کچھ عرصہ پہلے امریکہ میں ہونے والے نسل پرستی پر ہنگامے لسی سے ڈکے چھپے نہیں ہیں ۔ بلیک لائیوز میڑر کا راگ پوری دنیا میں گایا گیا ۔ سب ایک ہیں سب برابر ہیں کوئی کسی سے بہتر نہیں ہو سکتا صرف اور صرف رنگ ، نسل ، اور ذات پات کی بنیاد پر ۔ اس طرح کی اور بھی ناجانے ایسے کتنے ہی نعرے ہر خاص و عام کی زبان سے سننے کو ملے ۔مگر ظلم اور منافقت کی انتہا ہے کہ بولنے والے ہی نسل پرستی کی اس گہری کھائی میں سکون کی نیند سو رہے ہیں ۔۔
غیر مسلم ہماری کالونی میں کیوں؟ دنیا کو بلیک لائیوز پر نسلی امتیاز پر لیکچر دینے والی منافق قوم خود اپنے ملک میں نسل پرستی ، مذہب پرستی میں مبتلا ہے، صفائی اور گند اٹھانے والوں کو کوڑا کیھ کر اپنے برتن میں پانی نہ پلانے والے وہی لوگ کسی گورے مالدار انگریز کی چاپلوسی کرتے نظر آتے ہیں، اپنی دل میں یورپی عیسائی ملکوں میں مستقل قیام کے سپنے سجائے یہ لوگ اپنے ملک میں اقلتیوں کی جان لینے پر تپے ہوئے ہیں…!
پشاور کے رہائشی ندیم جوزف نے ایک ماہ قبل 60 لاکھ مالیت کا گھر سواتی پھاٹک ٹی وی کالونی میں خریدا جس۔ خریداری کے دوسرے ہی روز سامنے والے مکان کے مالک نے ندیم جوزف جوزف کے بیٹے کو بلا کر کہا” کہ تم مسلمان ہو” جس پر اس نے انکار کیا تو سلمان خان نے اگلے روز صبح ندیم جوزف کو وہی سوال کیا کہ آپ مسلمان ہو؟ جس پر ندیم نے کہاں ہم مسیحی ہیں۔ اس بات پر سلمان خان نے کہا کہ ہماری گلی میں غیر مسلموں کا داخلہ بند ہے تو تم نے مکان کیسے خرید لیا؟ اس مکان کو فوری خالی کرو اور دوبارہ نظر نہیں آنا کیونکہ یہود و نصاریؓ ہمارے دشمن ہیں۔27 مئی کو سلمان خان اور اسکے بیٹوں نے ندیم کی غیر موجودگی میں انکے گھر کے تالے میں ایلفی ڈالی۔29 مئی کو ندیم کے بڑے بیٹے کو موٹر سائیکل کا ہارن بجانے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔
4 جون کو سلمان خان نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ ندیم جوزف کو گھر سے باہر بلایا اور 24 گھنٹوں میں گھر خالی کرنے کی دھمکی دی۔ جس پر ندیم نے 15 پر کال کی مگر پولیس کے پہنچے سے پہلے ہی سلمان خان نے اور اسکے بچوں پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ندیم جوزف کے پیٹ میں گولی لگی۔ فائرنگ کی آواز سن کر جب ندیم کی ساس باہر آئی تو ملزمان نے اس پر بھی فائر کھول دیا جو اسکے بائیں کندھے کو چھو کر گزر گیا۔
فائرنگ کی آواز سن کر اس گلی کے تمام مسلم نے اپنے دروازے بند کر دیے۔ ندیم نے 1122 پر کال کر کے اطلاع دی۔ ندیم اور اسکی ساس الزبتھ پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں داخل ہیں۔
یہ دنیا ایک جنگل ہے جہاں طاقتور اور خونخوار جانور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر معصوم اور کمزور لوگوں کو کھا جاتے ہیں_ کسی انسان ہونے کے دعویدار میں مظلوم اقلیتی شہریوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے کا ظرف ہے نہ ہی حوصلہ_۔۔۔۔!!!
یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے ہر آئے روز ہم اس طرح کے بے شمار واقعات دیکھتے سنتے آرہے ہیں ۔ برتری اور فضیلت کی “ میں “ میں ڈبی ہوئی یہ قوم اپنے جیسے ہی انسانوں کو اپنے ہی بنائے ہوئے ترازو میں تول کر کمتری کا ٹیگ جاری کر دیتی ہے ۔۔ کبھی ذات پات ، کبھی رنگ و نسل اور کبھی مذہب اور فرقے کی بنیاد پر اور یہ سب اپنی صرف دوٹکے کی میں کو تسکین پہنچانے کے لئیے

