0

اُف یہ موبائل :: تحریر: شائستہ خوشی

ہم پاکستانیوں کی یہ عادت ہے کہ ہم خود تو آج تک کوئی چیز ایجاد نہیں کر سکے لیکن جو ہیں کوئی چیز ایجاد ہوتی ہے اور ہمارے ملک میں آتی ہے تو ہم بڑے شوق سے اس کو اپنانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔

نہ ہم نے کبھی اس کے استعمال کے فائدے، نقصان سوچے ہیں ۔ نہ اس کی ضرورت کے بارے میں سوچا۔ اندھادھند اپنا لیا۔ یہی کچھ ہم نے موبائل فون کے ساتھ کیا اور اسے تفریح کا ذریعہ بنا لیا۔ جس کو دیکھو ہاتھ میں یہ کھلونا لیے گھوم رہا ہے۔

جس طرح بقول ایک پاکستانی کے انگلینڈ میں لوگ اتنے پڑہے لکہے ہیں کہ وہاں کا بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے اسی طرح ہمارے ہاں بچے بچے کے پاس موبائل ہے لیکن ہمارا تو یہ حال ہے کہ کار والا ہویا موٹر سائیکل پہ ہو یا سائیکل پہ حتی کے گدھا گاڑی والا بھی موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھا ہے۔ مزار میں جدھر دیکھو لوگ کانوں پر ہاتھ رکھ کر گھوم رہے ہیں جیسے سب ناکردہ گناہوں سے توبہ کر رہے ہوں۔ ہماری نئی نسل کا تو اس باکس نےبیڑا غرق کر دیا ہے دوستی جیسے مقدس رشتے کو بد نام کر دیا ہے۔

جس کا نمبر مل جائے وہی دوست اور یہ تعلق صبح شام بدلتے ہیں۔ بچے ماں باپ کے سامنے نا جانے کس کس کے ساتھ باتیں کرتے ہیں ماں باپ کو کچھ خبر نہیں کہ پیغامات کہاں سے آتے ہیں اور کہاں جاتے ہیں ان بےچاروں کو کیا خبر میاں بیوی کے ساتھ باتیں کرنے کی بجائےگرل فرنڈ کے ساتھ ٹاک شاک کر رہا ہو تا ہے اور اگر پوچھو آپ کیا کر رہے ہو تو کہتا کہ ضروری کام کر رہا ہوں ۔

فون کمپنیوں نے لوٹ مچا رکھی ہے۔ نت نئی سکیموں کا اعلان کرکے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ دس پچا س کے بیلنس کے لیے ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ اس “کچھ بھی” کے لیے ہم نے اپنے کردار اور اپنی اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم شرمندہ نہیں ہیں بلکہ روز بروز اس دلدل میں پھسے جا رہے ہیں ۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو موبائل کے استعمال کے فائدے اور نقصان سمجھائیں کیونکہ کوئی بھی چیز بری نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔

پاکستان کی معیشت اس وقت بدترین حالات سے دوچار ہے اور درآمداد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ درآمداد نے سارے بجٹ کو تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے بین الاقوامی منڈی میں ہمارے روپے کی قدر و قیمت کم ترین سطح پر آچکی ہے لیکن کسی کا دھیان غیر ملکی موبائل کمپنیوں کی طرف نہیں جاتا جو دونوں ہاتھوں سے لوگوں کو لوٹ رہی ہیں روز پیکیجز کا اعلان کرکے لوگوں کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے

” سب کہہ دو” کوئی راتوں رات امیر بننے کے خواب دیکھا رہا ہے اور ہمارے لوگ ہمارے لوگ اندھا دھندان ان کے دام میں پھنس رہے ہیں ہمارے بچے 10 اور 20 روپے کا بیلنس مانگنے لگے ہیں ان کو بھکا ری بنایا جارہا ہے لیکن کسی کا دھیان ادھر نہیں جاتا۔

لیکن کوئی ان کا آڈٹ کرنے والا نہیں اخبارات میں دیکھ لے چینلز پر دیکھ لے لوگوں کو نئے پیکیجز دیے جارہے ہیں کم سے کم ریٹ بتاکر کہاجا رہا ہےکے ساری ساری رات بات کرے یہ لوگ ہماری نسل کو کس طرف لے کے جا رہے ہیں

ہماری اخلاقی قدروں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں اگر ہمارے بچے ا نہیں کھیل تماشوں میں لگے رہیں گے تو دوسری صحت مند سرگرمیوں میں کیسے حصہ لیں گے جو ان کی تعلیم و تربیت میں مدد دیتی ہے ہماری نسلوں کا تو اللہ ہی مالک ہے

ان ساری چیزوں کو دیکھ کر دل دکھتا ہے اور یہ سب اس موبائل کے غلط استعمال کی وجہ سے ہو رہا ہے لوگ اسے میجک باکس کو کہتے ہیں لیکن میں اسے ایڈٹ باکس کہوں گی اسی موبائل کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہےڈرائیونگ کے دوران موبائل پر پابندی لگا رکھی ہے۔
لیکن وہ پاکستانی ہی نہیں جو کسی بھی قانون کی پابندی کرے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی صاحب کار ایسے چلا رہے ہوتے ہیں
جیسے مال روڈ پر چہل قدمی کر رہے ہیں تو فورا سمجھ جائیں کہ وہ موبائل پر بات کر رہے ہیں۔

آپ ان کو کچھ نہیں کہہ سکتے بلکہ خود آپ کو ان سے بچ کر نکلنا ہے۔کیونکہ وہ تو اپنی دھن میں مست ہیں اور تو اور سائیکل سوار بھی اسی کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی سائیکل ادھر ادھر دوڑ رہی ہے مگر ان کو کیا پروا ہو مزے سے باتیں کرتے جارہے ہیں لوگ کہتے ہیں سائنس کی ایجادات نے انسان کی زندگی آسان کردی ہے لیکن کچھ چیزوں نے ہمارے معاشرتی سماجی قدروں کو بہت نقصان بھی پہنچایا ہے۔مثلا ٹی وی نےہمیں ہمارے گھروں تک محدود کردیا آفس کا میل جول کم ہوگیا اور چینلز کی بھرمار نے رہی سہی کسر پوری کردی اخلاقیات کا جنازہ نکل گیا موبائل فون نے تو نئی نسل کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس کو ضرورت ہو وہی استعمال کرے لیکن ہمارے لوگوں نے اسے کھیل تماشہ بنا دیا ہے اس کی افادیت کو بھول کر اس کی خرابیوں کو اپنا لیا اس کے بیجا استعمال ہمارے بچوں کو ہم سے دور کر دیا کہ ان کا سارا وقت اس کے ساتھ گزرتا ہے ۔

میں اپنی نسل خاص طور پر لڑکیوں سے گزارش کرتی ہوں کہ اس کو اپنی بے راہ روی کا ذریعہ نہ بننے دیں آ نچل پر لگا داغ دھل سکتا ہے لیکن کردار پر لگے داغ مٹائے نہیں جا سکتے اس لیے اگر آپ نے آپ کو پاکیزہ رکہیں تو ایک خوبصورت زندگی آپ کی منتظر ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں