0

توحيد!! توحيد کیا ہے؟ :: تحریر: محمد داؤد

دیکھا جائے تو اسلام کا پہلا رکن ہے۔ سوچا جائے تو انتہائی گہری بات ہے۔ توحید کا تقاضہ ہے الله کو ایک ماننا، اس کے ساتھ کوئی شریک نہ ٹھرانا، اسی کو عبادت کے لائق سمجھنا، بس اسی کی مدد طلب کرنا۔ اور اگر تفصیل سے بات کی جائے تو۔۔۔صرف اسی کا ساتھ مانگنا، صرف اسی کو ٹوٹ کے چاہنا، صرف اسی کا ہو جانا، صرف اسی کو سہارا سمجھنا، یہ سب باتیں بھی توحید سے ہی جڑی ہیں۔
ہمیں لگتا ہے، صرف دوسرا کلمہ پڑھ لینا اور صرف ایک رب کی عبادت کر لینا، بس یہی ہے توحید۔ حلانکہ توحید اس سے کئی درجے آگے کی بات ہے۔
شرک کیا ہے؟ اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا۔ کس میں؟ عبادت میں۔
نہیں!! صرف عبادت میں شریک ٹھہرانا ہی شرک نہیں ہوتا۔ ہاں شرک کی بھی کئی قسمیں ہیں لیکن سب سے خطرناک شرک وہ ہے جو ہم جان بوجھ کر تو نہیں کرتے لیکن اگر ہو جائے تو اسے روکتے بھی نہیں۔
محبت کیا ہے؟ کسی کا اچھا لگنا؟ ہاں۔ کسی کو پانے کی خواہش کرنا، اور خواہش کا اس قدر بڑھ جانا کہ اس کے بغیر زندگی کا تصور ہی آپکو جھنجوڑ کے رکھ دے۔ کیا یہ محبت ہے؟ نہیں!! یہ غلامی ہے۔ کسی کو پا لینے کی خواہش اور کسی کو کھو دینے کا درد اس قدر زیادہ ہو کہ آپ اس کے لیے اپنی جان بھی تیاگ دینے سے نہ ہچکچائیں۔ یہ محبت نہیں ہے۔ یہ غلامی ہے۔ اپنے نفس کی غلامی، اپنی خواہشات کی غلامی۔ تو کیا خواہشات اتنی بڑھ گئیں کہ آپ ان کے غلام بن گئے؟ کیا کھو دینے کا خوف اتنا زیادہ ہے کہ جان پر حاوی ہو گیا ہے؟ کیا یہ شرک نہیں؟ ہر لمحے اس شخص کو سوچنا، ہر لمحے اس کو کھو دینے کا خوف رہنا، ہر لمحے اس کی یاد میں گم رہنا۔ نہ ملا تو کیا ہوگا؟ کیا یہ سب باتیں شرک کے زمرے میں نہیں آتیں؟ کہ وہ دماغ جو اس قادر مطلق نے بنایا ہے وہاں کسی اور کی یادوں کو بسایا جا رہا ہے، وہ دل جو اس واحد کی تخليق ہے اس میں کوئی اور بسا ہوا ہے، کیا یہ شرک نہیں؟
‘الہ’ یعنی معبود۔ معبود کا مطلب عبادت کے لائق۔ لازمی نہیں کہ جس کے آگے آپ سجدہ ریز ہیں وہی ہے معبود۔ معبود وہ بھی ہے جس کے آگے آپکا دل جھکتا ہے، جس کے لیے آپ کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں، جس کے آگے اپنی جان بے معنی لگتی ہے، جس کے بغیر جینے کا تصور نا ممکن ہے، جس کو پا نہ سکے تو ٹوٹ جائیں گے۔ آپ ہر اس چیز کی عبادت کرتے ہیں جس کو کھونے سے آپ ڈرتے ہیں، جس کے ہونے سے آپ زندہ محسوس کرتے ہیں۔ کسی کے لیے یہ معبود اس کا پیسہ ہے، کسی کے لیے اس کے ماں باپ، کسی کے لیے اس کی اولاد، کسی کے لیے کسی انسان کی محبت۔
لوگ کہتے ہیں، دل ٹوٹ گیا۔ جس کو چاہا وہ ملا نہیں۔ کیسے ملتا؟ اللہ سے بڑھ کر کسی اور کو چاہو گے تو ٹوٹ ہی جاؤ گے۔ دنیا کی محبت میں سوائے تھکاٹ اور تکلیف کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
دل کیا ہے؟ ایک گوشت کا لوتھڑا جس پر ہماری زندگی منحصر ہے۔ اگر یہ رک جائے تو سمجھو زندگی ختم۔ یہ تو ہے جسمانی دل۔
ایک ہوتا ہے روحانی دل۔ جس میں محبتیں بستی ہیں، جس میں بغض ہوتا ہے، جس میں حسد ہوتا ہے، جس میں انا ہوتی ہے ، جس میں رحم ہوتا ہے، جس میں ظلم ہوتا ہے، جس میں نفرت ہوتی ہے، جس میں شفقت ہوتی ہے اور باقی سب ملے جلے جزبات۔
ہمارے دل کو کئی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تا کہ مختلف قسم کی محبتوں کو مختلف حصوں میں رکھا جائے۔ جیسے ماں باپ کی محبت، اولاد کی محبت، بیوی یا شوہر کی محبت یا کسی نا محرم کی محبت۔
لیکن دل کا سب سے پہلا اور سب سے گہرا حصہ صرف ایک ذات کے لیے ہے، وہ ذات جس نے یہ دل بنایا ہے۔ اللہ!!
اگر اس حصے میں اس کی محبت نہ رکھی جائے تو انسان تباہ ہو جاتا ہے۔ وہ یکتا ہے، تو شراکت قبول کیسے کرے گا؟
جب اس کی جگہ ہم کسی اور چیز کو رکھ دیتے ہیں تو زندگی سے سکون چھن جاتا ہے۔ اداسیاں گھیر لیتی ہیں۔ اور سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا غلط کیا جو سکون چھن گیا۔ جو جگہ صرف اور صرف اللہ کے لیے بنائی گئی ہے اس جگہ جب کسی اور چیز کو لا کر رکھ دیا جائے گا تو کیا انسان خوش رہ سکے گا؟ کیا سکون حاصل ہو پائے گا؟ نہیں۔
اللہ کو دل میں وہ مقام دو جو اسکا حق ہے۔ پھر دیکھنا سکون کیسے واپس لوٹ آئے گا۔
دنیا ایک سفر ہے، منزل نہیں۔ منزل تو آخرت ہے۔ اس میں ایسے رہو جیسے مسافر ہو۔ وہ مسافر جو مشکلیں جھیلتے جھیلتے ایک دن اس جگہ پہنچ جائے گا جہاں سکون کو پا لےگا، ازلی سکون۔
امام ابن القیم نے دنیا کو سمندر سے تشبیہ دی ہے اور ہمارے دل کو اس کشتی سے جو سمندر میں تیر رہی ہے۔ کشتیاں کیسے ڈوبتی ہیں؟ جب ان میں سمندر کا پانی رسنے لگے۔ وہ توازن
بر قرار نہیں رکھ پاتی اور پانی کے بوجھ سے ڈوب جاتی ہیں۔ ہمارا دل بھی ایسا ہی ہے جب اس میں دنیا سمانے لگتی ہے تو یہ ٹوٹتا چلا جاتا ہے۔ جب دنیاوی محبتیں دلوں میں بس جائیں تو خالق کی محبت خود بہ خود ہی دم توڑ دیتی ہے۔ جس دن تمہارے دل میں اس دنیا کے بجائے اللہ کی محبت ہو گی، وہی وہ دن ہوگا جب تمہارا ٹوٹا ہوا دل بھی جڑ جائے گا۔ اپنی خواہشیں اپنی محبتیں اس کے لیے قربان کر دو وہ تمہیں اتنا دے گا کہ سارے درد بھول جاؤ گے۔ یہ وسوسے یہ اذیتیں سب دنیاوی ہیں۔ دنیا کو نکال دو دل سے۔ سکون پا لو گے۔ جو پا نہیں سکے/سکتے اس کا سوگ منانا کیسا۔
بس دل میں اللہ کو بسا لو، اور کہہ دو کہ جو اللہ چاہے گا وہی بہترین ہوگا۔ جو اسکی رضا وہی میری رضا۔ پھر دیکھنا کیسے نور پھوٹے گا دل میں۔ سارے سوگ ختم ہو جائیں گے، ساری اذیتیں خاک ہو جائیں گی، سکون ہی سکون ہوگا۔

اللہ کو اپنا لو، اسے اپنا لو جو ہر گھڑی تمہارے لوٹنے کا انتظار کرتا ہے، وہ رب جو تمہاری نا فرمانیوں کے باوجود تم سے پیار کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں