0

امجد صابری کی برسی : تحریر: مصباح صدیق

اسلامى کیلینڈر کے مطابق امجد صابری کو ہم سے بچھڑے 4 برس بیت گئے ہیں۔ امجد صابری غلام فرید صابری کے فرزند اور مقبول احمد صابری کے بھتیجے تھے۔ صابری برادران نے قوالی کو صحیح معنوں میں پاکستان میں متعارف کروایا ۔ امجد صاحب نے کم عمری میں ہی والد کی شاگردی اختیار کرلی تھی اور والد کے انتقال کے بعد ان کے نام کو پوری دنیا میں روشن کیا ۔نہ صرف والد کے نام بلکہ وطن عزیز کے نام کو بھی روشن کیا۔ صابرى برادران کے بعد امجد صابری کی قوالی بهى لوگ سنتے اور سر دهنتے تهے۔ اردو زبان سے نابلد افراد بھی جھوم اٹهتے تھے۔

اپنے والد اور چچا کی گائی ہوئی معروف قوالیوں کو جب اُنہوں نے اپنے انداز میں پیش کیا تو یہ کلام جیسے امر ہو گیا۔ اِن قوالیوں میں ’تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم‘ ، ’بھر دو جھولی مری‘ اور میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا‘ جیسی قوالیاں شامل ہیں۔
انہوں نے قوالی کے طفیل ہزاروں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ جو لوگ ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتے، دینی معلومات کے لئے امجد سے رابطے میں رہتے۔
یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ امجد صابری کی انتقال کے بعد قوالی کی صنف یتیم ہوگئی۔

امجد ایک خوش اخلاق اور پیار کرنے والی شخصیت تھے۔ وہ بین الاقوامی سطح پر مقبول تھے۔امجد صابری نے امریکا، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں فن کا مظاہرہ کیا اور اپنے والد اور چچا کے انداز کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

امجد صابری کی نجی زندگی کی طرف دیکھا جائے تو وہ اپنی ماں کے بہت فرماں بردار بیٹے ،اپنی زوجہ سے بے پناہ پیار کرنے والے شوہر تھے اور وہ متعدد انٹرویوز میں اس پیار کا برملا اظہار بهى کرتے تھے ۔ بہت شفیق باپ تھے ۔
امجد صابری اپنی زمین سے جڑے رہنے والے انسان تھے۔ وہ کہتے تھے اپنے ملک جیسا کوئی ملک نہیں ہے، اپنے علاقے جیسا کوئی علاقہ نہیں ہے۔ وہ آخری دم تک اپنے آبائی گھر لیاقت آباد میں ہی رہائش پذیر رہے ۔

امجد صابری جیسے بے ضرر انسان کو قتل کر دیا گیا ۔وه رمضان ٹرانسمیشن کی رونق تھے۔ جب رمضان آتا ہے تو امجد صابری کى یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔روزے کی حالت میں گھر سے نکلے اور بے رحمی سے قتل کر دیے گئے ۔

امجد صابری جیسے بیٹے مائیں صدیوں میں جنم دیتى ہیں،ان کى شخصیت میں غرور کا شاۂبہ تک نہ تها۔عجزو انکسارى کا پیکر تهے۔
امجدصابری کانام ہمیشہ تاریخ میں سنہروں حروف میں لکھاجائےگا اورقاتلوں کےناپاک عزائم کےباوجودان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئے گی۔

میں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا
امداد مری کرنے
آجانا رسول اللہ
روشن میری تربت کو، للہ ذرا کرنا
جب وقت نزع آئے
دیدار عطا کرنا
یہ محض اتفاق تھا یا وہ جانتے تھے کہ اب وقت نزع آن پہنچا ہے، معلوم نہیں۔ بہرحال ان کا آخری کلام بھی صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

امجد صابری کی برسی : تحریر: مصباح صدیق” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں