0

عوام کو ریلیف دیں تکلیف نہ دیں :: تحریر:حافظ مدثر رحمان

ملک میں کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن ہے شہروں کی رونقیں ختم ہو گئی ہیں بہار کے موسم میں خزاں چھائی ہوئی ہے ۔ ان حالات کے پیشِ نظر حکومت کی طرف سے عوام کو مختلف ریلیف دیے گئے ہیں یہ ریلیف ، ریلیف کم اور تکلیف زیادہ ہیں ۔
آج ایک کام کے سلسلے میں نجی بینک جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک عجیب منظر تھا بینک کے باہر ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی جس میں آنے والے افراد اپنی باری کے انتظار میں بغیر کسی وقفے کے کھڑے ہوتے جا رہے تھے حالانکہ حکومت کی طرف سے جو ہدایات جاری گئی ہیں ان میں اس بات پر زیادہ زور دیا گیا ہے کہ سماجی فاصلے کو برقرار رکھیں لیکن سماجی فاصلہ تو درکنار لوگ ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے تھے۔

اس قطار میں مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تھے ۔ اس قطار میں افسران بھی تھے اور کسان بھی تھے۔ بچوں کی سکول کی فیس جمع کروانے کیلئے والدین بھی تھے۔ چونکہ اس دنیا کی بنیاد اختلافِ عمل پر ہے تو اسی طرح لوگوں کی گفتگو کے موضوعات بھی مختلف ہیں ہر انسان شب و روز کے حالات کو اپنے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے.
۔
اس قطار میں ایک صاحب وضع قطع سے تو کافی معقول نظر آرہے تھےلیکن انکی گفتگو کا موضوع تھا حکومتی وزارتوں میں تبدیلیاں تو وہ اپنے علمِ سیاسیات سے لوگوں کو محظوظ کر رہے تھےاور بے چارے کسان ان کی باتوں سے کافی مستفید ہو کر حکوت کے مخالف ہوتے جا رہے تھے۔

اسی جگہ کچھ خواتین بھی تھیں جو کہ قطار میں کھڑا ہونا پسند نہیں کر رہی تھیں اور آتے ساتھ ہی ان کو بنک کے اندر جانے کی اجازت مل جاتی تھی کیونکہ وہ تو ٹھہریں صنفِ نازک لیکن میرا یہاں خواتین سے ایک سوال ہے کہ اگر آپ عورت مارچ نکال کر اپنے لئے برابری کے حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں تو آپ کو یقیناً قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا چاہیے۔

نجی بنکوں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ عملے کے لوگوں نے خصوصاً بینک مینجر نے علاقہ کے بااثر افراد سے تعلقات قائم کر رکھے ہوتے ہیں تا کہ ان کے کسٹمر بنے رہیں تو آج اس امر کی حقیقت ایسے کھلی کہ ایک صاحب بڑی سی گاڑی میں آئے اور مینجر صاحب کو کال کر کے اپنی آمد کا بتایا تو انہوں نے فوراً سیکیورٹی گارڈ کو حکم صادر کیا کہ ان صاحب کو بلا روک ٹوک اندر آنے دیا جائے ۔ بیچارے عوام جو روزے کی حالت میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے اس واقعہ کو دیکھ کر کافی رنجیدہ ہوئے اور ان صاحب کو زیرِ لب کچھ گالیاں بھی دیں اور ساتھ ہی بینک کے عملے کو۔
کرونا وائرس کے پیشِ نظر حکومت نے بینکوں کی تمام ذیلی شاخیں بند کر دی ہیں اور صرف مین برانچ(main branch)کو کھلا رکھنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے اور اوپر سے اک عذاب یہ کہ رمضان کی وجہ سے بینکوں کے اوقات بھی کم کر دیے گئے ہیں ۔

جب گرمی اور روزے سے ستائے عوام قطار میں کھڑے ہو کر تھک گئے تو انہوں نے ایک ترکیب نکالی۔ کچھ لوگوں نے چپکے سے سیکیورٹی گارڈ کی جیب میں چند روپے ڈالے تو اس کا رویہ ہی بدل گیا۔ وہی گارڈ جو پہلے زہر اگل رہا تھا اب اس کے منہ سے امرت سے بھی میٹھے الفاظ نکل رہے تھے اور وہ وقفے وقفے سے لوگوں کو اندر بھیج رہا تھا ۔ اس واقعہ کو دیکھنے کے بعد ایک بات سمجھ میں آئی کہ ابھی بھی ہمارے ملک میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اصولوں کی پاسداری کرنا چاہتے ہیں ۔ قانون کے مطابق چلنا چاہتے ہیں لیکن جب وہ اس طرح کی بد دیانتی دیکھتے ہیں تو بد دل ہو جاتے ہیں اور پھر وہ انگلی ٹیڑھی کر کے گھی نکالتے ہیں۔

کچھ کوگ ایسے تھے جو گارڈ کو رشوت نہیں دینا چاہتے تھے ان میں میں بھی شامل تھا ہم نے احتجاج بھی کیا ،لیکن بے سود۔ آخر کار ہمیں بھی حسبِ توفیق پیسے دے کر داخلے کی اجازت ملی تو اندر کا منظر باہر کے منظر سے مختلف نہ تھا ۔ لوگ ویسے ہی شانہ بشانہ کھڑے تھے اور محوِ گفتگو تھے ۔

اگر باہر کھڑے ہونے سے وائرس آپ کو لگ سکتا ہے تو کیا بینک کی چاردیواری میں داخل ہونے کے بعد یہ خطرہ کم ہو جاتا ہے؟ صرف ایک دیوار کا فرق وائرس کو منتقل ہونے سے روک سکتا ہے؟ میری عوام سے اپیل ہے کہ حکومتی ہدایات کی پاسداری کریں گے تو ہی اس وباء سے چھٹکارا ملے گا اور حکومت سے اپیل ہے کہ اگر عوام کو صحیح معنوں میں ریلیف دینا ہے تو بنک کے اوقات کار کم نہ کریں اور چھوٹی برانچیں بھی کھولنے کا حکم دیں ۔ورنہ یہ ریلیف اصل معنوں میں تکلیف سے کم نہیں ہے۔ایسا کرنے سے سماجی فاصلہ بھی برقرار رہے گا ۔
کیونکہ ” محدود رہیں گی تو ہی محفوظ رہیں گے“۔
اور جب تک یہ وباء ختم نہیں ہوتی ایک اصول بنا لیں :

زندگی رواں دواں
ذرا فاصلہ مہرباں

اللہ آپ سب کواپنی حفظ وامان میں رکھے آمین!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں