0

رمضان اور ثواب کا دشمن کورونا :‌ تحریر:محمد عرفان

رمضان رحمتوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں برکتیں بھی اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ہر گھر میں افطار کا انتظام اور مساجد میں رش اور افطاری کا اہتمام یہاں تک کہ بہت سے لوگ رمضان میں مسجد میں ہی آپس میں ملتے ہیں۔ ایک محلے میں رہنے کے باوجود، اکثر تراویح میں یا صبح کی نماز پے ایک ہی محلے کے پڑوسی آپس میں ایک سال کے بعد مل کرکہتے ہیں رمضان کتنا جلدی واپس آ گیا ۔
مگر اس سال کورونا نے جہاں دیگر نظام متاثر کئے ہیں وہاں ایک سال کے بعد ملنے والے پڑوسی بھی نہ ملنے دیے اور مسجدوں میں افطاری اور دیگر مذہبی سرگرمیاں بھی متاثرکیں۔
کورونا کی وجہ سے شاید ہم مساجد میں ہونے والی افطاری میں اپنا حصہ نہ ڈال سکے اور اگر حصہ نہ ڈالا تو شاید ہم تو ثواب سے بھی رہ جائیں اور رمضان میں تو ثواب ہمیں ضرور کمانا ہوتا ہے جیسے بھی ہو ثواب کمانا ہے مگر کورونا نے تو ثواب کے مواقع ہی لے لئے
مگر خدا کی خوشی تو اس کی مخلوق کو خوش کرنے میں ہے ۔اگر ہم مساجد میں روز افطاری کروائیں مگر ہمارے محلے کے ایک فرد کے پاس سحری کے پیسے نہ ہوں تو پھر افسوس ہم فضول نیکی کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ نیکی تو ہمارے گھر کے ساتھ موجود ہوتی ہے ۔ اصل میں برِصغیر کے مسلمان ثواب کمانے کے آسان ذرائع ڈھونڈتے ہیں۔ حالانکہ ثواب کا اہم ذریعہ معاشرے اور معیشت کو ٹھیک رکھنا ہے۔
میں نے اکثر افطاری کے وقت کچھ غریب لوگوں کو اپنے حصے کی کچھ چیزیں گھر لے جاتے دیکھا۔ جن کے چہرے سے اُن کی غربت سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے اور وہ یہ چیزیں اپنے گھر لے جا کر اپنےبچوں کو دے کر اُن کے چہرے پہ خوشی دیکھتے رہتے ہیں جب کہ افطاری کے بعد بہت سی چیزیں مسجد میں کافی تعداد میں بچ بھی جاتی ہیں۔ ہاں مگر وہ تو انتظامیہِ مسجد کی ہوتی ہیں نا!
اور بعد میں مولانا صاحب اعلان بھی کر دیتے ہیں اور قرآن پا ک کی ایک آیت بھی ہمیں سنا دی جاتی ہے کہ افطاری کروانے کا بہت ثواب ہے تو اپنا اپنا حصہ بھی ڈال دیں۔ میں افطاری کرنے یا کرانے کے خلاف نہیں ہوں نہ اس کے خلاف ہونا چاہیے۔ مگر یہ سب ہم اس لیے کرتے ہیں کہ ثواب ملے گا کیونکہ ہم تو اِس ماہ مبارک میں ثواب اور دیکھاوے کے لالچی ہو جاتے ہیں ۔ ثواب کی لالچ تو ہےمگر اس دفعہ تو خدا نے کورونا کے ذریعے ثواب کمانے کا یہ ذریعہ بھی لے لیا ہم سے۔
یہ وباء جس نے ہمیں گھروں میں قید کر کے رکھ دیاہے۔ مساجد میں بھی زیادہ نہیں جا سکتے اور مساجد میں افطاری کے اہتمام بھی نہیں ہوں گے۔ مگر اُس افطاری کے اہتمام پر آنے والا خرچہ مطلب افطاری والے پیسے کسی غریب کے گھر ضرور دیے سکتے ہیں۔
مساجد کی انتظامیہ جس طرح پہلے افطارکا اہتمام مسجد میں کرتی تھی، اب انہی پیسوں سے کسی غریب کے گھر راشن ڈال دیں۔ کسی غریب کی پورے ماہ کی افطاری اور سحری کا ذمہ اُٹھا لیں اور خدا کے نزدیک اس عمل سے ثواب بھی زیادہ ملے گے اور ویسے بھی ہم ثواب کے لالچیوں کو اور کیا چائیے اور اگر ہم اس عمل کو زندگی کا حصہ بنا لیں تو شاید کوئی غریب پوری زندگی کے فاقوں سے بچ سکے۔
دیکھاوے کے لیے خرچ کرنا فائدہ مند نہیں ،
ریاکاری درحقیقت اہل ایمان کی خصلت ہی نہیں

تحریر:محمد عرفان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

رمضان اور ثواب کا دشمن کورونا :‌ تحریر:محمد عرفان” ایک تبصرہ

  1. Indeed the Out break COVID-19 pandemic seriously disturbed all religious gathering specially o5 times prayer one can’t ask about the condition of other relatives as every one is qurantine in their home ,May Allah Almighty vanish this pandemic soon

اپنا تبصرہ بھیجیں