یکم مئی’ یومِ مزدور’ وہ دن جسے مزدور کے علاوہ سب مناتے ہیں’ اس بار شائد وہ رنگ نہ جما سکے کہ کورونا کے دربار میں سبھی ایک ہوئے ہیں مگر متاثر صرف مزدور۔ مزدور کہ جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوتے تھے اب وقت کی بے رحم موجوں کے سہارے زندگی اور موت کی جنگ سے نبرد آزما ہے۔ خیر یہ قصہ پھر سہی ابھی فی الحال ایک طائرانہ نظر اس دن کی مناسبت سے۔
یومِ مزدور وہ دن کہ جس دن مزدور کے علاوہ سب چُھٹی کرتے ہیں اور اگر چُھٹی نہ ملے تو بسا اوقات بات احتجاج تک جا پہنچتی ہے۔ یومِ مزدور وہ دن کہ جو عالمی سطح پر مزدوروں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے مگر آس پاس نظر دوڑائی جائے تو رونگٹھے کھڑے کر دینے والے مناظر دل دہلاتے ہیں کہ ایسے دن بھی مزدور کو اپنے اور اپنے خاندان کے پیٹ کا دوزخ بھرنے کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ معاشی’ معاشرتی’ تعلیمی اور فکری پستیوں کا شکار پاکستانی معاشرے میں یکم مئی کے دن نام نہاد تقاریر’ ریلیوں کا انعقاد اور مزدور کی مشکلات پراُسکے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہمارے اپنے منہ پر طمانچہ ہیں۔
یکم مئی کے دن جب شہر میں نکلا جائے تو شہروں میں چوراہوں پر آنکھوں میں چند سو روپوں کی خاطر کسی بھی قسم کی مزدوری کرنے کو تیاریہ مزدور’ جنہیں انسان سمجھے جانے کے لائق بھی نہیں سمجھا جاتا’ آنکھوں میں بھوک سجائے کسی بھی سمت سے مزدوری کے لیے بلاوے کے منتظر نظر آتے ہیں۔ آج اگر ہم بحثیتِ قوم ترقی یافتہ اقوام کے سامنے بھکاریوں کی مانند نظر آتے ہیں تو اِس کی ایک بہت بڑی وجہ معاشرتی نا انصافیاں اور غریب طبقے کو مناسب حقوق نہ ملنا بھی ہے۔ آج مغرب اگر ترقی یافتہ ہے تواُسکی بڑی وجوہات میں معاشرتی عدل و انصاف اور غریب اور مزدور طبقے کے حقوق کا تحفظ نمایاں عناصر ہیں جو ایک اسلامی معاشرہ ہونے کے دعویدار پاکستانی معاشرے میں نظر آنا چاہیئے تھے مگر یہاں تو غریب کا استحصال’ متوسط اور امیر طبقے کے جیسے فرائض میں شامل ہے۔
مزدوروں کا عالمی دن یا انٹرنیشنل لیبر ڈے مزدوروں کے ساتھ یکجہتی اور انکے حقوق کے تحفظ کے عزم کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور ہماری نظرمیں مغرب میں لاکھ بُرائیاں سہی مگر یہ دن منانے کا سہرا بھی اُسی کے سر ہے۔ ایک وقت تھا جب مغرب میں مزدوروں کی کی زندگی کو ایک گدھے کے برابر بھی اہمیت حاصل نہ تھی۔ جانوروں کی مانند اُن سے دن میں سولہ سولہ گھنٹے کام لیا جاتا اور معاوضہ جیسے اُونٹ کے منہ میں زیرہ۔ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دواران زخمی ہونے کی صورت میں علاج معالجے کے اخراجات مزدور خود برداشت کرتا جبکہ فیکٹری مالکان ایسے حالات کی ذمہ داری سے بری الزمہ تھے۔ مزدور کی موت کی صورت میں ورثاء کسی بھی قسم کے معاوضے کے حق دار نہ تھے۔ مزدور کی ملازمت کا فیصلہ بھی مالک کی صوابدید تھی کہ جب جسے چاہا ملازمت پر رکھ لیا اور جسے چاہا برطرف کر دیا۔ آج کل کے ہمارے معاشرے کی طرح مزدور ہفتے میں سات دن کا م کرتا اور چُھٹی کا تو جیسے کوئی تصور ہی نہ تھا۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا’ اور امریکہ اور یورپ میں مزدوروں نے کئی تحاریک چلائیں۔ 1884ء میں فیڈریشن آف آگنائزڈ ٹریڈرز اینڈ لیبر یونینز کے اجلاس میں مزدوروں کے کام کے اوقاتِ کارسولہ سے کم کر کے آٹھ گھنٹے کرنے کا مطالبہ بہت اہمیت کا حامل تھا جسے تمام قانونی راستوں کے ذریعے منوانے میں ناکامی کی صورت میں یکم مئی سے ہڑتال اور احتجاجی تحریک کا اعلان ہوا۔ دو سال کے مختصر دورانیے میں اڑھائی لاکھ سے زائد مزدور تحریک میں شامل ہو گئے۔ امریکی شہر شکاگو سے شروع ہونے والی اس تحریک کو کچلنے کے لیے مقامی صنعتکاروں اور تاجروں نے پولیس کی ملی بھگت سے احتجاج کو کچلنے کی کوشش کی جس میں چار مزدوروں کی ہلاکت کے بعد وسیع پیمانے پر جلسے جلوسوں کا نہ تھمنے والاسلسلہ شروع ہو گیا۔ حالات کے بہت زیادہ خراب ہونے پر بائیں بازو اور مزدور تنظیموں کے سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر کے سزائے موت دے دی گئی۔ اس احتجاجی تحریک نے طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں ایسا اضافہ کیا یکم مئی 1890ء سے یکم مئی مزدورں کی جدوجہد میں کی یاد اور انکے حقوق کے تحفظ کے عزم کے دن کے طور پر منایا جانے لگا۔
پاکستانی معاشرے کی بات کی جائے تو ایسے بے حس معاشرے میں جہاں امیر امیر سے امیر تر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے شائد مزدور کا نہ کوئی پُرسانِ حال ہے اور نہ ہو گا۔ لفظ مزدور اس معاشرے میں ایک تماشا بن چُکا ہے جیسے مداری اپنے کرتب دکھانے کے لیے بندر یا ریچھ کو اپنے اشاروں پر نچاتا ہے ویسا ہی ایک تماشا ہمارا معاشرہ مزدور کے ساتھ کھیلتا ہے۔ ایک طرف مزدور کو حقوق دینے کی کھوکھلی باتیں کرنے والے جب اپنی بڑی بڑی ائیرکنڈیشنڈ لینڈ کروزروں میں مختلف چوراہوں سے گزرتے ہوئے آس پاس مزدوری کی آس لگائے مزدور دیکھتے ہیں تو اُنکے چہروں پر مکروہ مسکراہٹ
معاشرے کے منافق چہرے پر ایک طمانچہ رسید کرتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں بھی مزدور کے لیے ایک طبقاتی جدجہد کے شعور کی ضرورت ہے جس کے لیے مزدوروں کی خود متحد ہونا پڑے گا۔ نااہلی اور کرپشن کے مارے اس معاشرے میں ماضی کا سفید پوش طبقہ بھی بس اب پیٹ بھرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتا ہے تو ایسی صورتِ حال میں مزدور’ کہ جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے رہتے ہیں’ کی بے بسی کے عالم کا اندازہ لگانا کچھ خاص مشکل نہیں مگر اس بے بسی سے نکلنے کی جدوجہد خود مزدور کو کرنی ہو گی ورنہ معاشرہ تو شائد اُسکے جسم پر ہڈیوں کو چھپاتی جلد بھی نوچ کر ہڑپ کر جائے۔
کورونا وائرس کے بعد کی دنیا میں سب سے متاثر ہونے والے طبقات میں مزدور سب سے مظلوم نظر آتا ہے کہ جہاں دنیا کی بہت سی صنعتیں ہمیشہ کے لیے اپنا وجود کھعتی نطر آتی ہیں وہاں ایک مزدور کی کیا اوقات؟
0

