0

زندگی کسی کے جا نے سے نہیں رُکتی ۔ :: تحریر: مصباح احمد

کل میرے ایک رشتے دار نے اپنی اہلیہ کو کھو دیا ، اُن کے چار بچے ہیں جن میں سے ایک صرف پندرہ دن کا ہے اور دوسرے بھی کافی کمسن ہیں۔
جب وہ زندہ تھیں تو وہ اپنے گھر کی ملکہ اور سب سے اہم رکن تھیں ، اُن کے شوہر کے لئے ان کے بغیر زندگی کا تصور کرنا ناممکن تھا ، اُن کے بچوں کے لئے وہ آکسیجن کا کام کرتی تھیں جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ زندگی صرف ان کی بدولت چل رہی ہے اور سب انہی پر منحصر ہیں۔ ان کے شوہر جو اُن کے بغیر دو وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے تھے اب وہ خود کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی بھی دیکھ بھال کررہے ہیں۔

بات یہ ہے کہ زندگی کسی ایک فرد کے لئے کبھی نہیں رکتی ، یہ گھڑی کسی کی موت یا پیدائش کے باوجود چلتی رہتی ہے۔ اب چونکہ اُن کے بچوں نے اپنی ماں کو اس عمر میں کھو دیا ہے جہاں وہ اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ صرف ایک مخلص شخص یعنی ان کے والد کے ساتھ رہ گئے ہیں۔ لہذا ، ان کے ساتھ کھڑے ہونا ، اپنے بچوں میں اِس خوفناک صورتحال سے گزرنے کی ہمت پیدا کرنا اور اُن کی تسلی کرنے میں وہی اپنا فرض ادا کر رہے ہیں ۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے ، کیا اِس کنبے کے افراد زندگی نہیں گزاریں گے؟ کیا وہ اِس سانحے کے ساتھ ہی مریں گے؟ نہیں ، یہ معاملہ نہیں ہے ، بالآخر اِس کنبے کے افراد دوبارہ اپنے معمولات میں مصروف ہوں گے کیونکہ اسٹیفن چبوسکی نے کہا تھا: ’حالات بدل جاتے ہیں ، اور دوست چلے جاتے ہیں ، زندگی کسی کے لئے نہیں رکتی ہے‘۔ اللہ نے اس دنیا کے ہر انسان کا ایک حصہ طے کرلیا ہے ، جب آپ کا حصہ آپ کے لئے ختم ہوجائے تو آپ کو یہ عارضی دنیا چھوڑنی ہوگی۔
میرے نزدیک زندگی ایک ٹرین کی طرح ہے اور ہم لوگ مسافر ہیں۔ جو منزل کی طرف جارہے ہیں۔ آپ کی کلاس (بزنس ہو یا اِکنومک) اس بات سے اپکے سفر کس آسانی کا اندازہ ممکن ہے مگر منزل میں تاخیر کا نہیں۔ ایک بار جب آپ اپنی منزل مقصود پر پہنچیں گے تو آپ کو اس ٹرین سے باہر پھینک دیا جائے گا۔ کیوںکہ آپ ٹرین کا ایندھن یا انجن نہیں ہیں ، آپ کی موجودگی یا عدم موجودگی ٹرین کے شیڈول پر اثر انداز نہیں ہوتی ، ٹرین روانہ ہوگی اور وقت پر متعلقہ منزل پر پہنچے گی کیونکہ ’زندگی کسی کے جانے سے نہیں رکتی ہے‘۔ چند لمہوں کے لیے یہ اپکو اُتارنے کا وقفہ لے گی اور اپنے سفر پر راوں دواں نظر آئے گی۔

زندگی کی حقیقت کے علاوہ وقت کا موازنہ کیا جائے، تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان کا سب سے بڑا چیلنج ہر سمت سے بڑھتے ہوئے تناؤ کے مقابلہ میں متوازن ، بھرپور زندگی بسر کرنا ہے۔ جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے، ہمارے اجداد کو وقت کا کوئی تصور نہیں تھا۔ دوسری طرف ، ہم گھڑی کی گھومتی سُوئیوں کے حصا ر میں ہیں۔ لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے محنت کرتے تھے اور رات کو چین کی نیند سو جاتے تھے۔ پرانے زما نے میں ، اوسط فرد کے لئے معلومات دستیاب نہیں تھیں ، اور جو کچھ کتابیں موجود تھیں وہ صرف اشرافیہ کو پڑھائی جاتی تھیں۔ اب ہم بے مثال ، بے ہنگم اعداد و شمار اور معلومات کی فراوانی پر بوکھلائے ہوئے ہیں۔ چند سو سالوں میں ہم ایک ایسی دنیا جہاں سب کچھ یقینی تھا اور کچھ بھی تبدیل نہیں ہوتا تھا سے اِس دنیا میں مُنتقل ہو چکے ہیں جہاں کچھ بھی یقینی نہیں لگتا اور ہر چیز بدل جاتی ہے۔ آج دنیا اپنی ڈگر پر رواں ہے تو کل ایک وائرس کے چلتے سب کچھ رُک جا تا ہے۔ مگر زندگی کی ٹرین آج بھی اپنے سفر پر رواں ہے کڑوڑوں لوگوں کو چند ہی دنوں میں ٹرین سے اُتارا جا چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ زندگی کسی کے جانے سے نہیں رکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں