0

حقوق العباد :: تحریر: قاسم یوسفزئی

ایک مسلمان جہاں حقوق اللہ کا پاسدار ہے، وہیں حقوق العباد کی ادئیگی کا بھی ذمہ دار ہے۔ بلکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہےکہ میں اپنے حقوق تو معاف کرسکتا ہوں لیکن بندوں کے حقوق نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اگر ہم حقوق العباد کو اہمیت نہ دیں تو معاشرہ ظلم ونا انصافی کا گہوارہ بن جائے اور امن وسکون تباہ وبرباد ہوجائے ہمارا فرض ہے کہ اہل وطن کے حقوق کا برابر حیال رکھیں ۔والدین،اساتذہ،ہمسایوں،رشتہ داروں،دوستوں،بوڑھوں،بیماروں،یتیموں،حاجت مندوں کے حقوق کی پاسداری کو قومی ودینی فریضہ جانیں اور انکی راحت ومسرت کے لیے ایثار کا مظاہرہ کریں ۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰاور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ اس شحص سے کبھی راضی نہ ہوں گے جو دکھی انسانوں کی خدمت کے بجائے ان کی زحمت کا باعث بنتے ہیں۔ یعنی یتیموں اور مسکینوں کا حق مارتے ہیں اور ان کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ۔ ”جو یتیم کا مال کھائے گا اس پر وبال آئے گا ۔“
”بیوہ اور مسکین کےلیے بھاگ دوڑ کرنے والا اجر کے اعتبار سے اس شحص کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے اور روزہ رکھے اور رات بھر نماز پڑھتا رہے۔“ آج کا انسانی معاشرہ ایسے افراد سے بھر پڑا ہے جو حقوق اللہ تعالی کی آڑ میں حقوق العباد کو سلب کرلیتے ہیں ۔ نیز بظاہر بڑے پرہیزگار اور نیکو کار دکھائی دیتی ہیں، لیکن غریبوں اور یتیموں کا مال اڑانے اور حق داروں سے نا انصافی برتنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے، بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے۔ کہ صوم وصلوت کی پابندی کرنے والے اور نیکی رسائی کا درس دینے والے بڑے سخت گیر واقع ہوئےہیں۔ وہ یتیموں بچوں اور ماتحتوں سے ایسا سلوک کرتے ہیں۔کہ ان سے جانور بھی پناہ مانگتے ہوں گے۔اور شاید عذاب الہی ان پر ٹوٹ پڑنے کے حکم کا منتظر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے معلمین اور واعظین کی اولادیں اپنا دوست نہیں دشمن سمجھتے ہیں۔ اور لمحہ بہ لمحہ انکی محبت سے گریز کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں