0

شخصیت کا بھیڑیا۔ ::‌ تحریر: ارسلان سلیم

شخصیت سازی کی ایک مشہور کہانی ہے۔
دادا اپنے پوتے کو سکھا رہے تھے کہ اس نے زندگی کیسے گزارنی ہے۔ انہوں نے بچے کو بتایا کہ ہر انسان کے اندر دو بھیڑیوں کے درمیان ہمیشہ بھیانک لڑائی رہتی ہے۔
ایک برا ہے اور وہ ہمیشہ اسے غصہ، اداسی، کینہ، بغض، جھوٹی شہرت، تکبر، پچھتاوا، جھوٹ اور ان جیسے دیگر کاموں کی ترغیب دیتا ہے اور دوسرا اچھا ہے اور ہمیشہ اسے خوشی، امن، امید، لگن، محبت، سچائی، خلوص اور یقین کی ترغیب دیتا ہے۔

بچہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پوچھتا ہے۔ بابا لڑائی میں جیت کس کی ہوتی ہے ؟۔

دادا جواب دیتے ہیں۔”جسے تم خوراک دو گے وہی جیت جائے گا۔”

ہماری شخصیت کا دارومدار ہم پہ منحصر ہے ہم کس بھیڑئیے کو کھلاتے ہیں۔
علم اور حکمت والے کو یا پھر جہالیت والے کو۔

ہمیں پہلے یہ جان لینا چاہیے کہ ہم ان بھیڑیوں کو کھلاتے کیسے ہیں؟

ہم جو کچھ دیکھتے، سنتےاور پڑھتے ہیں وہ لا شعوری طور پہ ہماری سوچ کو تبدیل کرتا ہیں۔ چاہے وہ استاد کی باتیں ہوں یا پھر سوشل میڈیا پہ گزارہ ہوا وقت۔
یہ ہر وقت ہمارے کسی ایک بھیڑیے کو کھلا رہا ہوتا ہے۔اور ہماری سوچ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
یہی سوچ پھر عمل کو تخلیق کرتی ہے اور اعمال پر عادات کو اور عادات ہماری شخصیت کو۔

اب ہمیں اگر اپنی شخصیت کو سوارنا ہے تو ہمیں ان چیزوں پہ غور کرنا چائیے جو ہم دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں۔
اس عمل میں کتابیں ایک اہم ذریعہ ثابت ہو سکتی ہیں۔۔۔
ایک بات کہی جاتی ہے
“Leaders are Readers.”
آپ اپنی زندگی میں اقبال، واصف علی واصف، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، فائیز حسن سیال، قیصر عباس اور دیگر لوگوں کی کتابیں پڑھیں۔
آپ اگر روزانہ 30 منٹ ایک کتاب کو پڑھیں اور تین مہینے بعد آپ کی شخصیت بدل چکی ہو گی۔۔

جیسا کہ سورہ انسان آیت نمبر تین میں ہے۔
(اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا۔ (اب) وہ خواہ شکرگزار ہو خواہ ناشکرا”

اس لئیے آپ کو یہ جان لینا چائیے کہ آپ کس بھیڑیے کو کھلا رہے ہیں؟ شکر گزاری والے کو یا ناشکری والے کو؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں