0

فرید خان سے شیر شاہ سوری تک کا سفر :: تحریر: عامر چودھری

تاریخ ان لوگوں کو ہمیشہ اچہے الفاظ سے یاد رکھتی ہے جو تاریخ میں اچہے کام اور اچھی یادیں چھوڑ کے جاتے ہیں۔ ان میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس کو لوگ شیر شاہ سوری کے نام سے جانتے۔ ہیں ۔اکثر ٹیلی ویژن میں ہمارے موجودہ سیاست دان انکا نام لیتے تھے۔میرا بھی بہت شوق تھا کے انکی ذات کے متعلق ضرور پڑھوں اور جانوں کے کون سے ایسے کام تھے جو ہمیشہ شیر شاہ کا نام زندہ رکھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان کی ذات کے متعلق بہت کچھ پڑھنے کا اب شرف حاصل ہوا اور محسوس کیا کہ انکا نام واقعے تاریخ میں اچہے الفاظ سے یاد رکھا جائے گا ۔

باپ نے انکا نام فرید خان رکھا تھا وقت نے اسے شیر شاہ اور پھر تاریخ نے اسے کے نام کے ساتھ سوری لگا کر ہمیشہ کے لئے امر کر دیا۔ان کا والد گھوڑے پالتا اور بیچتا تھا۔ وہ اپنی سوتیلی ماں کے پاس رہتا تھا ماں بھی زیادہ اچھا سلوک نہیں کرتی تھی اور سوتیلے بھائی بھی اسے اچھا نہیں سمجھتے تھے۔وہ ماں اور بھائیوں کے اس ناروا سلوک کی وجہ سے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگیا اور ایک دن گھر سے نکل گیا اور سرداروں کی نوکری کرنے لگ گیا۔اللہ‎ نے اسے بہت ساری خوبیاں عطا کی تھیں وہ جرات حوصلہ نیک نیتی اور عقل جیسی خوبیوں کا مالک تھا ۔جب وہ سرداروں کی نوکری کر رہا تھا تو ایک دن ظہیر و دین بابر سے اسکا سامنا ہوا تو اس نے سرداروں سے کہا کہ مجہے اس بچے کی پیشانی پر بادشاہت نظر آ رہی ہے تم اس پر کڑی نظر رکھو ۔بابر کی بات تاریخ نے سچ ثابت کر دی اور گھوڑے پالنے والے کا بیٹا 1540 کو ہندوستان کی عظیم سلطنت کا مالک بن گیا ۔

شیر شاہ سوری 1540 سے 1545 تک ہندوستان کا بادشاہ بن گیا جتنا عرصہ وہ بادشاہ رہا اس کا زیادہ تر وقت حالت جنگ میں گزرا ۔ایک دن بھی وہ سکھ کا سانس نہ لے سکا۔ کبھی مالواه کے لئے لڑ رہا ہے ،کبھی ملتان ،کبھی سندھ ،کبھی راجپوتانہ اور کبھی اجمیر کے لئے اسی لڑائی کے دوران وہ 1545 کو کالنجر کا قلعہ فتح کرتے خود بھی بارود کا شکار ہو گیا۔ لیکن اس افرا تفری کے دوران اس نے ہندوستان کو جو نظام دیا اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ۔یہ ہندوستان کا پہلا بادشاہ تھا جس نے ریاست کو ضلعوں اور تحصیلوں میں تقسیم کیا اسکی سلطنت 47 ضلعوں پر مشتمل تھی ان ا ضلاع کو سرکار کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ آج بھی سرکاری کاموں کے لئے استعمال ہوتا ہے ،اس نے تحصیلوں کو مختلف دیہات میں تقسیم کیا ،ان دیہاتوں میں چوکیدار ،نمبردار اور پٹواری حکومت کے نمائندے ہوتے تھے یہ عہدے آج بھی موجود ہیں۔اس نے زمین کی تقسیم کے لئے بیگہے کا لفظ استعمال کیا ۔ ہر بیگہے کو الگ خسرہ نمبر دیا ۔جس نے مالیہ کا نظام دیا ،جاگیر داری کا نظام ختم کیا ،ڈپٹی کمشنر کے عہدے کی بنیاد رکھی ۔جس نے مرکزی فوج کا تصور دیا ،جس نے فوج کے لئے پے اسکیل طے کیے ،جس نے روپے کو آنوں میں تقسیم کیا ۔
یہ ہندوستان کا پہلا بادشاہ تھا جس نے ما لیات، دفاع اور خارجہ امور کی وزارتیں قائم کیں ،جس نے سیکرٹریٹ کا تصور دیا ،intelligence کا نظام بنایا ،ڈاک کا محکمہ بنایا ،جس نے چیف جسٹس ،سیشن اور سول جج کے عہدے قائم کیے ۔یہ شاید دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس نے کہا تھا صوبے کا گورنر سویلین ہونا چاہئے اس نے معیشت کو سلطنت کی بنیاد قرار دیا اس نے تجارت کو بڑھانے کے لئے ضابطہ اخلاق بنایا ،اس نے بیرونی تاجر کو تحفظ دیا سرمایا کاری کو بڑھایا ۔مواصلات کے شعبے میں سوری کا تاریخ میں کوئی بدل نہیں ملتا اس نے مواصلات کے شعبے کو بہت زیادہ ترقی دی ،اس نے پانچ سالوں میں چار بڑی سڑکیں بنوائیں ۔

پہلی سڑک بنگلہ دیش کے سنار گاؤں سے آگرہ ،آگرہ سے دہلی ،دہلی سے لاہور اور لاہور سے پشاور تک آتی تھی ،ڈیڑہ ہزار کوس لمبی یہ سڑک جرنیلی یا شاہراہ عظیم کہلاتی ہے ۔دوسری سڑک آگرہ سے بنارس ،تیسری آگرہ سے جودھ پور اور چوتھی لاہور سے ملتان جاتی تھی ،اس نے ان سڑکوں کے کنارے درخت لگواے۔ تقریباً پانچ سو سال گزرنے کے بعد بھی اسکے کام ہر جگہ نظر آتے ہیں دوسری تہذیبوں نے بھی اس کے کاموں کو دیکھ کر بہت زیادہ ترقی کی ،اس نے جو بھی نظام بنایا اسکو چلا کر بھی دکھایا اس کے دور میں اگر تاجروں کے سا مان کی چوری ہوتی تھی تو پوری ضلعی حکومت ختم کر دی جاتی تھی ۔اگر ہم مغلوں کے ہزار سال کی حکومت اور سوری کی پانچ سال کی حکومت کا موازنہ کریں تو سوری کی حکومت شاندار تھی جو ہم لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔سوری نے یہ ترقی دے کر کر بتایا کے ویژن زیادہ اہم ہوتا ہے سال کم بھی مل جائے تو پھر بھی ویژن رکھنے والا انسان ترقی کی منازل طے کرتا جاتا ہے۔ہمارے حکمرانوں کو سوری کی طرح کام کرنا چاہئے صرف سوری کی باتیں کر کے دل نہیں بہلانا چاہیے ۔ہمارے ملک کو بھی ایک شیر شاہ سوری کی تلاش ہے جس دن اس جیسا حکمران مل گیا پھر یہ ملک بھی ترقی کی منازل طے کرنے لگے گا ۔شیر شاہ سوری ہندوستان کو ترقی دینے پر تیری عظمت کو سلام تو زندہ باد ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں