بقول شیکسپیئر، ظالم کے ساتھ رحم کر کے اُسے معاف کر دینا وہ واحد نا انصافی ہے کہ جس پر خدا خوش ہوتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات سمجھا جاتا ہے۔ اور اِس کی وجہ انسان میں وہ بے شمار ممکنہ خوبیاں ہیں، جن کا مظاہرہ کسی نہ کسی شکل میں ہر دور میں کسی نہ کسی فرد کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ انسان کی لا محدود خوبیوں میں سب سے اعلیٰ اور ارفع خوبی رحمدلی ہے۔رحم کرناوہ واحد انسانی خوبی ہے کہ جسے انسانیت کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔رحم وہ واحد خوبی ہےجسے ہر مذہب، ہر معاشرہ بلا امتیاز پسند کرتا ہے۔ رحم نہ مذہب کی قیدی ہے، نہ ہی کسی قبیلے کی۔ رحم تو اگر کسی کتے پر بھی کی جائے تو خدا سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، اور پوری دنیا رحمدل انسان کے آگے ادب سے آنکھیں جھکا لیتی ہے۔
2013 کے بعد سے پوری دنیا رحم کی پہچان کے طور پر جس تصویر کا سہارا لیتی ہے، جس انسان کی مثال دیتی ہے، اُس کا نام ہے عبد الستار ایدھی۔ عبدالستار ایدھی رحم کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ دنیا کی اکثریت کئی دہائیوں سے اُن کے اِس وصف کی قائل تھی، مگر اُن کی موت کے وقت کوئی بھی آنکھ بے نم نہ تھی۔ ہر ملک کے سر براہ، اور ہر لیڈر نے آپ کی خدمات کا اعتراف اور انسانیت کے نا قابلِ تلافی نقصان پر دٗکھ کا اظہار کیا۔
ایدھی 1928 میں پیدا ہوئے۔شہر گجرات، بھارت تھا۔ 1947 میں پاکستان ہجرت کر کے آئے اور کراچی میں رہے۔ اپنی تاریخ پیدائش معلوم نہ ہونے کے باعث یکم جنوری بتایا کرتے، جبکہ تحقیق کے مطابق اکثریت 28 فروری کو آپ کا یومِ پیدائش سمجھتی ہے۔ آپ انسانیت، رحمدلی، اور ہمدردی کے علوم میں اعلیٰ ترین تعلیم رکھتے تھے۔ ابتداء میں یہ تعلیم آپ کو آپ کی والدو سے ملی۔ کہتے تھے کہ والدہ بچپن میں دو آنے دیتی تھیں۔ ایک آنا میرے کھانے کے لیے جبکہ دوسرا کسی بھوکے کو کھلانے کے لیے ہوتا تھا۔ آپ کا قول مشہور ہے کہ ماڈرن انسان تعلیم یافتہ ہو گیا ہے، انسانیت بھول گیا ہے۔
آپ نے غربت کی زندگی دیکھی۔ لڑکپن میں ہی ماں بیمار ہو گئی اور ماں کو ہسپتال لے جانے کے لیے ایمبولینس کا انتظام بھی نہ ہو پایا۔ ریڑھی پر رکھ کر ماں کو اسپتال لے گئے اور ماں کی لعش کو ریڑھی پر ہی واپس لائے۔فیصلہ کیا، جو دُکھ خود دیکھا ہے، دوسروں کو دیکھنے سے بچائیں گے۔ ذات سے میمن تھے، سو میمن برادری کی فلاحی تنظیم میں شامل ہوئے۔ پھیری لگا کر پیٹ پالتےتھے۔ میمن برادری نے جب کسی اور برادری کی مدد سے انکار کیا تو تنظیم چھوڑ کر بھیک مانگنے لگے۔ اپنا پیٹ کبھی پھیری لگا کر، تو کبھی کمیشن پر کپڑا بیچ کر پالتے، بھیک مانگ کر غریبوں کی مدد کرتے۔ شروع میں مذاق اُڑایا گیا، پر ڈٹے رہے۔ آہستہ آہستہ لوگوں نے ساتھ دینا شروع کیا تو ایک مفت ڈسپنسری قائم کی اور یہاں سے ایدھی فاؤنڈیشن کا آغاز ہوا۔ کچھ پیسے اور جمع ہوئے تو ایمبولینس خریدی، جسے خود چلا کر غریبوں کو بغیر اجرات کے ہسپتال لایا لے جایا کرتے، تا کہ دوبارہ کسی ایدھی کو اپنی ماں ریڑھی پر گھسیٹنی نہ پڑے۔
مدد کرنے کے لیے کبھی مذہب نہیں پوچھا۔ باریش اور مسلمان ہونے کی وجہ سے دوسرے ملکوں میں فلاحی کام کے لیے جانے پر بھی دھر لیے جاتے، مگر اپنے اسلام کو اپنے اندر رکھ کر کہتے میرا مذہب انسانیت ہے۔ یتیم خانے، اولڈ ہومز، خواتین کے لیے رہائش، اور پتہ نہیں کون کون سے فلاحی سلسلے شروع کیے۔ بوڑھے ہو گئے، مگر غریبوں کے لیے بھیک مانگ کر فلاحی کام کرتے رہے۔ بن باپ کے بچوں کے لیے پالنے بنائے، کوڑے سے بچوں کو اُٹھایا، اپنا نام دیا، اور باپ کا سایہ بنے۔
پوری دنیا نے ایدھی کو بے شمار اعزازات سے نوازا، جن کا نام دوسروں کے لیے بڑا، مگر ایدھی کے لیے بہت چھوٹا ہے۔اِِن اعزازات میں گاندھی، لینن، لندن، اور متعدد امن انعامات شامل ہیں۔ ستارہ امتیاز اور جناح امن انعام کے علاوا کئی ملکی اعزازات سے نوازے گئے۔
فوجی پروٹوکول کے ساتھ دفنائے گئے۔ آپ 25 جون 2013 میں فوت ہوئے تو لاکھوں لوگ یتیم ہو گئے۔ انسان دوست ایدھی، انسانیت کی اعلیٰ ترین مثال تھے۔

