0

جو وائرس ہندوستان کو لگا :: تحریر: حبا نوید ملک

یوں لگتا ہے ہر جانب وائرس ہی وائرس ہو۔ چین سے کورونا وائرس، امریکا سے ٹرمپ وائرس لیکن جو وائرس مودی کی شکل میں اس خطے کو لگ چکا ہے وہ تو جنرل ضیاء الحق سے بھی بد تر وائرس ہے۔
دلی میں پونے تین سو سال پہلے نادر شاہ آیا تھا اور آج وہاں پھر مودی آیا ہے، اس نے برہنہ شمشیر سے دلی کو لہولہان کیا تھا اور اس نے زبان سے نفرت کے بیو پارمیں سب کو مات دے دی۔ میں نے یوٹیوب پر ہندوستانی ٹی وی چینلزکے ٹاک شوز دیکھے، انتہائی نفرت کا بازارگرم تھا۔ وہ تمام اینکر جیسے چھوٹے چھوٹے مودی تھے اور ایسے نہ جانے کتنے ہونگے جو مسلح ہوکر، لاٹھی ڈنڈا ہاتھ میں لے کر راستوں پر دندناتے پھرتے ہیں اور پولیس ان پر پہرا دیتی ہے۔ان کو جانے دیتی ہے کہ جا ؤ اور جا کر مسجدیں جلاؤ، مسلمان کو مارو۔
عدالتوں کو جیسے چپ لگ گئی ہے، ہندوستان کے آئین کے بنیادی ڈھانچے کی تھیوری ریزہ ریزہ ہوگئی ہے۔یہ جو نفرتیں ہیں اچانک جنم نہیں لیتیں لیکن ہوتا کچھ یوں ہے کہ یہ لوگوں کے مفاد کے ذریعہ بن جاتی ہیں۔ جس طرح ہٹلرکے ہاتھوں شاندار جرمنی ٹوٹ پھوٹ گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں پاکستان کا کیا انجام ہوا، جنرل ایوب نے مشرقی پاکستان کا یا اس سے پہلے جو رواداد اس نے رقم کی، کسی اور نے نہیں کی۔ ہمیں کسی اور نے نہیں، ہم نے خود اپنے آپ کو لوٹا ہے۔
مودی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ہوٹل پر چائے کی پیالی کیسے بکتی ہے۔ اب مودی کو چائے نہیں نفرت کا معجون بیچنا ہے۔ بہت آسانی سے اور بہت تیزی سے یہ معجون بکتا ہے۔ ہوش و عقل کی بات نہیں بکتی، محبتوں کے پیغام نہیں سنے جاتے۔ ہری پرساد کی بانسری ہو، ذاکر حسین کا طبلہ ہو، بسم اللہ خان کی شہنائی ہو یا روی شنکرکا ستار ہو۔ سب کے سب بے بس۔ یہاں تک کہ ہندوستان کے سپریم کورٹ کا میزان بھی۔
مودی اور ٹرمپ میں کتنی چیزیں یکساں ہیں۔ وہ امریکا میں سفید فام نیشنل ازم بیچتا ہے، اسلام فوبیا پھیلاتا ہے اور موی یہی کام ہندوستان میں کرتا ہے۔ ہم بھی معجون بیچتے ہیں مگرکم ازکم ضیا الحق جیسا نہیں۔ یہ ریاست یہ اقتدار لوگوں کی امانت ہے۔ یہ لوگوں کا ہی ہے۔ یہاں بندوق کی زور پر تالا آزمائی ہوئی، وہاں بیلٹ باکس کو کرپٹ کر دیا گیا ہو۔ ووٹر کے ذہن کو برین واش کردیا گیا۔ وہ بیانیہ جوکسی کا بھی نہیں، نہ گاندھی کا نہ نہروکا اور نہ ہی آزاد کا۔ خدا خیر کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں