0

تمباکو نوشی :: تحریر: صبین راشد

محبت کے حوالے سے دنیا بھر کو خطرات کا سامنا ہے۔ ان خطرات میں تمباکو نوشی سر فہرست ہے۔ صدیوں سے تمباکو نوشی انسانی زندگی میں زہر گھول رہی ہے۔ تمباکو نوشی سے صر ف وہی شخص متاثر نہیں ہوتا جو اس کا عادی ہو بلکہ وہ لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں جو آس پاس ہوں۔ سگریٹ کے پھیلے ہوئے دھویں سے متاثر افراد بھی بیمار ہوجاتے ہیں۔ جب صحت مند افراد اس دھوئیں میں سانس لیتے ہیں تو ان میں دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونے کو طبی اصطلاح میںPassive Smokingکہا جاتا ہے۔ مثلاً سگریٹ ، بیڑی ، حقہ ، سگار ، پائپ ، شیشہ وغیرہ۔
تمباکو نوشی میں تقریباً 4 ہزار مضرصحت کیمیائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ جس میں ایک نکوٹین بھی ہے۔ نکوٹین وہ کیمیکل ہے جو ہیروئن ، چرس ، افہیم اور الکحل کے نشے کی طرح انسان کو اپنا عادی بنا لیتا ہے۔ نکوٹین زہریلے اور نشہ آور اثرات کا حامل ہے۔ وقتی طور پر نکوٹین سگریٹ پینے والے کو سکون دیتی ہے۔ اثر ختم ہوجانے پر پھر اس کی دوبارہ خواہش پیدا ہوتی ہے۔ جب نکوٹین خون میں شامل ہوتی ہے تو خون کو گاڑھا کرتی ہے۔ سگریٹ پینے کے 15سے 30منٹ بعد Phnothrin نامی مادہ خون کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مادہ ہے جو اپنے زہریلے پن کی و جہ سے سرطان کا موجب بنتا ہے۔ دنیا بھر میں ہزاروں لوگ پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔ ان میں 90فیصد اموات تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
عام افراد کی نسبت تمباکو نوشی کرنے والے افراد کے اندر مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ مثلاً بلڈ پریشر ، یورک ایسڈ ، ہارٹ اٹیک ، پھیپڑوں کا خراب ہونا شامل ہیںَ۔اس کے علاوہ تمباکو نوشی سے سانس سے بدبو آنے لگتی ہے۔ لباس اور ہاتھ پاوں میں بھی تمباکو نوشی کی ناگوار بو بس جاتی ہے۔ اور مضر اثرات ناقابل علاج بیماریوں میں تبدیل ہوجاتے ہیںَ تمباکو نوشی کرنے والے افراد یہ جانتے ہوئے بھی کہ سگریٹ مضر صحت ہے اپنی صحت اور زندگی خود تباہ کرتے ہیںَ
تمباکو نوشی کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ تمام عوامی مقامات ، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر اسپتال ، تعلیمی ادارے ، ائیر پورٹس ، بس اڈے ، سینماہالز ، وغیرہ میں تمباکو نوشی جرم قرار دی جائے۔ قانوناً اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت نہ کیاجائے۔ 2020کے بجٹ میں تمباکو پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ لیکن ان تمام تدابیر کے باوجود تمباکو نوشوں کی تعداد میں کمی نہیں آرہی ۔ اس کی بڑی وجہ تمباکو نوش کی قوت ارادی کا کمزور ہونا ہے۔ پھیپڑوں کی صحت کےلئے سب سے ضروری تمباکو نوشی کے استعمال میں کمی لانا ہے۔ اگر پھیپڑوں کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو سگریٹ پان، اور نشہ آور اشیا کا استعمال ترک کرنا ہوگا۔ ترک تمباکو نوشی کےبے شمار فوائد ہیںَ مثلاً 20منٹ میں بلڈ پریشر اور دل کی رفتار نارمل ہو جاتی ہے۔ 8گھنٹے بعد خون سے 90فی صد نکوٹین خارج ہوجاتی ہے۔ خون میں آکسیجن کی سطح نارمل ہوجاتی ہے۔ تمباکو نوشی چھوڑنے کے دو ہفتے بعد پریشانی ، بے چینی اور گھبراہت جیسی کیفیات کنڑول ہوجاتی ہیںَ
تمباکو چھوڑنے کےلئے ضروری ہے کہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے قریب رہیں۔ جسمانی ورزش کی جائے جیسے واک، جاگنگ وغیرہ ۔ کوئی جم جوائن کریں۔ تمباکو نوشی کے جو نقصانات ہیں وہ یاد کریں تاکہ آپ کا ذہن اس طرف مائل نہ ہو۔
شروع میں جب تمباکو کو ترک کیا جاتا ہے تو مزاج میں غصہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب بھی تمباکو کی طلب ہو تو ٹافی ، چیونگم ، سونف کا استعمال کیاجائے۔ تمباکو سے نجات حاصل کرنے کےلئے مضبوط قوت ارادی کا ہونا ضروری ہے۔ چند دنوں کی دشواری ساری زندگی کےلئے بہتر ہے۔ تمباکو نوشی چھوڑنے کےلئے صرف قانون سازی کافی نہیں ہے۔ اپنے آپ کو اس بری عادت سے دور رکھنا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں