بچوں کا سب سے قریبی تعلق ان کے والدین سے ہوتا ہے. وہ بڑی محبت اور شفقت سے اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں. لیکن اس کے ساتھ ساتھ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت ان کی نفسیات کہ مطابق کریں, کیوں کہ ہر بچہ دوسرے بچے سے مختلف ہوتا ہے، ہر بچے کی سوچنے کو سمجھنے کی صلاحیت الگ ہوتی ہے. یہ خوبی بچے کی خود ساختہ نہیں ہوتی بلکہ رب کائنات کی عطا کردہ ہوتی ہے. اس لیے والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ کل کو ان کہ بچہ اچھا انسان کہلاسکے .
والدین کو بچوں کے ساتھ دوستی اختیار کرنی چاہیے تاکہ بچہ بغیر کسی خوف کے ہر بات اپنے والدین سے بیان کر سکے. بچے کی نفسیات کو سمجھ کر بچے کو اس کی عمر کے مطابق سمجھائیں تا کہ جو بات آپ سمجھانا چاہ رہے ہیں وہ ان کی سمجھ میں آسانی سے آ جائے. میں اس حقیقت کو قبول کرتی ہوں کہ والدین کو بچوں کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے۔ وہ اپنے بچوں کو آزادی دے رہے ہیں لیکن ان کی ہر چیز پہ نظر رکھنا بھی والدین کی ذمہ داری ہے ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ” کہ کھلاؤ سونے کا نوالہ لیکن دیکھو شیر کی آنکھ سے۔”
بچے کی نفسیات کو سمجھنے کے چند اصول بتاتی چلوں.
بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں :
بچوں کو زیادہ سے زیادہ وقت دیں ان کے ساتھ اچھی اچھی باتیں کریں، ایسی معلومات دیں جس سے بچے کو کچھ سیکھنے کی دلچسپی پیدا ہو.
بچوں پر دباؤ نا ڈالیں :
بچوں پر کسی قسم کا دباؤ نا ڈالیں. وہ جو کرنا چاہتا کرنے دیں لیکن ہاں ! ماں باپ ہونے کے ناتے انہیں اچھے برے کا فرق ضرور بتایں.
مشائدہ کریں :
اپنے بچوں کی ہر حرکت پہ نظر رکھیں. وہ کیا کر رہے ہیں کہاں جا رہے ہیں.ان کی دوستی کیسی ہے.
حوصلہ افزائی کریں :
اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کریں، اگر کوئی اچھا کام کرے تو انعام دیں.
کیوں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسی دن سے والدین اپنے اپنے بچے کو سمجھنے لگتے ہیں اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں. ان کی نفسیات کو سمجھتے ہیں.بظاہر یہ آسان لگتا ہے لیکن یہ ایک صبر والا کام ہے. ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، اور ایک خاص شحصیت کا حامل ہوتا ہے اور آپ اس کی شحصیت کو بدل تو نہیں سکتے لیکن آپ ان کی رہنمائی ضرور کر سکتے ہیں والدین ہونے کے ناتے آپ کا فرض ہے.
0

