0

ذرا سو چیے :‌ تحریر: ندا کوثر کیانی

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ ماں کی نسبت 70 گنا زیادہ محبت کرتا ہے اور وہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی اس سے اتنی ہی محبت کریں اور برائی کے راستے سے دُور رہیں۔ ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد سے سب سے زیادہ پیار کرتی ہے اور ذرا سی تکلیف سے اس کا دل تڑپ جاتا ہے ۔تو زرا سوچیں! کہ اللہ جو ہم سے 70 ماؤں جتنا پیار کرتا ہے اُسے کتنا بُرا لگتا ہو گا جب اس کے بندے کوئی غلط کام کریں ،اور پھر بندے بھی وہ جو اس کے محبوبؐ کے اُمتی ہوں، اور وہ امت جس کا صرف نیکی کرنے کا سوچنے پر ہی اللہ ثواب عطا کر دیتا ہے چاہے وہ نیکی کرے یا نہ کرے ،لیکن برُائی کا سوچتا ہے تو اللہ اس وقت تک گناہ نہیں دیتا جب تک وہ برائی کر نہ لے۔تو پھر ہم کیوں کُھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ کیوں دوسروں کا حق مارتے ہیں؟ کیوں ہم دلوں میں بُغض رکھتے ہیں؟
خدارا، اس گمراہی سے بچیں۔ اپنی عزت کی ، اپنے ناموس کی، اپنی چادر کی حفاظت کریں۔ اپنے دنیا میں آنے کے اصل مقصد سے آگاہ ہو جائیں اور دنیا میں نام بنانے کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی تیاری کریں۔
آج کل کی ہی مثال لے لیں۔ سب کورونا سے ڈر کر گھروں میں چھپے ہیں، ہر وقت ہاتھ دھو رہے ہیں ۔ پاکیزگی کا خیال رکھ رہے ہیں،باہر نہیں نکل رہے۔ کاش کہ اتنی فکر ہمیں نماز کی بھی ہوتی اور بجائے اس کے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہم سے کیا خطاہوئی ہے کہ خدا نے ہم پہ یہ عذاب نازل فرمایا ہے ہم گھروں میں بیٹھ کر، سو سو کراور انٹرنیٹ پر لطیفے شیئر کرنے میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہ وقت احتیاط سے زیادہ ، توبہ کا ہے ۔پہلے اپنے آپ کو درست کریں، کسی کی اصلاح اِس کے بعد کریں۔ نیکی کریں ،امن پھیلائیں، زکوٰۃ دیں ، مال و جان کا صدقہ دیں، اور جتنا ہو سکے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ اپنے مقصدِ زندگی کو جانیں ، کامیابی اور زندگی صرف حق خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
بس اب ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اصلاح کریں۔ اپنے ربِ کریم کے حضور دعا اور معافی مانگیں اور اپنی اورا پنے پیاروں کی مغفرت کی دعا کریں۔ کسی کو بُرا نہ کہیں۔ اپنی زبان سے کسی کو بُرا کہنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ آپ کی زبان سے دو انچ نیچے آپ کا گریبان بھی ہے۔ اس میں بھی جھانک لیں۔ پہلے اپنی اصلاح کریں اور پھر دوسروں کی۔ مگر اتنا یاد رکھیں کہ جب آپ کسی کے حق میں دعا کرتے ہیں تو وہ پہلے آپ کے اپنے حق میں قبول ہوتی ہے۔ نیک برتاؤ رکھیں۔ کسی کو خود سے حقیر نہ جانیں کیونکہ انسان کی اُڑان مٹی سے شروع ہو کر مٹی پر ہی ختم ہو جاتی ہے ۔ خدا سے معافی مانگیں۔ اس کی رضا میں ہی ہم سب کی خوشی ہے ۔ اللہ ہمیں نیک عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین
اللہ پر ہمیشہ پھروسہ رکھیں۔ آپ کی مانگی ہوئی کوئی بھی دعا ،آ پ کے آنسوئوں سے بھیگی ہوئی کوئی بھی رات ، تکلیف میں گزارا ہوا کوئی بھی دن کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ کیونکہ زندگی کا آسان اور تکلیف دہ لمحہ دونوں ہی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے کسی عظیم مقصد کا حصہ ہوتے ہیں۔ جو کبھی تو جلدی سمجھ آ جاتا ہے اور کبھی انتظارکرنا پڑتے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ذرا سو چیے :‌ تحریر: ندا کوثر کیانی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں