کورونا سے پہلے زندگی کتنی آزاد تھی اس کا ہر آزاد انسان کو پتا لاک ڈاؤن کے بعد لگا ہوگا جب ہر طرف چلتی پھرتی زندگی کو لاک گیا۔کس نے سوچا تھا کہ چین کے شہر وہان سے پھوٹنے والی یہ وبا نا صرف پوری دنیا میں پھیل جائے گی اور لاکھوں زندگیاں نگل جائے گی بلکہ کئی ہستی بستی زندگیوں کو اجاڑ کے رکھ دے گی۔
اس وبا نے جہاں لاکھوں معصوم انسان کو ختم کیا ہے وہیں پر کڑوڑوں انسانوں کو باندی بنا دیا ہے۔
کس نے سوچا تھا کہ ایک دن اپنا گھر ہی جیل بن جائے گا اور وہ بغیر کسی گناہ کئے غیراعلانیہ عرصے تک باندی بن کر رہ جائیں گے۔
کس نے سوچا تھا کہ وہ ساری زندگی جس نام(جیل )سے نفرت کرتے ہیں ایک دن اپنے ہی گھر کو جیل کی طرح بند کرکے زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
دنیا کی تاریخ میں شاید پہلے ایسا کبھی نا ہوا ہو جب پوری دنیا باندی بنی ہو ۔دنیا کی تاریخ کا یہ پہلا موقعہ ہے جب پوری یانسانیت جیل بن گئی ہو بلکہ یوں کہہ لیں کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے جہاں ساری انسانیت اپنی ہی گھر میں جیل کی طرح بند ہے۔
کورونا سے پہلے کروڑوں ایسے جوان تھے جنہوں نے اپنی زندگی کو اپنے ہمسفر کے نام کرنا تھا۔
کروڑوں ایسے باپ تھے جنہوں نے اپنی بیٹے /بیٹیوں کی شادی کی رسم میں موج مستی کرنی تھی۔جی ہاں کروڑوں ایسی مائیں تھیں جنہوں نے اپنے لختِ جگر کی خوشیاں دیکھنی تھیں۔
عالمِ انسانیت کے ایسے کئی خواب محض خواب ہی رہ گئے ہیں بلکہ اب تو حالات ایسی ڈگر پر چل پڑے ہیں کہ ہر انسان کا اس وبا سے زندگی بچانے کا ہی واحد خواب رہ گیا ہے۔
زندگی کے آج کے جو حالات ہیں ان حالات میں اگر کوئی اپنی زندگی بچا گیا تو تاریخ میں اسے ہی خوش قسمت و بہادر لکھا و پکارا جائے گا۔
یہ وہ وقت ہے جس میں جو انسان اپنے سارے گول ایک طرف کرکے اپنا ایک ہی زندگی بچانے کا گول بنائے گا شاید وہ ہی انسان اپنی زندگی کو لگا ہوا لاک ڈاؤن کھلتے دیکھ پائے گا۔
زندگی کے اتنے خوبصورت رنگ ہیں کہ جن کو اس وبا نےپھیکا کردیاہے۔
امید ہے وہ دن دور نہیں جب زندگی دوبارہ اپنی انگڑائی لے گی۔
0

