھینک دیا اور فرمایا اسے کہو مجھے آیندہ اپنی شکل نہ دیکھنا ۔وہ آپ کا بھائی تھا اور اس کا قصور تھا کے اس نے کارڈ کے نیچے لکھا تھا کہ “برادر اف محمّد علی جناح گورنر جنرل آف پاکستان “۔
زیارت میں سردی بہت تھی کرنل الہی بخش نے نئے موزے پیش کیے۔ آپ نے ریٹ پوچھا تو بتایا گیا دو روپے کے ہیں ۔آپ نے کہا کرنل یہ تو بہت مہنگے ہیں عرض کیا سر آپ کے اکاؤنٹ سے پیسے دئیے ہیں۔ آپ نے فرمایا میرا اکاؤنٹ بھی قوم کی امانت ہے۔ ان کو واپس کر دیا جائے اور کہا ایک ترقی پذیر ملک کے سربراہ کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہیے ۔پھاٹک والا قصہ سب کو یاد ہوگا جب گل حسن نے آپ کی کار گزارنے کے لئے ریلوے کہ پھاٹک کھلوایا تھا تو آپ سخت غصے میں آگے آپ نے پھاٹک بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اگر میں قانون پہ عمل نہیں کروں گا تو کوئی دوسرا بھی نہیں کرے گا ۔یہ تھا قائد کا پاکستان جو قانون اور اصول پر عمل کرتا تھا اور ترقی کی طرف گامزن تھا۔
پھر اچانک ہم اس پاکستان سے دور ہو گے اور موجودہ پاکستان میں شامل ہو گئے ۔جس میں پرائم منسٹر یا پریذیڈنٹ کے لئے دونوں اطراف کی سڑکیں گھنٹہ پہلے ہی بند کار دی جاتی ہیں۔کرپشن عروج پر ہے سرکاری خزانے کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے ہر ادارہ تباہی اور بد حالی کا بری طرح شکار ہے اگر ہم اس ملک کو ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں تو حکمرانوں سے لے کر عام عوام تک سب کو قائد کے ویژن اور اصولوں پر عمل کرنا ہوگا اور ہمیں مل کر اس ملک کی بہتری کے لئے کام کرنا ہوگا ۔اللہ اس ملک پر اپنا خصوصی کرم کرے ۔آمین ۔

