اگر میری قسمت میں اللہ تعالی نے اتنی بڑی ذمہ داری سونپی تو میں ایک مثالی وزیراعظم بن کر دیکھاتی۔ جس پر نہ صرف پاکستان کو فخر ہوتا بلکہ دنیا بھی اس ستارے کی پرستار ہوتی۔ بے شک پاکستان میں بے شمار مسائل ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کہ ان کا کوئی حل نہیں۔ میں ہر مسئلے کا حل تو نہیں بتا سکتی لیکن کچھ کو تحریر کر کے اس بارے اپنا مئوقف دے سکتی ہوں۔
*کرپشن سے چھٹکارا
کرپش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اگر حکومتی لوگ خود ہی کرپٹ ہوں تو بھلا ایسے میں ملک ایک وزیراعظم سے کیسے چلے۔ ایسے حالات میں بددیانت سے بچنا ہے اور ایمان والے کو اپنا ساتھی بنانا ہے۔ پیسے کی لالچ سے بچنا ہے اور عاجزی کو اختیار کرنا ہے۔ ان حالات میں جو ساتھ چلے گا وہی حکومتی عہدوں پر فائز ہو گا۔ ہر نگران کے اوپر ایک نگران ہو گا تاکہ اسے اس بات کا ڈر رہے کہ اس سے سوال ہوگا۔
*انصاف کا بول بالا
ہر انسان کو انصاف ملے۔ جو جرم کرے اسے سزا ملے۔ تاکہ اس کے دل میں جرم کا خوف۔ ایسے میں میڈیا کا ساتھ لوں گی تاکہ ہر کسی کے دل میں یہ بات بیٹھا دوں۔
*تعلیم کا فروغ
جہالت اور ناخواندگی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور پاکستان میں ابھی تک چالیس فیصد لوگ ناخواندہ ہیں۔ انہیں باشعور بنانا اور تعلیم دلوانا ضروری ہے۔
*مناسب اجرت اور رشوت کا خاتمہ
حکومتی سرکاری عہدیداروں کی تنخواہ ، ججوں اور پولیس کی تنخواہ میں اضافہ کروں گی تاکہ بغیر رشوت اور لالچ کے اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیں ۔
*آبادی میں اضافہ
آبادی میں تیزی سے اضافہ بھی بڑا مسئلہ ہے۔ خاص طور پر دیہات کی سطح پر فیملی پروگرام مہم چلائے جائے گی۔
*مساوات اور برابری
ہر شہری کو برابری کا درجہ دیا جائے گا۔ خواہ مرد ہو یا عورت۔ سب مل کر ملکی ترقی میں حصہ ڈالیں گے۔
*غربت سے نجات
غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات لیے جائیں گے۔ زکوة اور ٹیکس کے نظام کو یقینی بنایا جائے گا

