0

جنریشن گیپ :: تحریر: صبین راشد

ہمارے معاشرے میں اکثڑ ہر گھر میں جب بھی بڑے بزرگ مل کر بیٹھتے ہیں تو گفتگو کا موضوع ایک ہی ہوتا ہے کہ ‘‘ارے زمانہ بہت بدل گیا ہے’’ ‘‘ہمارا بھی کیا دور تھا بچے بڑوں کی عزت کرتے تھے’’ ہر دور میں یہ باتیں ہوتی رہی ہیں۔ موجودہ دور میں بھی نئی اور پرانی نسل کے مابین جنریشن گیپ کی باتیں ہوتی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑامسئلہ ہے۔ ویسے تو جنریشن گیپ ایک قدرتی عمل ہے۔ ہر نئے دور میں تعلیم ، معاشرت ، تہذیب ، رہن سہن ، ملنے جلنے کے طریقے ، رویہ ، لباس ، فیشن ہر چیز بدل رہی ہے۔
اصل میں جنریشن گیپ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب دو افراد مختلف زمانے ، ماحول اور حالات میں پیدا ہوئے تو ان کے نظریات مختلف ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 1960ء میں پہلی بار جنریشن گیپ کا تصور وجود میں آیا جس کے بعد بڑھتا ہی چلا گیا۔
اولاد ماں باپ کےلئے دنیا کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ والدین اولاد کے شاندار کیرئیر اور بہتر مستقبل کےلئے پریشان ہوتے ہیں پیسہ کماتے ہیں تاکہ بچوں کا مستقبل سنوار سکیں۔ اس دوران ماں باپ بچوں کو نظر اندا ز کرنے لگتے ہیں۔ یہ منفی رویہ بچوں کو والدین سے دور کرتا ہے۔ ایسے میں بچے حساس اور ضدی بن جاتے ہیں۔ کیونکہ وہ ماں باپ کی توجہ چاہتے ہیں۔ والدین کو اس بات کا إحساس تب ہوتا ہے جب بچے ان کے سامنے غصے کا اظہار انکی بات کاٹ کر کرتے ہیں۔
پہلے دور میں ہمارے معاشرے میں کچھ تہذیب بھی تھی ۔ ہر گھر میں خاندان کے بزرگ کو عزت اور احترام دیا جاتا تھا۔ فیصلوں میں ان کی رائے مقدم رکھی جاتی تھی ۔ عموماً گھر کے بچے اور بڑے افراد بھی اپنے بزرگوں کے آگے سر خم اور لہجہ نرم رکھتے تھے۔ بچوں کی تربیت سے لے کر ان کی شادیوں میں بزرگوں کی رائے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ لیکن آج کے دو رمیں نئی نسل اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے۔ جنریشن گیپ کو ختم کرنے کےلئے ضروری ہے کہ مفاہمت کی صورت تلاش کی جائے۔نہ صرف تبدیلیوں کو قبول کیاجائے بلکہ بدلتی مصروفیات اور ماحول میں خود کو ڈھالا جائے اور یہ کام بڑے بزرگ ہی کر سکتے ہیں۔ شکوے شکایت کی بجائے محبت اور شفقت سے کام لیاجائے۔ بڑوں کو چاہیے نئی نسل پر اپنی مرضی نہ تھوپیں ۔ بعض اوقات ان کے فیصلے درست اور بہتر بھی ثابت ہوتے ہیں۔ آپس میں تبادلہ خیالہ کیاجائے۔
نئی نسل کا ساتھ دیا جائے نئی نسل کی مانیں زمانے کے مطابق نئے طور طریقوں سے بچوں کی پرورش اور تربیت کرنا چاہتی ہیں۔ انہیں اس کی آزادی اور اختیار دیں۔ اہم فیصلوں میں شریک کریں اور ان کی رائے کو بھی اہمیت دیں۔
دنیا میں ہر طرح کے لوگ موجود ہوتے ہیں کسی ایک کے برا ہونے کی وجہ سے آپ سب کو بر ا نہیں کہہ سکتے ہیں۔آج کل ماں باپ اپنے خیالات نظریات مرضی بچوں پر مسلط کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ بچوں کی اس میں دلچسپی ہے یا نہیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں ۔ بچوں کے جو مسئلے اور خیالات ہیں وہ غور سے اور پیار سے سنیں ۔ اور پھر ان کو مشورہ دیں ڈانٹ ڈپٹ بچوں کو بگاڑ دیتی ہے۔ بچہ خود سر ہوجاتا ہے۔ بچہ گھر والوں کی بات ماننے کی بجائے باہر والے لوگوں پر بھروسہ کرتا ہے۔ اس طرح والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ اس جنریشن گیپ کو ختم کرنے کےلئے بہت ضروری ہے کہ محبت اور پیار سے بچوں کو اعتماد میں لیاجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں