ایک سوال اکثر سننے میں آتا ہے کہ پاکستان کے اصل مسائل کیا ہیں اور آپ وزیراعظم ہوتے تو انہیں کیسے حل کرتے۔ سوچا کیوں نہ آج اس پر کچھ بات کر لی جائے۔
میرے نزدیک پاکستان کا وزیراعظم بننے سے پہلے بھی کافی کچھ کیا جانا ضروری ہے۔ جس میں سب سے اہم سیاسی شعور پیدا کرنا اور درست بنیادوں پر جماعت کی تربیت شامل ہے۔
میرے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ سسٹم (نظام) کا ہے۔ باقی سب مسائل ثانوی ہیں اور اسی سے پھوٹتے ہیں۔ جب تک سسٹم کو نہیں بدلا جائے یا کم ز کم اس میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات نہیں کی جائیں گی تو مسائل کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔
پاکستان کا سرمایہ دارانہ نظام استحصالی نظام کے مرہون منت ہے۔ پاکستان کی پالیسیز پر امریکہ کا بہت بڑا عمل دخل ہے جو اسے اپنے مفاد کی خاطر بناتا بگاڑتا رہتا ہے۔
سسٹم میں اصلاحات کرنے کے لیے بہترین لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اس وقت ایسا کوئی لیڈر یا سیاسی جماعت موجود نہیں جو اس مشکل کام کا بیڑا اٹھا سکے۔ کیونکہ پاکستان کا انتخابی نظام بذات خود کافی سارے پیچیدہ مسائل اور نقائص کا شکار ہے۔ ایسے میں جو لیڈر یا سیاسی جماعت اوپر آتی ہے اسے بہت سی مفاہمت اور سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں یوں اس کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں۔
ایک ایسی جماعت جو مسلسل جدوجہد کر کے آئے اور جس کا دامن صاف ہو ۔ جو منظم ہو اور جس کا ورکر باشعور اور تربیت یافتہ ہو، سیاسی فہم رکھتا ہو۔ خود سے سوچ سکتا ہو۔ یہ کام کر سکتی ہے۔
وزیراعظم بننے سے پہلے اپنی جماعت اور وکرز کی تربیت بھی کہیں ذیادہ ضروری ہے۔
حکومت بن جانے کے بعد جو کام کرنے ہیں ان میں سب سے پہلے ضروری ہے کہ پاکستان اندرونی طور پر مضبوط ہو۔ معیشت مستحکم ہو۔ قرضوں سے جان چھڑائی جائے۔ بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی جائیں۔ پڑوسی ممالک سے اچھے تعلق بنائے جائیں۔ دفاع کے بجائے تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی پر اخراجات کیے جائیں۔ بیرونی قرضوں سے جان چھڑائی جائے۔ یوں بیرونی دباو اور مداخلت میں کمی آ جائے گی اور پاکستان آزادانہ پالیسیز بنا سکے گا ۔ اور آگے کی جانب بڑھ سکے گا۔
پاکستان کی دیگر بڑے مسائل درج ذیل ہیں جو اصلاحات کے بعد درست ہو جائیں گے۔
معیشت
کرپشن
لوڈ شیڈنگ
دہشتگردی
سیاسی عدم استحکام
سول ملٹری تعلقات
بیروزگاری
ناخواندگی
آبادی کے مسائل

