ستائیسویں شب کی آمد تھی۔ شہر کے ایم-پی-اے کے گھر افطار پارٹی کا انتظام زوروں پر تھا۔شہر بھر کے نامور افراد کی شرکت یقینی تھی۔عصر کے بعد مہمانوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں شہر کی نامور شخصیات کے ساتھ ساتھ محتلف سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔افطاری سے چند ایک منٹ پہلے دو مزدور، جو کہ دیہاڑی لگا کہ گھر جا رہے تھے، وہاں سے گزر ے۔دیہاڑی بھی کیا خاک لگی تھی،وہ تو اپنا دن ہی پورا کر کے جا رہے تھے، شاندار افطار پارٹی دیکھ کر اندر جانے ہی لگے تھے کہ ایم-پی-اے صاحب نے انکو روک دیا۔جو کہ امام مسجد کا انتظار کرتے ہوئے گیٹ پر کھڑے تھے کہ وہ آئیں اور دعا کروائیں۔ ان مزدوروں کو دیکھ کر جھڑک کر بولے، یہاں کیا کر رہے ہو؟ چلو شاباش نکلو یہاں سے۔یہ سن کر وہ مزدور بولے صاحب، ہمارا روزہ ہے، اگر افطاری کیلئے کچھ مل جائے تو نوازش ہو گی۔اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے گا۔ایم-پی-اے صاحب بولے،یہ پارٹی آپ لوگوں کے لیے نہیں ہے، چلو نکلو، اپنا حلیہ دیکھا ہے؟ کسی بھکاری سے کم نہیں لگتے۔تمہیں معلوم بھی ہے کہ اندر کتنے بڑے بڑے لوگ آئے ہیں؟ ان کے سامنے میری ناک کٹوانی ہے کیا؟اتنے میں مولوی صاحب بھی آ گئے۔جو ان کی باتیں یقینی طور پر سن چکے تھے۔وہ خاموشی سے اندر تشریف لے گئے۔چند منٹ بعد گیٹ کیپر کیلئے افطاری آئی۔افطاری بھی کیا تھی، چند کھجوریں، چار سموسے اور ایک جگ شربت۔جب کہ پارٹی کیلئے ان گنت ڈشیز تیار کروائی گئی تھیں۔اس گیٹ کیپر نے اپنی اس افطاری میں سے تھوڑا تھوڑا حصہ ان دو مزدوروں کو بھی دے دیا۔اس نے دیکھا کہ جو دو کھجوریں اور ایک ایک سموسہ اس نے ان دو مزدوروں کو دیا تھا، وہ اس کو بھی لپیٹ کر چل دیے۔پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جنھوں نے صبح ہمیں گھر سے نکلتے وقت کہا تھا کہ ”بابا، افطاری لیتے آنا”۔یہ دیکھ کر گیٹ کیپر سوچ میں گم ہو گیا اور نیلے آسمان کو تکتے ہوئے کہنے لگا کہ یا اللہ بے شک تیرے نزدیک تیرے سب بندے برابر ہیں اور تو بہترین رازق ہے اور تو جو چاہے تو ان امیروں کے ہاتھ بھی خالی کر دے۔
تو پھر ایسی افطار پارٹیوں کا کیا فائدہ کہ جن میں کیا معلوم کتنوں کا روزہ ہے اور کتنوں کا نہیں۔اور ایسے لوگوں کی افطاری کروانے کا کیا فائدہ کہ جن کی زندگی میں عیش و عشرت کے تمام سامان پہلے سے ہی موجود ہیں۔ان افطار پارٹیوں کے اصل حقدار تو یہ غریب لوگ ہیں جن کے بچے ان کا سارا دن راہ تکتے رہتے ہیں۔اور جن کی افطاری میں کھجور اور پانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔
بچے تو معصوم ہوتے ہیں وہ اپنے باپ کی امیری اور غریبی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔لیکن یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ایک دوسرے کا دکھ اور درد بانٹیں اور ایک دوسرے کی مدد کریں۔انسان کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی۔اس کے پاس جتنا پیسہ آتا ہے اس کی بھوک اور بڑھ جاتی ہے۔اپنے گھر کیلئے پچاس ہزار کا سامان خرید کر اور اے-سی والے کمروں میں آرام کر کے، شام کو اگر کسی غریب کو سڑک پر مانگتا ہوا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں۔” سب ناٹک ہے۔”ارے تم لوگوں کو کیا معلوم کہ اولاد کی بھوک ماں باپ کو سڑک تک کیا کسی کے بھی دروازے پہ لے کر جا سکتی ہے۔ اولاد کا دکھ اور رونا کسی بھی ماں باپ سے کبھی برداشت نہیں ہوتا۔اور کس سفید پوش عورت یا مرد کا دل کرتا ہے کہ لوگ اسے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھیں؟
انسان کی ہوس کی حد یہ ہے کہ وہ بینک میں ایک کروڑ روپے اگلے سال کیلئے تو جمع کروا سکتا ہے مگر زکوٰۃ دینے سے گھبراتا ہے۔کبھی سوچا ہے کیوں؟
کیوں کہ ہم خود غرض ہو چکے ہیں۔اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ دولت، یہ کوٹھیاں، یہ جاگیریں ہی ہمیں مرنے کے بعد غسل اور کندھا دیں گی اور ہماری مغفرت کی دعا کریں گی۔ لیکن چھوڑیں جناب، ”موت آئیگی تو دیکھی جائے گی”۔مگر یاد رکھو اصل دولت ایمان کی دولت ہے۔اور جس نے اس دنیا میں جتنا پیسہ کمایا اسے اتنا ہی بروز قیامت حساب دینا ہو گا۔مومنو! اس حساب سے ڈرو۔ڈرو اپنے رب سے کہ جو دینے پر بھی قادر ہے اور چھین لینے پر بھی۔
حال ہی کی بات ہے، گھر کے پاس ایک مسجد کے پاس نظر ایک غریب بچے پہ پڑی۔مفلسی اور بے بسی اسکے چہرے پر ایسے چھلک رہی تھی جیسے صاف شیشے میں ہمیں اپنا عکس دکھائی دیتا ہے۔میں نے اس کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا، بیٹا کیا بات ہے؟ اس نے کہا، سامنے دیوار پہ لکھا ہے کہ ”مسجد زیر تعمیر ہے، چندہ دے کر ثواب دارین حاصل کریں، کاش میں بھی مسجد ہوتا۔”پھٹے کپڑوں میں ملبوس اس بچے نے بھوکے پیٹ مجھے یہ جواب دیا اور میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکال دی۔
؎تڑپ کر بھوک سے جاگتے ہیں، انہیں نیند نہیں آتی،
یہ تو غریب کے بچے ہیں صاحب، ان پر عید نہیں آتی
خدا کے واسطے، عقل کرو۔یہ بھی ہمارے ہی لوگ ہیں۔یہ کوئی اور نہیں، ہمارے ہی مسلمان بھائی، بہن، اور بچے ہیں۔ ”ایسے لوگوں کی امداد کرو جن کا چہرہ سوال ہوتا ہے اور زبان بے سوال ہوتی ہے۔”
لعنت ہے ایسی کمائی پہ جو تمہیں انسانیت سے دور لے جائے۔اپنے ماں باپ کا درد تو ہر کوئی کر لیتا ہے۔مگر یاد رہے، ” دنیا مکافات اعمال ہے۔وقت اورحالات بدلنے میں ذرا سی دیڑ لگتی ہے۔”
خود پرستی سے نکل کر کبھی یہ بھی سوچو کہ کوئی ایسا باپ بھی ہمارے ارد گرد موجود ہے کہ جس کی جیب اس رمضان میں بالکل خالی ہے۔پھر بھی محنت اور مزدوری کیلئے روز گھر سے نکلتا ہے۔اور اپنے بچوں سے وعدہ کرتا ہے کہ آج فروٹ لے کر آؤں گا۔مگر جب سارا دن گزرنے کے بعد بھی کچھ ہاتھ نہیں آتا تو گھر جا کر بچوں سے کہتا ہے، بیٹا، سموسے والی دکان بند ہو گئی تھی،فروٹ اچھا نہیں تھا، بہت لمبی بھیڑ تھیی، آج کام پہ بھی دیر ہو گئی، کل ضرور لے آؤں گا۔
ایسا لگتا ہے کہ روزے ہمارے لیے ختم ہو جائیں گے، اِن کے لیے نہیں۔ عید ہمارے لیے آئے گی، ان کے لیے نہیں۔ ہمارے بچے، بچے ہیں،ان کے بچے نہیں۔ ہمارا درد، درد ہے، ان کا درد نہیں۔ہم اشرف المخلوقات ہیں۔ مگر یہ لوگ نہیں۔
0

