پتنگ بازی پر عائد پابندی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ۔
حکومت نے پتنگ بازی پر پابندی تو لگا رکھی ہے لیکن عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پتنگ بازوں اور پتنگ فروشوں کے خلاف عملی اقدامات کرے۔ کیونکہ اس پر پچھلے بارہ سالوں سے پابندی ہے ہے اور اس کے باوجود کھلے عام بیچی اور خریدی جاتی ہے۔ معصوم بچوں کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ معمولی پتنگ اور ڈور کے پیچھے بھاگنے والے بچے لاپروائی میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ایسا ہی واقعہ پیش آیا کلر سیداں میں جب نو سالہ عثمان کا جنازہ گھر آیا۔ماں آنسوؤں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوت ہو گئی اور باپ اکلوتے وارث کی لاش دیکھ کر آئی سی یو میں چلا گیا۔
دوسری طرف ماں باپ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لاک ڈاون کے عرصے میں جب بچے گھروں میں موجود ہیں ان کے لیے تفریح کا کوئی متبادل اور مناسب انتظام کریں۔ بچوں کو گھر میں ان ڈور گیمز تک محدود رکھیں۔ ورنہ یہ ساری زندگی کا روگ اور پچھتاوا بن سکتا ہے۔

